حمزہ بن لادن زندہ ہے یا نہیں؟ القاعدہ کی نئی ویڈیو نے پرانا سوال پھر اٹھا دیا

11 ستمبر 2001 کے امریکہ پر حملوں کو 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر القاعدہ کے میڈیا ونگ ’السحاب‘ کی جانب سے جاری کی گئی نئی 52 منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو نے ایک بار پھر تنظیم کی قیادت، اس کے پروپیگنڈا نظام اور خصوصاً اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں حمزہ بن لادن کو پہلی مرتبہ واضح طور پر کیمرے کے سامنے براہ راست پیغام دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، حالانکہ امریکہ 2019 میں ان کی ہلاکت کا اعلان کرچکا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے کبھی ان کی ہلاکت کا وقت، مقام یا حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے، جبکہ القاعدہ نے بھی ان کی موت کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی اور نہ ہی واضح تردید۔

’11 ستمبر حملوں کے ایک چوتھائی صدی بعد‘ کے عنوان سے جاری کی گئی یہ ویڈیو ’السحاب‘ کی جانب سے آن لائن جہادی حلقوں میں استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز پر نشر کی گئی۔ اسے ’حصہ اول‘ قرار دیا گیا ہے اور اختتام پر مزید مواد جاری کیے جانے کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں 11 ستمبر کے حملوں کے اثرات، القاعدہ کے دیرینہ بیانیے اور عالمی جہادی تحریک کے بارے میں تنظیم کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری سمیت القاعدہ کے سابق رہنماؤں کے پرانے بیانات اور آرکائیو فوٹیج بھی شامل ہیں۔

اس ویڈیو کا سب سے غیر معمولی پہلو حمزہ بن لادن کی موجودگی ہے۔ 2015 سے 2018 کے دوران حمزہ القاعدہ کی میڈیا سرگرمیوں میں نمایاں رہے اور تنظیم کی جانب سے مغرب اور دیگر اہداف کے خلاف دھمکی آمیز پیغامات جاری کرتے رہے، تاہم اس دور میں وہ عموماً آڈیو یا تحریری پیغامات کے ذریعے سامنے آتے تھے۔ بعض ویڈیوز میں ان کی بچپن کی فوٹیج بھی استعمال کی گئی، لیکن نئی دستاویزی طرز کی ویڈیو میں انہیں واضح طور پر کیمرے کے سامنے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں حمزہ بن لادن تین مختلف مختصر کلپس میں دکھائی دیتے ہیں جو بظاہر ایک ہی ریکارڈنگ سے لیے گئے ہیں۔ ان کے بیانات میں عمومی جہادی بیانیہ اور تنظیمی اپیلیں شامل ہیں، لیکن کسی ایسے مخصوص واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر یہ تعین کیا جاسکے کہ یہ فوٹیج کب ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ویڈیو کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں کہ حمزہ بن لادن کب یہ پیغام ریکارڈ کرا رہے تھے یا القاعدہ انہیں زندہ سمجھتی ہے یا نہیں۔

ویڈیو کی تدوین نے البتہ اس ابہام کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حمزہ کے ایک کلپ کے ساتھ حالیہ برسوں کے واقعات کی تصاویر اور مناظر دکھائے گئے ہیں، جن میں 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حماس کے حملے اور اگست 2021 میں طالبان کی افغانستان میں واپسی کے مناظر شامل ہیں۔ حمزہ خود ان واقعات کا براہ راست حوالہ نہیں دیتے، تاہم ویڈیو میں ان واقعات کو ان کے پیغام کے ساتھ جوڑنے سے یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ ریکارڈنگ نسبتاً حالیہ ہے۔ اس کے باوجود ویڈیو اس بات کا قطعی ثبوت فراہم نہیں کرتی کہ حمزہ بن لادن ان واقعات کے بعد زندہ تھے۔

