ڈیڈ لائن ختم، غیر قانونی افغانوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

وطن واپسی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد حکومت نے غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے افغان شہریوں کو جاری ہونے والی پچاس ہزار سے زائد موبائل فون سمز بلاک کرنے کے احکامات دینے کے ساتھ ساتھ افغانوں کی ملک بدری کو یقینی بنانے کیلئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی اختیارات بھی سونپ دئیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب پناہ گزین کیمپوں میں مقیم افراد کو اب خیموں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ رضاکارانہ طور پر پناہ گزین کیمپوں میں نہ آنے والے غیر قانونی مقیم افغانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز پشاور سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کریک ڈاؤن کے دوران افغان مہاجرین کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے جبکہ گرفتاریاں عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ کاروباری مراکز سیل اور گھروں پر چھاپوں بھی مارے جائیں گے جبکہ افغان مہاجرین کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں اور گھروں کی رجسٹریشن کی منسوخی کا عمل بھی شروع کیا جائیگا ،ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پشاور اور اس کے گردونواح میں آپریشن کیا جائیگا جہاں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کاروبار، رہائش اور تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں ،اطلاعات کے مطابق افغان مہاجرین کو دی گئی واپسی کی ڈیڈ لائن 31اگست کو ختم ہو چکی ہے تاہم بیشتر مہاجرین نے واپس جانے سے انکار کیا ہے اس صورتحال کے پیش نظر پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے گرفتاریوں، کاروباری مراکز کی بندش اور گھروں پر چھاپوں کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے جبکہ پشاور کے مختلف علاقوں میں افغان باشندوں کے زیر استعمال ہوٹلز، مارکیٹس، ورکشاپس اور سکولوں کو بند کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، دوسری جانب کئی کرایہ دار افغان خاندانوں نے اپنے گھروں کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے اور ذاتی سامان فروخت کر کے روانگی کی تیاریوں میں مصروف ہیں ،ادھر سرحدی مقامات پر بھی افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ رفتار مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ یکم ستمبر 2025 سے پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو بھی غیر قانونی طور پر مقیم تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پی او آرکارڈ وہ دستاویز ہے جو افغان مہاجرین کو پاکستان میں قانونی طور پر قیام کی اجازت دیتا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اس سے قبل 30 جون کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جسے بعد ازاں دو ماہ کی توسیع دے کر 31 اگست تک بڑھایا گیا۔ اب یہ مدت ختم ہو چکی ہے جس کے بعد پی اور آر کارڈ رکھنے والے افراد بھی اب غیر قانونی تصور کیے جائیں گے۔ اب بھی افغان مہاجرین کو ایف آئی اے کی زیر نگرانی نامزد بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر واپسی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم جن افغان شہریوں کے پاس درست سفری دستاویزات نہیں ہیں، ان پر پاکستان کے امیگریشن قوانین کے تحت 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا اور ملک بدر کرنے کے بعد انہیں بلیک لسٹ بھی کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کی واپسی کا ایکشن پلان پہلے ہی صوبوں کو دے دیا ہے۔ جبکہ وزارت داخلہ کے مطابق ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اب نادرا نے افغانستان واپس جانے والوں کی رجسٹریشن ختم کر دی ہے۔
تاہم دوسری جانب افغانوں کی ملک بدری بارے پاکستان پر عالمی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ افغان باشندوں کو زبردستی واپس بھجوانے کے معاملے پر یو این ایچ سی آر نے کہا کہ ’افغانوں کو اس طرح زبردستی واپس بھیجنا پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ یو این ایچ سی آر حکومت پاکستان سے زبردستی ملک بدری بند کرنے اور افغانوں کی واپسی کو رضاکارانہ، تدریجی اور باوقار بنانے کے لیے ایک انسان دوست طرز عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے‘۔
خیال رہے کہ پاکستان میں چار قسم کے افغان پناہ گزین رہائش پذیر تھے، ایک وہ جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں ان کی بڑی تعداد کو پہلے ہی بےدخل کیا جا چکا ہے۔ دوسرے اے سی سی کارڈ ہولڈر ہیں، ان کی تعداد نو لاکھ ہے۔ وہ بھی پاکستان سے جا چکے ہیں۔ پی او آر یعنی وہ افغان جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن ہے ان کی تعداد 14 لاکھ ہے جبکہ پاکستان میں قیام پذیر افغانوں کی چوتھی قسم ان افغان باشندوں پر مشتمل ہے جو امریکہ اور یورپ جانے کے لیے ویزے کا عمل مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد یہ لوگ پاکستان آئے تھے، اور متعلقہ سفارت خانوں نے ان کے عارضی قیام کے لیے حکومت پاکستان سے بات کر رکھی ہے۔ جو تاحال پاکستان میں قیام پذیر ہیں ان کی بے دخلی بارے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
