اراکین اسمبلی کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور، چیف جسٹس کو خط لکھا جائیگا

قومی اسمبلی اراکین کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور، سپیکر نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا جس میں انہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات اور اس سلسلے میں فنڈز کے اجرا سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کے بارے میں ایوان کے ارکان کے جذبات اور خیالات سے آگاہ کیا جائے گا۔

راجا پرویز اشرف نے اس فیصلے کا اعلان ایوان سے رائے لینے کے بعد کیا جس کا اظہار اراکین نے ڈیسک بجا کر کیا جب کہ مسلم لیگ (ن) کے محمد برجیس طاہر سمیت متعدد قانون سازوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دیا۔قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فنڈز جاری کرنے کے لیے وزارت خزانہ کی سمری دوبارہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت ملک میں چند عناصر کی ضد کی وجہ سے تمام اداروں اور آئین کی ’ماں‘ پارلیمان کی بار بار توہین کی جارہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب میں کابینا میں تھا تو وزیر قانون اور اٹارنی جنرل وضاحت کر رہے تھے کہ اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے جو حالیہ فیصلہ آیا ہے اس میں کیا لکھا گیا ہے تو مجھے تعجب ہوا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ادارہ جس کو ہم سب کا تحفظ کرنا ہے، آئین کی حفاظت کرنی ہے وہ کیسے لکھ سکتا ہے کہ پارلیمان کے فیصلے کو بھول جائیں، عدالت کے اقلیتی فیصلے کو تسلیم کریں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اپنا اقلیتی فیصلہ اکثریتی ثابت کرکے ہم پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی ہفتوں سے آج بھی ملک میں جو تماشا چل رہا ہے اور آئینی بحران پیدا کیا گیا ہے، سپریم کورٹ اپنا اقلیتی فیصلہ اکثریتی ثابت کرکے ہم پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اقلیتی ججز کی طرف سے خیبرپختونخوا کے حد تک 90 روز کی شق تک عملدرآمد نہیں ہو رہا، جہاں تک 30 اپریل یا 14 مئی کا فیصلہ ہے تو سپریم کورٹ کے ججز نے بھی 90 روز کی مدت کو کھینچا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ جو کوشش کی جارہی ہے کہ ہم آئین کے خلاف کوئی قدم اٹھانا چاہتے ہیں، لہٰذا پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ نا تو 90 روز اور نہ ہی کسی اور صورتحال میں ہم آئین کی خلاف ورزی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کا کام ہے کہ وہ آئین پر عملدرآمد کرے، ان کا یہ کام نہیں کہ ہمارے آئین میں تبدیلیاں لائیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اس آئین کو بنایا تاکہ وفاق کو جوڑیں اور تمام صوبوں کو اپنے حقوق دلائیں اور تمام اداروں کی عزت اور خیال رکھا جائے۔وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ ہمیں فنڈز جاری کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے وہ غیر آئینی کام ہے، میں ایوان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں ہماری رہنمائی کرے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت جاری ہے، اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن، حدیث، نعت اور قومی ترانے سے کیا گیا۔اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عام انتخابات 2023 کے لیے رواں سال کے بجٹ میں مختص کی گئی رقم صرف 5 ارب روپے تھی، گزشتہ چھ سات ماہ کے دوران الیکشن کمیشن پاکستان کے ساتھ جو بات چیت ہوئی، اس میں اس نے عام انتخابات کے لیے 54 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ جب وزارت خزانہ کی جانب سے الیکشن کمیشن سے بات کی گئی تو کمی پیشی کے بعد 47.4 ارب کا حتمی فیگر طے ہوا، اس کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کردی گئیں، میں اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ 63 اے کے تحت آئین کو دوبارہ لکھا گیا، یہ اس کا نتیجہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر 63 اے کو ری رائٹ نہ کیا جاتا تو پنجاب میں حکومت چل رہی تھی، وہ اپنی مدت پوری کرتی اور پھر ملک بھر میں ایک ساتھ الیکشن ہوتے، اس پیش رفت سے کافی خرابیاں پیدا ہوئیں، 63 اے کی نئی تشریح پر آج تک دنیا حیران ہے۔

انہوں نے کہا دو اسمبلیوں کی تحلیل ملک میں افرا تفری پھیلانے کی کوشش تھی، اس کے بعد الیکشن کمیشن سے پوچھا گیا کہ دو صوبوں میں الگ الیکشن سے کتنے اضافی اخراجات ہوں گے، اس پر انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے 14.4 ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سلسے میں جب ایک پٹیشن دائر ہوئی، 4 اپریل کو ایک حکم آیا، اس ایوان نے 6 اپریل کوایک قرار داد پاس کی جس کے مطابق کہا گیا کہ ہم یہ ادائیگی نہیں کریں گے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت، وزارت خزانہ پابند ہو گئی کہ ہم یہ ادائیگی نہیں کریں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوچ بچار کے بعد ہم آئین کے تحت اس کو کابینہ میں لے گئے، کابینہ نے اس کی منظوری دی، پھر ہم اس کو اسمبلی میں آئے، ایوان نے کہا کہ ہم اس کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی نہیں مانتے، یہ تو چار تین کا فیصلہ ہے، ایوان اس کو نہیں مانتا، اس نے اس منی بل کو مسترد کردیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے بعد ایک اور حکم اْیا جس میں کہا گیا کہ آپ یہ ادائیگی کریں، اسٹیٹ بینک یہ ادائیگی کرے، اسٹیٹ بینک پیسے جاری نہیں کرسکتا، اس کا ٹرسٹی اور آپریٹر وزارت خزانہ ہے، اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس نے 21 ارب روپے مختص کردیے ہیں، لیکن بینک کے پاس پیسے جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ منی بل مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وزیراعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل نہیں ہے، اس ایوان نے سوچ سمجھ کر فنڈز کے اجرا کو مسترد کیا، ایوان نے ادائیگی کو دوٹوک انداز میں روک دیا، یہ ایوان 3 مرتبہ اپنا فیصلہ سنا چکا۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ ملک میں الیکشن 90 روز میں نہی ہو رہے، پہلے بھی الیکشن تارخیر کا شکار ہوچکے ہیں اور ابھی بھی 90 روز کا وقت گزر چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مردم شماری پر 35 ارب روپے خرچ کر رہا ہے، 2017 میں بھی اس پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، جو تماشے ہم اس وقت کر رہے ہیں تو کیا پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے، قوم کا وقت ضائع کر رہے ہیں، پاکستان اس وقت ایک بد ترین معاشی بحران سے نکل رہا ہے جس میں اسے اس حکومت نے نہیں گزشتہ حکومت نے ڈالا، ہماری حکومت نے اس ملک کو دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بنادیا تھا جو اب 47ویں معیشت بن چکا ہے جو رونے کا مقام ہے۔

