ملک کو معاشی قوت بنانے کا عہد کیا ہے
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے ہم نے اپنے بزرگوں کی طرح پاکستان کو دنیا کی معاشی قوت بنانے کا عہد کیا ہے، ملک کو نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہےاور بحیثیت قوم آج ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔
کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ عالیشان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ ہم پاکستان کا 75واں یوم آزادی منا رہے ہیں، ہم دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا آج کے دن ہماری دعا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی جلد آزادی کی نعمت حاصل کر سکیں، حالیہ دنوں میں بلوچستان میں ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا، سیکڑوں لوگ زندگی کی بازی ہار گئے، لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے، اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور زخمی ہونے والوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔
شہباز شریف نےکہا تحریک آزادی پاکستان کی ولولہ انگیز داستان ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ جب قومیں کوئی مقصد طے کر لیتی ہیں تو پھر کوئی طاقت اس کو نصب العین کو حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی، مشکلات کے پہاڑ اور سمندر بھی اس مقصد کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
انکا کہناتھا شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار سے پھوٹنے والی روشنی کے بارے میں مخالفین مایوسیاں پھیلاتے تھے کہ پاکستان کبھی قائم نہیں ہوسکتا لیکن مشاہیر پاکستان کی عظت کو سلام ہے کہ جن کی جدوجہد، آہنی عزم نے مایوسیوں کو پاش پاش کردیا اور آج ہم ایک آزاد، خودمختار جمہوری ملک کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، برصغیر کے مسلمانوں نے سالہا سال سامراج کے ظلم و ستم کو برداشت کیا، ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے، انہوں نے خون کے دریا عبور کیے، شہادتیں دیں، تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو کھودیا لیکن اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب و کامران رہے۔
انہوں نے کہا یہ انہی عظیم قربانیوں کا انعام تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نظریاتی ملک عطا کیا اور ہمیں سامراج کی غلامی سے آزادی دلائی، ہم جہدوجہد آزادی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کی درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہیں، ان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو تقسیم ہند کے خونی دور کی نذر ہوگئیں، وطن عزیز کے قیام میں صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ اقلیتی برادری نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا، ہم ان کو بھی سلام پیش کرتے ہی، قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ آپ سب اس ملک میں اپنے مذہب کی ادائیگی میں پوری طرح آزاد ہیں، ان کا مطلب یہ تھا کہ مسلم اکثریت والے اس ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی حکمرانی ہوگی اور انہی رہنما اصولوں کے تحت ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔
عمران خان کا ‘بندہ ایماندار ہے’ کا بت کیسے پاش پاش ہوا؟
انکاکہنا تھا آج کا دن پاکستان کی سول سوسائٹی کی خدمات کے بھی اعتراف کا دن ہے، ہم عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ جیسی انسان دوست تمام شخصیات کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں، ذرائع ابلاغ، دانشوروں اور تمام اہل قلم کے کردار کا تذکرہ کیے بغیر پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی، وطن عزیز ایک مقدس امانت اور ایک مشن ہے، اس کا مرحلہ قیام پاکستان کی شکل میں مکمل ہوچکا لیکن اس مشن کا دوسرا مرحلہ تاحال نامکمل ہے، ایک مشن ہمارے اسلاف نے بے مثال قربانیوں اور جدوجہد سے مکمل کیا لیکن دوسرا مشن ہم نے پورا کرنا ہے، یہ دوسرا مشن ان مقاصد کو عملی تعبیر دینے کا ہے جو قیام پاکستان کی اصل بنیاد ہیں جن کا ذکر 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قرارداد پاکستان میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا جس ملک کو تقسیم کے وقت اس کے اپنے جائز وسائل سے بھی محروم کردیا گیا تھا وہ آج دنیا کی معزز اقوام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، صنعت و حرفت اور معیشت میں ترقی کر رہا ہے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ذہین اور قابل ترین افراد پیدا کر رہا ہے، پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی جوہری قوت ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا اور میرے قائد محمد نواز شریف نے اس کو پایۂ تکمیل پہنچایا، اس کارنامے سے وابستہ تمام افراد اور ادارے پاکستان کے محسن ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار نمایاں ہے، کھیل کے میدانوں میں ہمارے کھلاڑیوں نے پاکستان کا پرچم سربلند کیا ہے،ایسا نہیں ہے کہ ہم نے ترقی نہیں کی، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جس تسلسل، توجہ اور رفتار سے ہم نے اپنی منزل کو حاصل کرنا تھا اس میں ہم سے اجتماعی کوتاہیاں ہوئی ہیں، یہ مشن آج ہمارے سامنے ہے اور جسے ہم نے پورا کرنا ہے،بحیثیت قوم آج ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، اس کے لیے ہمیں نیشنل ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ماضی کی غلطیوں کی واضح نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کی مخلصانہ جدوجہد کا آغاز ہو۔
شہباز شریف نے کہااس طرح کی کوششوں کا نکتۂ آغاز میثاق معیشت بن سکتا ہے، اپنے بزرگوں کی طرح ہم نے پاکستان کو دنیا کی معاشی قوت بنانے کا عہد کیا ہے، ہمیں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کا ہدف قومی مقرر کرنا ہوگا، یہی مستقبل کی راہ ہے، اگر ہم جوہری قوت بن سکتے ہیں تو معاشی قوت کیوں نہیں بن سکتے؟اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں دن رات ایک کرنا ہوگا، دنیا پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان صلاحیت، جذبے اور تخلیقی قوتوں میں دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں۔
انکا کہنا تھا یہ آزادی بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، اس کی حفاظت کے لیے ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہائیں گے، مایوسیاں پھیلانے والوں کی پھر ہار ہوگی، ہم سب مل کر پاکستان کو معاشی ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کریں گے، بہادر مسلح افواج کے ساتھ مل کر دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا دیں گے،نوجوان ملک کا سرمایہ اور ہمارا مستقبل ہیں، نوجوانوں نے ہی اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے، نوجوانوں کو مواقع کی فراہمی ہماری ذمے داری ہے، ماضی می بھی نوجوان ہماری ترجیحات کا مرکز رہے ہیں اور آج بھی ہیں، ہمیں نوجوانوں کے ساتھ مل کر کشکول کو سمندر میں پھینکنے کے لیے دن رات محنت کو شعار بنانا ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا مجھے بے حد خوشی ہے کہ 68 سال بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے قومی ترانے کو دوبارہ ایک نئے آہنگ کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں ملک بھر کی مختلف ثقافتوں، رنگ و نسل اور پاکستانیوں کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے، یہ وفاق پاکستان کے خوبصورت گلدستے کی عکاسی ہے، میں اس قومی ترانے کو ریکارڈ کرنے والی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
