ڈالر کی بے قدری جاری،انٹر بینک میں 262.8 روپے کا ہوگیا

حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے ہفتے اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے سے متعلق حکومتی بیان کے بعدڈالر کے انٹربینک ریٹ 264 اور 263 روپے سے بھی نیچے آگئے۔

اس طرح سے 3 فروری 2023ء سے اب تک 11 دنوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 4.97 فیصد بڑھ گئی جبکہ اس سے قبل 25 جنوری 2023ء سے 3 فروری کے دوران ڈالر کی تیز رفتار اڑان سے 16.5 فیصد روپیہ ڈی ویلیو ہوا تھا۔

جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے میں وقفے وقفے سے ڈیمانڈ آنے کے سبب ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا اور ایک موقع پر ڈالر کی قدر 2.28 روپے کی کمی سے 262 روپے 10 پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی تاہم دوبارہ ڈیمانڈ بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 1.57 روپے کی کمی سے 262.8 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔

اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ایک روپے کی کمی سے 262 روپے کی سطح پر آنے کے باوجود کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 268 روپے کی سطح پر ہی بند ہوئی۔

اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی بیشتر شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد پروگرام بحال ہونے کی امید اور انٹربینک میں سپلائی بڑھنے سے ڈالر بیک فٹ پر آگیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے سے قرض پروگرام کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی ہے جس کے بعد یہ امکان بھی قوی ہوگیا ہے کہ آنے والے دنوں میں دیگر ممالک و عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی نئے قرضوں کا اجراء شروع ہوجائے گا اور روپیہ کی قدر کی بحالی تیز رفتار ہوجائے گی۔

کیا انتخابات سے پاکستان ایک بارپھر ٹوٹ جائےگا؟

Back to top button