افغان طالبان دوحہ معاہدے کی تینوں شرائط پر عملدرآمد میں یکسر ناکام کیوں؟

افغانستان میں طالبان حکومت کے 5 سال مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والی ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ نے طالبان حکومت کی سیاسی، سماجی، معاشی اور سکیورٹی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ تحقیقاتی ادارے ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 15 اگست 2021 سے اب تک طالبان حکومت 2020 کے دوحہ معاہدے کی تین بنیادی شرائط پر مؤثر عملدرآمد نہیں کر سکی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت رہا کیے گئے تقریباً 5 ہزار طالبان قیدیوں میں سے بڑی تعداد دوبارہ جنگ میں شامل ہوگئی، افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بجائے طالبان نے عسکری کارروائی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا، جبکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ افغانستان میں 20 سے زائد عسکریت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں اور تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو مختلف گروہوں کے ساتھ موجود ہیں۔ رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی تعداد 6 سے ساڑھے 6 ہزار جنگجو بتائی گئی ہے، جبکہ 2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 300 سے زائد افغان شہری بھی ملوث پائے گئے۔ داعش خراسان اور القاعدہ سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے بھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو اپنی سرگرمیوں کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔

افغانستان کی داخلی صورتحال کا ایک اہم پہلو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سے متعلق پابندیاں بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے دور میں 11 لاکھ سے زائد لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں، جبکہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شرح کم ہو کر 21 فیصد رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے موجودہ صورتحال کو افغان معاشرے میں ایک اہم انسانی اور سماجی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے بارے میں بھی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق افغانستان میں موجود 547 میڈیا اداروں میں سے 219 بند ہو چکے ہیں، جبکہ صحافیوں کی تعداد 11 ہزار 857 سے کم ہو کر 4 ہزار 759 رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں ان اعداد و شمار کو افغانستان میں میڈیا کے بدلتے ہوئے ماحول کی عکاسی قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں افغانستان 180 ممالک میں سے 175 ویں نمبر پر ہے۔

معاشی محاذ پر بھی رپورٹ میں افغانستان کو مشکلات کا سامنا قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2021 سے اب تک افغان معیشت مجموعی طور پر 25 فیصد سکڑ چکی ہے، جبکہ بچوں اور خواتین میں غذائی قلت بھی بلند سطح پر موجود ہے اور تقریباً 49 لاکھ افراد اس سے متاثر ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے مختلف دھڑوں کے درمیان تجارت اور معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کی تقسیم پر اختلافات موجود ہیں، جو ملک کے معاشی اور انتظامی نظام کیلئے ایک اضافی چیلنج بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر طالبان حکومت کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران دنیا میں صرف روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ رپورٹ میں قطر میں طالبان کی طویل سفارتی موجودگی اور بین الاقوامی میڈیا پر سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم اس کے مطابق طالبان کی بنیادی فکری سمت اور شدت پسندانہ نظریات میں کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ میں موجودہ طالبان حکومت اور 1990 کی دہائی کے طالبان کے نظریاتی ڈھانچے کا تقابل کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں ادوار کی بنیادی سوچ میں نمایاں فرق نظر نہیں آتا۔ تاہم طالبان حکومت کی جانب سے اپنے طرز حکمرانی، سکیورٹی پالیسی اور داخلی انتظام کے حوالے سے مختلف مواقع پر اپنا مؤقف پیش کیا جاتا رہا ہے، اس لیے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مختلف فریقوں کی تشریحات بھی موجود ہیں۔

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی اس تحقیقاتی رپورٹ کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ طالبان حکومت اپنے قیام کے 5 سال بعد بھی افغان عوام کی بنیادی ضروریات، انسانی حقوق، معاشی استحکام اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق بڑے چیلنجز حل نہیں کر سکی۔ رپورٹ میں افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں، خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں، میڈیا کی صورتحال، معاشی مشکلات اور عالمی سطح پر محدود سفارتی قبولیت کو طالبان حکومت کے سامنے موجود اہم مسائل کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کا اثر صرف اس ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان، کی سکیورٹی اور علاقائی استحکام سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں دوحہ معاہدے کی شرائط، افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہوں اور طالبان حکومت کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر بحث آنے والے برسوں میں بھی خطے کی سیاست اور سلامتی کا اہم موضوع بنی رہنے کا امکان ہے۔

Back to top button