محسن نقوی کو انیل کپور کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

جس طرح بالی ووڈ کی مشہور فلم ”نائیک“ میں انیل کپور نے ایک دن کی چیف منسٹری سنبھال کر مختلف حکومتی محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کی بینڈ بجا دی تھی، بالکل اسی طرح پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی اور ان کی ٹیم نے ہر اس شخص کی زندگی اجیرن کر دی ہے جو عوام کی فلاح کی بجائے اپنی جیب بھرنے میں مصروف ہے۔ وقت کی اہمیت، دیانتداری اور کرپشن سے پاک شفاف نظام کی بحالی محسن نقوی اور انکی کابینہ کا موٹو ہے۔ بھارتی فلم ”نائیک“ میں سی ایم کا کردار نبھانے والے امریش پوری کے کہنے پر انیل کپور، جو دراصل ایک صحافی ہیں، ایک دن کے لئے سی ایم کی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور تہلکہ مچا دیتے ہیں۔ محسن نقوی کو اگرچہ چند ماہ کے لئے پنجاب کی ” پگ“ پہنائی گئی لیکن ان کی اب تک کی کارکردگی پنجاب کے پچھلے کئی وزرائے اعلی سے بھی بہتر رہی ہے۔ وہ جس بھی فرد یا ادارے کو سیدھا کرنے کی ٹھان لیتے ہیں اسے راہ راست پر لا کر چھوڑتے ہیں۔

یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ علی الصبح اٹھ کر رات گئے تک نکمے حکومتی محکموں کو سدھارنے اور کام چور افسروں کو کام پر لگانے والے چیف منسٹر محسن نقوی نے اپنی انتھک محنت سے تمام بڑی جماعتوں کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے کیونکہ مستقبل میں ان کے وزرا اعلی کی کارکردگی کا موازنہ نگران وزیراعلی سے ہوگا۔یوں تو محسن نقوی کی ٹیم میں کئی قابل وزرا شامل ہیں جو انکی سپیڈ کو پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وزیر اطلاعات عامر میر غیر معمولی وژن رکھنے کی وجہ سے ان سب میں قدرے نمایاں ہیں۔ عامر میر بھی محسن نقوی کی طرح اپنی انتھک محنت اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے مشکل سے مشکل ترین ٹاسک بھی آسانی سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صحت، ماحولیات، تعلیم، خواتین، زراعت، ایل ڈی اے، ہاؤسنگ، پولیس، قانون، انصاف، سیاحت، انٹرٹینمنٹ، ادب، انڈسٹری، کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں محسن نقوی اور ان کی ٹیم نے ڈیلیور نہیں کیا۔ اپنے مختصر دور حکومت میں انھوں نے دن رات کی تخصیص کئے بغیر پنجاب بھر کے کئی طوفانی دورے کئے۔ مہنگائی کا طوفان ہو، سیلاب زدگان کے مسائل ہوں، پولیس گردی ہو، ہسپتالوں کی حالت زار ہو، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہوں، تعلیمی بندشیں ہوں، مظلوموں کی آہیں اور معصوموں کی سسکیاں ہوں۔۔وہ ہر ایک پر نظر رکھتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ ہر بات کی خبر رکھتے ہیں اور وہیں موقع پر ہی سسٹم کو اپ ڈیٹ کر دیتے ہیں۔ ان کے کام کی سپیڈ کو دیکھتے ہوئے سابق چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف المعروف شہباز سپیڈ کو بھی اعتراف کرنا پڑا ہے کہ اب اس ٹائٹل پر ان کا کوئی حق نہیں اورمحسن نقوی انھیں کئی میل پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

ایک طرف اگر نقوی اداروں کا گند صاف کر رہے ہیں بلکہ انیل کپور سٹائل میں ان کی ”دھلائی“ کر رہے ہیں تو دوسری طرف کرپشن، بے ایمانی، بدعنوانی، کام چوری اور ناانصافی کے خلاف عامر میر کی دھواں دھار بیٹنگ نے بھی انیل کپور کی یاد تازہ کر دی ہے۔۔زیادہ دن نہیں گزرےمحسن نقوی نے تھانہ مزنگ کا دورہ کیا جہاں ان کے استفسار پر ایک موٹرسائیکل سوار غریب لڑکے نے بتایا کہ فلاں کانسٹبل نے رشوت لینے کے بعد اس کی جاں بخشی کی ہے، جس پر محسن نقوی نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور نہ صرف متعلقہ کانسٹبل کو موقع پر گرفتار کروایا بلکہ اس لڑکے کے پیسے بھی واپس دلوائے۔ اسی طرح عامر میر کی طرف سے لاہور کے معروف ثقافتی مرکز الحمرا میں ایک سٹیج ڈرامے کے دوران فحش ڈانس اور غیر اخلاقی حرکات پر سخت ترین ایکشن کی بیرون ملک بھی خوب چرچا ہوئی۔ عامر میر نے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے ذمہ داران کے خلاف بھی گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ وہ اب تک کئی افسران کو معطل یا بلیک لسٹ کر چکے ہیں۔

اس بات میں قطعی کوئی مبالغہ نہیں کہ اس وقت پنجاب کے متعدد محکموں کے کرتا دھرتا اپنی نوکریاں حلال کرنے کے چکر میں ہیں، یعنی ایک عرصہ بعد مظلوم اور بے بس عوام کی شنوائی اچھا شگون تصور کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ نگران حکومت جس طرح چوبیس گھنٹے متحرک اور چوکس رہتی ہے اور آنے والی حکومتوں کے لئے اس نے جو ”مائل سٹون“ سیٹ کیا ہے، کیا آنے والے دنوں میں عوام کے حقیقی لیڈر اپنے آرام اور عیاشیوں کو تیاگ کر اس کھٹن راستے کو طے کر پائیں گے؟؟

ورلڈکپ کے ہر میچ میں ٹیم کو پرفارم کرنا ہوگا

Back to top button