ایک اور قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ویڈیو میں حمزہ کو صرف ’مجاہد شیخ حمزہ بن لادن‘ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ ان کے نام کے ساتھ وہ مخصوص دعائیہ الفاظ بھی استعمال نہیں کیے گئے جو بعض جہادی حلقوں میں کسی شخصیت کے زندہ یا فوت ہونے کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ ابہام دانستہ ہوسکتا ہے، کیونکہ القاعدہ نے ماضی میں بھی اپنی مرکزی قیادت کے بعض ارکان کی موت کے بارے میں واضح اعلان سے گریز کیا ہے۔

امریکہ نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ حمزہ بن لادن افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران مارے گئے، تاہم ان کی ہلاکت کی تفصیلات کبھی مکمل طور پر منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ دوسری جانب القاعدہ نے امریکی اعلان کے بعد بھی ان کی موت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ یہی خلا وقتاً فوقتاً ان کے زندہ ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیتا رہا ہے۔

حمزہ بن لادن کی نئی فوٹیج کے بارے میں ماہرین کی آرا بھی مختلف ہیں۔ بعض مبصرین اسے اس امکان سے جوڑتے ہیں کہ حمزہ شاید زندہ ہوں، جبکہ بعض کے مطابق یہ فوٹیج دراصل القاعدہ کی جانب سے ان کی ہلاکت کی غیر رسمی تصدیق ہوسکتی ہے۔ سویڈن میں مقیم محقق عبدالسید، جو القاعدہ اور جہادی تنظیموں کے میڈیا اور پروپیگنڈا پر تحقیق کرتے ہیں، کے مطابق القاعدہ نے ماضی میں بھی اپنے ہلاک ہونے والے اہم کمانڈروں کی ایسی پرانی یا پہلے کبھی منظر عام پر نہ آنے والی فوٹیج بعد میں جاری کی ہے۔ ان کے نزدیک حمزہ کی واضح فوٹیج کو اسی روایت کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے، کیونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو تنظیم ان کی شناخت اور مقام ظاہر کرنے سے گریز کرسکتی تھی۔

اس کے برعکس سکیورٹی تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق حمزہ بن لادن کے بارے میں دستیاب شواہد ان کی ہلاکت کی جانب زیادہ اشارہ کرتے ہیں، اگرچہ وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ القاعدہ نے اب تک ان کی موت کی کھلی تصدیق نہیں کی۔ ان کے مطابق تنظیم شاید جان بوجھ کر یہ ابہام برقرار رکھنا چاہتی ہے، تاکہ حمزہ کی شخصیت کو اپنے پروپیگنڈا میں علامتی طور پر استعمال کیا جاسکے۔

یہی پہلو اس ویڈیو کے ممکنہ مقصد کو سمجھنے میں بھی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق حمزہ بن لادن صرف ایک سابق القاعدہ رہنما کے بیٹے نہیں بلکہ اسامہ بن لادن کے نام اور تنظیم کے تاریخی ورثے سے جڑی ایک علامتی شخصیت ہیں۔ اس لیے انہیں ویڈیو میں سامنے لاکر القاعدہ اپنی نئی نسل کے ممکنہ حامیوں کو اپنے بانی کے نظریاتی ورثے سے جوڑنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

ٹیپو محسود کے مطابق شدت پسند تنظیمیں اپنے کارکنوں اور حامیوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کی قیادت بھی قربانی دیتی ہے اور محض عام کارکنوں کو خطرے میں نہیں ڈالتی۔ حمزہ بن لادن کی فوٹیج کو بھی اسی قسم کے جذباتی اور تنظیمی پیغام کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ ماہرین کی تشریح ہے اور ویڈیو خود اس مقصد کی کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کرتی۔

اس ویڈیو میں صرف حمزہ بن لادن ہی توجہ کا مرکز نہیں بلکہ القاعدہ کے مبینہ موجودہ سربراہ سیف العدل کا کردار بھی اہم ہے۔ سیف العدل کے بارے میں جہادی امور کے مبصرین، تجزیہ کاروں اور بعض انٹیلیجنس اداروں کے درمیان یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ایمن الظواہری کی 2022 میں مبینہ ہلاکت کے بعد وہ تنظیم کے عملاً سربراہ ہوسکتے ہیں۔ تاہم القاعدہ نے نہ تو الظواہری کی موت کی باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی سیف العدل کو باضابطہ طور پر نیا امیر قرار دیا ہے۔