انہوں نے کہا اگر الیکشن ایک دن میں ہوں، الیکشن ایک دن میں ہو سکتے ہیں، کدھر ہے حب الوطنی اور ملک کی فکر، کیا ہوجائے گا اگر الیکشن تین چار مہینے بعد ہوجائیں گے ، الیکشن اکتوبر میں ہونے دیں، کیا پریشانی ہے، اس ملک کو تباہ کرنے والوں کو بے نقاب کرنا چاہیے، یہ چند بندوں کا کھیل تھا جنہوں نے پاناما کا ڈرامہ کیا، نواز شریف کو نا اہل کیا، مجھ پر ٹیکس فائل نہ کرنے کا جھوٹا الزام لگایا، ہم کوشش کر رہے ہیں، دنیا پریشان ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کیوں نہیں کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ میں کبھی کسی غیر آئینی کام کا مشورہ نہیں دوں گا، ہمیں جو کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے وہ غیر آئینی کام ہے، آپ یہ فرض نہیں کرسکتے کہ آپ جائیں، فنڈز جاری کردیں، ایوان میں بیٹھے لوگ کوئی غلام ہیں جو جون میں اس کی منظوری دے دیں گے، میں ایوان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں ہماری رہنمائی کرے۔قبل ازیں اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیرر تارڑ نے کہا کہ پنجاب انتخابات کیس میں 7 ممبر بینچ میں سے 4 ججز نے پٹیشن خارج کردی، معاملہ اس ایوان میں بھی زیر بحث آیا، ایوان نے ایک قرارداد میں کہا کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ تھا، یہ قانونی اور آئینی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک سیاسی مقدمہ بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کو جس طرح سے ڈیل کیا گیا، اس پر بھی یہاں تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ایوان 4 ججز کے فیصلے کو مانتا ہے، ایوان نے وفاقی حکومت کو بھی یہ ہدایت دی کہ وہ اقلیتی فیصلے میں جاری ہدایت پر عمل کے پابند نہیں ہوں گے، جب بھی کوئی معاملہ ہوگا تو اس معزز ایوان سے رائے لی جائے گی۔

وزیر قانون نے کہا کہ بعد سماعتوں میں حکم دیا گیا کہ الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کیے جائیں، کابینہ میں جب یہ حکم آیا تو اس نے وزارت خزانہ کی سفارش پر اس ایوان میں ایک بل پیش کیا جسے ایوان نے مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ دوبارہ جب معاملہ سپریم کورٹ کو رپورٹ کیا گیا تو انہوں نے اسٹیٹ بینک کو حکم دیا کہ وہ 21 ارب روپے کے فنڈز جاری کرے، وزارت خزانہ سے کہا گیا کہ وہ اس کی منظوری بعد میں قومی اسمبلی سے لے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئین کا مطالعہ کریں تو یہ بات درج ہے کہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز میں سے چارجڈ ایکسپینس کے علاوہ ہر رقم اس ایوان سے منظور کرانا ضروری ہے، ایوان اس بارے میں اپنی رائے دے چکا تھا، اس کے بعد دوبارہ سوچ بچار کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا گیا، آئین پاکستان کے تحت یہ اس ایوان کا کلی اختیار ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ایوان نے اس فنڈز کی ڈیمانڈ کو مسترد کیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ جب یہ صورتحال سپریم کورٹ کے سامنے رکھی گئی تو کہا گیا کہ لگ رہا ہے کہ ڈیمانڈ مسترد ہونے سے یہ لگ رہا ہے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، اس کے بعد انہوں نے دوبارہ حکم دیا کہ یہ کیسے ہوگیا، اس کو ٹھیک کیا جائے، اس کو دوبارہ منظور کیا جائے، مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان جو رقم جاری کرنے کا معاملہ ہے اس کو پس پشت ڈال کر فنڈز جاری کردیے جائیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ آج ایک بار پھر کابینہ میں اس معاملے پر غور کیا گیا، آئین کے مطابق فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز میں سے فنڈز کا اجرا قومی اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہوگی، ایوان پہلے اس کو مسترد کرچکا، ان حالات میں یہ اس معزز ایوان کا یہ آئینی اختیار ہے کہ وہ اس کو منظور یا مسترد کرے، اس لیے اس معاملے کو آج بھی غور و خوض کے لیے ایوان میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نےچیف جسٹس کو احتجاجی خط لکھ دیا

Back to top button