اتحادی حکومت ختم، نگران وزیر اعظم کون بنے گا؟

لیگی ہنماؤن کے دعوؤں کے برعکس تاحال حکومتی اتحادی جماعتوں نے نگران وزیر اعظم کے لیے ابھی تک کوئی نام شارٹ لسٹ نہیں کیا۔اس معاملے پر اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے اتحادی جماعتوں کی ٹیمیں اگلے ہفتے ملاقات کریں گی۔

وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت کی مدت 12 اگست کو پوری ہو رہی ہے جبکہ اکتوبر میں اگلے عام انتخابات متوقع ہیں۔آئین کے مطابق نگران وزیراعظم کا تقرر صدر، وزیراعظم اور سبکدوش ہونے والی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کرتے ہیں۔قانون میں یہ بھی درج ہے کہ اگر قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے پر اسے تحلیل کر دیا جاتا ہے تو اس کے 60 دن سے کم عرصے میں عام انتخابات کرائے جائیں اور اگر اسمبلی اپنی مدت سے پہلے ہی تحلیل ہو جائے تو تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔

عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹیکے رہنماؤں احسن اقبال اور فیصل کریم کنڈی نے نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کسی بھی نام کو حتمی شکل دینے کی تردید کی۔تاہم کچھ مقامی میڈیا اس کے برعکس ایسی رپورٹس شائع کر رہے ہیں۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا: ’ابھی تک کسی نام کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔‘احسن اقبال نگران وزیراعظم کے ناموں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی بنائی گئی کمیٹی کا بھی حصہ ہیں۔

پی پی پی کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے تصدیق کی کہ ان کی پارٹی کے ساتھ ابھی تک کوئی نام شیئر نہیں کیا گیا ہے اور اس معاملے پر غور کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کی کمیٹیاں اگلے ہفتے ملاقات کریں گی۔فیصل کریم کنڈی نے بتایا: ’امید ہے کہ ہماری کمیٹی پیر کو مسلم لیگ ن کی کمیٹی سے ملاقات کرے گی تاکہ ممکنہ ناموں پر بات چیت کی جا سکے۔ان کے بقول: ’ابھی تک ہمارے ساتھ کوئی نام شیئر نہیں کیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ ہفتے نگران وزیراعظم پر سیاسی سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔مسلم لیگ ن کی کمیٹی میں اقبال، اسحاق ڈار، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ محمد آصف شامل ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کی ٹیم میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ اور سید نوید قمر شامل ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ نگران وزیر اعظم کو ’غیر جانبدار‘ ہونا چاہیے، چاہے وہ سیاست دان ہو یا ٹیکنوکریٹ لیکن انہیں ملک بھر میں آزادانہ اور منصفانہ اور بروقت انتخابات کو یقینی بنانے کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مضبوط ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا: ’ایک شخص جو پہلے ہی کابینہ کا حصہ ہے یا کسی پارٹی میں عہدہ رکھتا ہو وہ موزوں امیدوار نہیں ہو سکتا۔‘ان کے بقول: ’نگران وزیر اعظم ایسا ہونا چاہیے جس پر اپوزیشن اور حکومت دونوں متفق ہوں اور ان کی غیر جانبداری پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔‘اسمبلی کی تحلیل پر انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ انتخابات وقت پر ہونے چاہییں چاہے یہ 60 دن یا 90 دن میں ہوں۔

دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ الائنس کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ ان کی جماعت ’جمعیت علمائے اسلام یا کسی دوسری اتحادی جماعت کے ساتھ اب تک کوئی نام شیئر نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس ’افواہوں‘ کے علاوہ کچھ نہیں۔حافظ حمد اللہ نے بتایا: ’کوئی ایک یا دو جماعتیں نگران وزیر اعظم کے نام کا فیصلہ نہیں کر سکتیں کیوں کہ اس کا فیصلہ تمام پی ڈی ایم کی تمام 13 جماعتیں اور دیگر اتحادی شراکت دار کریں گے۔‘حافظ حمد اللہ نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی نام تجویز کر سکتی ہے لیکن حتمی فیصلہ تمام اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’توقع ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی کمیٹی پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن سے اگلے چند دنوں میں ملاقات کرے گی تاکہ اس معاملے پر غور کیا جا سکے اور اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی حتمی تاریخ کا بھی فیصلہ کیا جا سکے۔‘

دوسری جانب  پی ڈی ایم حکومت کا آخری ہفتہ شروع ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ممکنہ طور پر8 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دیں گے‘ یہ بات اتحادی حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے مابین تقریباطے ہوگئی ہے۔نگران وزیر اعظم کی تقرری کے لیے حتمی فیصلہ بھی 8 اگست تک ہوجائے گا جبکہ سیاست میں جہانگیر ترین اور نواز شریف کی واپسی کا راستہ ستمبر میں کھلنے کا امکان ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم میں انتخابی ایڈجسٹمنٹ کے لیے تین چار آپشن پر بات چیت چل رہی ہے‘ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان انتخابی ایڈجسٹمنٹ میں سب سے بڑی مشکل دونوں کا روایتی حریف ہونا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) کی اب حکمت عملی ہوگی کہ وہ قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں مضبوط امیدوار لائے تاکہ اسے سیٹ ایڈجسٹمنت کے چکر میں نہ پڑنا پڑے البتہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے مابین جنوبی پنجاب میں ملتان سمیت متعدد حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہبوسکتی ہے۔اسی طرح لالہ موسی میں پیپلزپارٹی کے رہنماقمر زمان کائرہ کے حلقے میں بھی باہمی طور پر مشترکہ امیدوار لاجاسکتا ہے اور مسلم لیگ اس علاقے میں صوبائی حلقوں میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن دونوں جماعتوں کے مابین سیٹ ایڈ جسٹمنٹ پنجاب کے کسی دوسرے حلقے میں ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے‘ خاص طور پر سرگودھا اور منڈی بہاؤدین کے حلقوں میں مسلم لیگ(ن) مضبوط امیدوار لائے گی‘ مسلم لیگ(ن) کے ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ دوسری جماعتوں کے ساتھ قومی کی 10 اور صوبائی کی 15 سے20 نشستوں پر ہی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا سوچ رہی ہے

مسئلہ تب بھی حل نہیں ہو گا

 

Back to top button