نئی ویڈیو میں سیف العدل کی کوئی نئی تصویر یا ویڈیو سامنے نہیں آتی۔ ان کا ذکر صرف ’شیخ‘ کے طور پر کیا گیا ہے اور ان کی تحریروں سے اقتباسات شامل کیے گئے ہیں۔ اس انداز سے بھی تنظیم کی مرکزی قیادت کے حوالے سے اس کی محتاط حکمت عملی نظر آتی ہے۔ سیف العدل کی مبینہ موجودگی اور مقام کے بارے میں کئی برس سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں، لیکن نئی ویڈیو ان سوالات کا کوئی واضح جواب فراہم نہیں کرتی۔

بعض ماہرین کے مطابق حمزہ بن لادن اور سیف العدل کو ایک ہی ویڈیو کے بیانیے میں شامل کرنا القاعدہ کے لیے علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ سیف العدل کو تنظیم کے عسکری اور حکمت عملی کے پہلو کی نمائندگی کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حمزہ بن لادن اسامہ بن لادن کے خاندان اور تاریخی ورثے کی علامت بن سکتے ہیں۔ اس طرح تنظیم ایک طرف اپنی موجودہ نظریاتی اور عسکری سمت کو نمایاں کرتی ہے اور دوسری طرف اپنے بانی سے جڑی شناخت کو دوبارہ سامنے لاتی ہے۔

القاعدہ کی اس حکمت عملی کا ایک اور پہلو 11 ستمبر حملوں کی 25ویں برسی کا انتخاب بھی ہے۔ تنظیم نے ایک ایسے وقت میں اپنی طویل ویڈیو جاری کی ہے جب 2001 کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی نسل کا ایک بڑا حصہ اب بالغ ہوچکا ہے اور ممکنہ طور پر اس واقعے کو براہ راست یاد نہیں رکھتا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کا تاریخی مواد القاعدہ کے لیے اپنے پرانے بیانیے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

تاہم یہ بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برسوں میں آن لائن جہادی ماحول میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق القاعدہ کے حامیوں کی آن لائن سرگرمی اور تعداد میں کمی آئی ہے اور تنظیم کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے نئے انداز کے میڈیا مواد پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس تناظر میں طویل دستاویزی ویڈیوز، پرانی قیادت کی فوٹیج اور تاریخی شخصیات کو دوبارہ پیش کرنا تنظیم کے لیے اپنی شناخت اور موجودگی برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

حمزہ بن لادن کی اس نئی فوٹیج کا سب سے اہم نتیجہ فی الحال یہی ہے کہ اس نے ان کی موت سے متعلق برسوں پرانے سوال کو دوبارہ زندہ کردیا ہے، لیکن ویڈیو اپنے طور پر یہ ثابت نہیں کرتی کہ وہ آج زندہ ہیں۔ اسی طرح یہ بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ فوٹیج ان کی موت سے قبل ریکارڈ ہوئی تھی۔ ریکارڈنگ کی تاریخ، مقام اور حالات کے بارے میں قابل اعتماد آزادانہ شواہد سامنے آنے تک دونوں امکانات پر قیاس آرائی جاری رہ سکتی ہے۔

زیادہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ویڈیو القاعدہ کی میڈیا حکمت عملی، اس کے تاریخی ورثے اور موجودہ قیادت کے بارے میں ابہام کو نمایاں کرتی ہے۔ حمزہ بن لادن کی موجودگی نے تنظیم کے بانی اسامہ بن لادن کی میراث کو دوبارہ مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جبکہ سیف العدل کے حوالے سے محتاط اندازِ پیشکش یہ ظاہر کرتا ہے کہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کے بارے میں اب بھی کئی سوالات واضح جواب کے منتظر ہیں۔ اس لیے اس ویڈیو کو کسی ایک شخصیت کے زندہ یا مردہ ہونے کے قطعی ثبوت کے بجائے القاعدہ کے پروپیگنڈا اور پیغام رسانی کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھنا زیادہ محتاط طرزِ تجزیہ ہوگا۔

Back to top button