فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ،PTI کا مستقبل کیا ہوگا

الیکشن کمیشن کےتحریک انصاف کی فارن فنڈنگ سے متعلق کیس کے فیصلے پر قانونی ماہرین نے حدشتہ ظاہر کیا ہے کہ اسفیصلے سے پی ٹی آئی کو آئینی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔خیال رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثاراحمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے2014سے زیر التوا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آج مورخہ 2 اگست 2022 کو سنا یا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہیہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

متفقہ فیصلےکے مطابق پی ٹی آئی نے 8 اکاؤنٹس کی ملکیت ظاہر کی اور 13 اکاؤنٹس کو پوشیدہ رکھا۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط بیانی کی،فیصلےمیں پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ یہ بتایا جائے کہ پارٹی کو ملنے فنڈز کیوں نہ ضبط کیے جائیں، تین رکنی بینچ کےفیصلے میں چیف الیکشن کمشنر کی جانب سےکہا گیا کہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی، فیصلے میں پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی۔

معروف قانون دان عرفان قادر نے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ فیصلے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر قوانین میں ترمیم کرنی چاہیے، کیونکہ کچھ قوانین میں ترمیم کیے بغیر ملک میں مستحکم حکومت نہیں بن سکتی، عمران خان کے پاس اچھا موقع تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر اس طرح کے قوانین میں ترمیم کرتے لیکن عمران خان سمجھتے تھے کہ وہ تن تنہا حکومت بنا سکتے ہیں، ملک میں ایسے سخت قوانین نہیں ہونے چاہئیں جن کے ساتھ ملک چل ہی نہ سکے، ہمیں حقیقت پسندانہ قوانین کی ضرورت ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مخالف سیاسی جماعتوں کا پی ٹی آئی پر فارن فنڈنگ لینے کا الزام آج کے فیصلے سے دفن ہوگیا، فارن فنڈنگ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی ادارہ یا حکومت سیاسی پارٹی بنائے اور اس کو فنڈنگ کرے، اس طرح کی فنڈنگ حاصل کرنے پر پارٹی کالعدم قرار دی جاسکتی ہے لیکن یہ مؤقف تو ختم ہوگیا،جو بھی پارٹی یا کمپنی جو فنڈز اکٹھے کرتی ہے تو فنڈز میں سے کچھ فنڈنگ ایسی ہوسکتی ہے جو کہ ممنوع ہے تو وہ فنڈنگ ضبط کرلی جاتی ہے اور یہ ایک اکاؤنٹنگ سے متعلقہ معمول کا معاملہ ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جیسے اگر فنڈز جمع کرنے کے لیے کوئی کرکٹ میچ کرایا جاتا ہے، کچھ اس میں سے جمع کرکے ایک پارٹی کو دے دیے جاتے ہیں تو پارٹی کو پتا نہیں چلتا کہ کس نے فنڈز دیے ہیں، یہ تو صرف فنڈز جمع کرنے والا جانتا ہے، تو اسی طرح کی کچھ ٹرانزیکشنز کو الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کیونکہ وہ فنڈز غیر ملکیوں نے دیے ہیں اس لیے وہ ضبط کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر کچھ بلاواسطہ اکاؤنٹس کو بھی الیکشن کمیشن نے غلط طریقے سے ضبط کرلیا ہے تو اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، کوئی کمپنی یا پارٹی کا سربراہ اکاؤنٹس کے معاملات میں اپنے ماہرین پر انحصار کرتا ہے اور ان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات سے متعلق سرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے اور اس طرح کے سرٹیفکیٹ وہ پوزیشن نہیں ہوتی جو حلف نامے کی ہوتی ہے اور اس معاملے میں کوئی سزا نہیں ہوتی بلکہ اکاؤنٹس کو ضبط کیا جاتا ہے اور ان کی تصحیح کی جاتی ہے۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہانواز شریف کے حلف میں اور اس کیس میں لیگل اور فکچوئل بڑا فرق ہے، بیان حلفی مختلف ہے، سربراہ خود اکاؤنٹس کو دیکھے اور بیان حلفی دے، سرٹیفکیٹ میں پروفیشنلز پر ریلائی کیا جاتا ہے، سرٹیفکیٹ کے معاملے پر آئین کا آرٹیکل 62 اور63 لاگو نہیں ہوتا، یہ اکاؤنٹس کا مسئلہ ہے کوئی بھی بنائے کچھ غلطیاں ہوں گی جو بعد میں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔

شاران بلوچ، مرحومہ کریمہ بلوچ سے متاثر نکلی

سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اپنی رائے میں کہا کہ جب سابق وزیراعظم نواز شریف پر تاحیات پابندی لگ سکتی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے قابل وصول رقم کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا تو اتنی سی بات پر ان کے خلاف آرٹیکل 62 ون ایف لاگو کیا گیا اور ان کو نااہل قرار دیا گیا، جبکہ عمران خان کے خلاف تو کروڑوں روپے کی رقم کے معاملات ہیں۔

قانونی و پارلیمانی امور کے ماہر و پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا الیکشن کمیشن کا فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے جتنا برا ممکن ہو سکتا تھا اتنا ہی برا آیا ہے ۔

احمد بلال محبوب نے تبصرے میں انہوں نے فیصلے کے تین اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی، پہلی بات تو یہ ہے کہ فیصلے سے تصدیق ہوگئی کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ رقم قبول کی، دوسری بات یہ ہے کہ فارن فنڈنگ بھی اس ممنوعہ رقم میں شامل تھی اور تیسری بات یہ ہے کہ پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا اکاؤنٹس کی تفصیلات کے حوالے سے بیان حلفی جھوٹا ہے، اس سب سے اگلے اقدامات کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

ایڈووکیٹ سالار خان نے ٹوئٹ میں کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ توقع کرنا درست ہے کہ دوسری جماعتوں کی فنڈنگ کی بھی جانچ پڑتال کی جائے، اگر تمام پارٹیوں نے ممنوعہ فنڈز حاصل کیے ہیں تو اس کا مطلب ان سب نے قانون کی خلاف ورزی کی، لیکن اس سے بھی یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوگی کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈز حاصل کیے اور اس کے بارے میں جھوٹ بولا۔

وکیل محمد احمد پنسوٹا نے ٹوئٹ کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے کئی عوامل پر غور کرنا ہوگا۔

Back to top button