عمران خان کو علاج کیلئے فوری ہسپتال منتقل نہ کرنے کا فیصلہ؟

 

 

 

حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے فوری کسی ہسپتال میں منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کروا کر تفصیلی میڈیکل رپورٹ تیار کر لی ہے جسے آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جائے گا، ذرائع کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے سے سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرآمد مکمل ہوگیا ہے کیونکہ عدالتی حکمنامے میں عمارن خان کے طبی معائنے کی رپورٹ پیش کرنے اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر با ت کرانے کا کہاگیاتھا۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی آنکھ کی مکمل بینائی ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جیل میں فراہم کیے جانے والے علاج سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی تکلیف میں نمایاں کمی آئی ہے اور ڈاکٹرز کو امید ہے کہ وہ مکمل صحت یاب ہو جائیں گے۔

 

خیال رہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی مبینہ طور پر 85 فیصد بینائی ضائع ہونے کی اطلاعات نے پی ٹی آئی حلقوں میں تشویش، غم و غصے اور سیاسی کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے دیا ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کی بحث کو زندہ کیا ہے بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے، سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مہمات اور سیاسی رہنماؤں کے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک بڑے سیاسی بیانیے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟ کیا یہ تاخیر محض انتظامی کمزوری تھی یا واقعی غفلت؟ اور کیا یہ بحران پاکستان کی سیاست میں کسی نئے موڑ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟

 

تجزیہ کار نسیم زہرہ کے مطابق حکومت نے عمران خان کے علاج کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی، جو ایک مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے۔ نسیم زہرہ کے بقول عمران خان کے قریبی طبی ماہرین کے مطابق عمران خان کی کھو جانے والی بینائی کو واپس لانا اگر ناممکن نہیں تو اب انتہائی مشکل ضرور ہو چکا ہے۔

 

واضح رہے کہ عمران خان کی بینائی کے مبینہ نقصان اور علاج میں مبینہ حکومتی غفلت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد، پشاور، صوابی، کراچی اور لاہور سمیت کئی شہروں میں دھرنوں، ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ احتجاج کے دوران اٹک پل بند ہونے سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان اہم ترین زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی عمران خان کی صحت سے متعلق ہمدردی اور احتجاجی پیغامات کی بھرمار ہے اور ایکس پر ان کے علاج سے متعلق ٹوئٹس ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ عمران خان کے بنیادی حقوق اور ان کے طبی علاج کے مطالبے پر ملک کے اندر اور باہر سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ان کے حق میں بیان دینے والوں میں وسیم اکرم، وقار یونس، شاہد آفریدی، معین خان اور محمد حفیظ سمیت ان کے سابق ساتھی کرکٹرز بھی شامل ہیں۔

 

دوسری جانب وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری جیل سے منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مستقبل میں کسی سنگین صورتحال میں علاج کیلئے ہسپتال منتقل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے، تجزیہ کار امتیاز عالم کے مطابق حکومت نے عمران خان کو ہسپتال میں علاج کی اجازت خوشی سے نہیں بلکہ دباؤ کے تحت دی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ عدالتیں عمران خان کی اپیلیں نہیں سن رہیں، مقدمات سست روی کا شکار ہیں اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مزاحمتی عمل شدت اختیار کرتا گیا تو صورتِ حال نیپال، بنگلہ دیش یا سری لنکا جیسے مناظر بھی اختیار کر سکتی ہے۔

 

عمران خان کے خاندانی ذرائع  کے مطابق حکومت اور عمران خان فیملی کے درمیان بداعتمادی کی خلیج مزید گہری ہو چکی ہے۔ ان کے بقول معاملہ اب صرف آنکھ کے علاج تک محدود نہیں رہا بلکہ اس بات کی تحقیقات ضروری ہیں کہ کہیں یہ بیماری کسی سازش کا نتیجہ تو نہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ عمران خان کو ایسی ادویات دی جا رہی ہوں جو خون کو گاڑھا کر رہی ہوں، کیونکہ آج آنکھ میں بننے والا کلاٹ کل جسم کے کسی اور حصے میں بھی بن سکتا ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی بیماری کے معاملے میں حکومت بری طرح پھنس چکی ہے۔ اگر انہیں علاج کے لیے جیل سے باہر نہ نکالا گیا تو عوامی غصے میں اضافہ کسی بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ اگر حکومت انہیں کسی عوامی ہسپتال میں رکھتی ہے تو وہاں ان کے حامیوں کو کنٹرول کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔

کیا عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور دیگر وزرا کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست کر رہی ہے تاہم پی ٹی آئی کو اس حوالے سے بے بنیاد پراپیگنڈے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کے علاج بارے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں انھیں جیل میں بہترین علاج کی سہولیات میسر ہیں تاہم اگر مستقبل میں کبھی ضرورت پڑی تو انھیں ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔

 

Back to top button