اسپیکر قومی اسمبلی نےچیف جسٹس کو احتجاجی خط لکھ دیا

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے سپریم کورٹ کے احکامات کے نتیجے میں ارکان اسمبلی کے درمیان پیدا ہونے والے تحفظات پر چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے تمام ججز کو خط لکھ دیا ہے۔5 صفحات پر مشتمل خط میں اسپیکر قومی اسمبلی نے معزز عدالت کے فاضل جج صاحبان کو پارلیمنٹ کی کارروائی سے آگاہ کیا ہے۔خط میں معزز عدالت کے بعض فیصلوں پر ارکان اسمبلی کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
قبل ازیں راجا پرویز اشرف کی جانب سے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے تمام ججز کے نام خط لکھنے کا فیصلہ سامنے آیا تھا، جس کے بعد اب یہ خط لکھ گیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں راجہ پرویز اشرف نے کہا تھا کہ ملک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے، ارکان کے جزبات اور احساسات سپریم کورٹ کے ججز تک پہنچاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ ارکان کے جذبات کی عکاسی کے لیے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو خط ارسال کروں گا جس میں ارکان اسمبلی کی ترجمانی کی جائے گی۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برجیس طاہر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں استحقاق کمیٹی میں کسی کو بھی بلانے کا اختیار ہے ، ہم نہیں چاہتے کہ ججوں کو تحریک استحقاق کمیٹی میں بلائیں، ہم نے سابق صدر فاروق لغاری کو بھی بلایا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارشات تھیں کہ فنڈز نہ دیئے جائیں، جب ایوان نے قرارداد اور قانون منظور کیا ہے، جو اس قرارداد یا قانون نہیں مانتا اسے توہین پارلیمنٹ کے تحت بلایا جاسکتا ہے۔برجیس طاہر نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھیں اور صورت حال سے آگاہ کریں یا پھر چیف جسٹس ہمیں کہہ دیں کہ وہ قانون سازی کو اڑا کر رکھ رہے ہیں اور ہم گھر چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد اور قانون منظور کرنے کا اختیار صرف اس ایوان کو ہے، اس تین رکنی بینچ نے توہین عدالت و پارلیمان دونوں کی ہیں ، ہمیں اس پارلیمان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔برجیس طاہر کی تقریر پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان سے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو خط لکھنے کے حوالے سے رائے طلب کی، جس پر اراکین نے ڈیسک بجا کر اپنی رائے دی اور پھر راجہ پرویز اشرف نے خط لکھنے کا اعلان کیا۔
