چودھری شجاعت کی ق لیگ چودھری سرور کے حوالے؟

اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھی جانے والی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی صدارت سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی جگہ عمران خان دور کے سابق گورنر چودھری محمد سرور کے حوالے کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا، چودھری محمد سرور کی مسلم لیگ ق میں شمولیت اور ان کو مرکزی عہدہ ملنے کا اعلان اتوار کے روز متوقع ہے . بتایا گیا ہے کہ سابق وزیرا علٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی مسلم لیگ ق چھوڑ کر اپنے دھڑے سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی جماعت سمجھی جانے والی پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم ) کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ سر پر کھڑے عام انتخابات تک پارٹی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔
اس سلسلے میں مختلف تجاویز اور آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے اور آئندہ چند روز میں بڑی پیش رفت کے توقع ظاہر کی جا رہی ہے، سامنے آنے والی خبروں کے مطابق عام انتخابات سے قبل نئی صف بندیاں شروع ہوگئی ہیں ، ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے چوہدری برادران میں سے سیاسی طور پر متحرک اور زیادہ فعال بھائی چوہدری پرویزالٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کی ایما اور دباؤ پر چوہدری شجاعت حسین کا دھائیوں پر محیط ساتھ چھوڑ کر عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں سیاسی حلقوں کا خیال ہے پرویز الٰہی کے عمران خان سے ہاتھ ملا نے کے بعد مسلم لیگ ق کو شدید دھچکا پہنچا ہے جس سے وسطی پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کو بھی نقصان ہوا ہے۔
دوسری طرف عمران خان جو آج کل اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کر رہے ہیں وہ اس ریجن میں مضبوط ہو گئے ہیں کیونکہ پرویز الٰہی اپنے ساتھ دس کے قریب اراکین اسمبلی بھی مسلم لیگ ق سے توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کروا چکے ہیں اور مزید سیاسی قوت بڑھانے کے لئے اپنے سیاسی داؤ پیچ بھی استعمال کر رہے ہیں .اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے فوری سیاسی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاکہ کم از کم پنجاب میں عمران خان اور پرویز الٰہی کے بڑھتی سیاسی قوت کو روکا جاسکے اس ضمن میں سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور سمیت کئی شخصیات کی مسلم لیگ ق میں شمولیت کیلئے ہوم ورک مکمل کرلیا گیا ہے۔
چوہدری شجاعت حسین اس وقت مسلم ق کے مرکزی صدر ہیں تاہم اپنی بزرگی اور مستقل بیماری کے کی وجہ سے وہ متحرک سیاسی کردار ادا نہیں کر سکتے جو موجودہ طرز سیاست خاص طور پر الیکشن مہم میں درکار ہے چناچہ پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں گورنر پنجاب کے عہدے پر رہنے والے چوہدری سرور کو مسلم لیگ ق کی صدارت دئیے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ چودھری شجاعت حسین ناسازی طبیعت کے باعث ق لیگ کے سرپرست اعلیٰ ہونگے۔
ذرائع کے مطابق چوہدری سرور کی چوہدری شجاعت سے کئی ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں، چوہدری سرور سمیت بعض شخصیات آئندہ چند روز میں ق لیگ کا حصہ بنیں گی، اسٹیبلشمنٹ کے ہی قریب سمجھے جانے والے عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین کو بھی ق لیگ میں شمولیت کی پیش کش کی گئی ہے تاہم دونوں نے واضح جواب نہیں دیا مگر حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے ، مسلم لیگ ق میں شمولیت کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے ناراض اراکین سے بھی رابطے جاری ہیں۔ دوسری جانب سابق گورنر پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ چوہدری سرور ق لیگ میں شمولیت کا باضابطہ اعلان اتوار کو کریں گے۔
اس سے قبل سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نےایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے کے دورے پر اسکاٹ لینڈ آیا تھا، یہاں بہت سے دوستوں کے ساتھ سیاسی مشاورت بھی کی، لوگوں نے مشورہ دیا کہ ایسی پارٹی میں جاؤں جو مصالحتی کردار ادا کرے۔
چوہدری سرور نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنے کیلئے پل کا کردار ادا کرنےکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں بھی مظاہرے ہوتے ہیں لیکن سڑکیں بند نہیں کی جاتیں، سیاستدان ملک کے وسیع تر مفاد میں سیاسی عدم استحکام کو ختم کریں۔
