کیا انتخابات سے پاکستان ایک بارپھر ٹوٹ جائےگا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی نے کہا ہے کہ ریاست کوآئین کے مطابق چلانا ناممکن ہو چکا ہے پاکستان کے دندناتے مجرم حساب دینے کی بجائے حساب مانگ رہے ہیں۔جنرل راحیل شریف ، جنرل قمر  باجوہ ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید  کھوسہ ، عمران خان اور موجودہ حکمران ٹولہ اپنے ذاتی مفادات ، اقتدار اور طاقت کےلالچ میں اندھا دھند مملکت کو کمزور کرنے کی وجہ بن رہے ہیں ، مخدوش حالات میں عدلیہ کا کردار تشویش میں اضافے کا باعث ہے،اپنے ایک کالم میں اظہار خیال کرتے ہوئےحفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ اللہ کی بے آواز لاٹھی کچھ کے خلا ف حرکت میں ہے ، جسٹس ثاقب نثار آئندہ نسلوں کیلئےنشانِ عبرت بن چکے ہیں۔ جنرل باجوہ کی خواری، رُسوائی اور بے توقیری پراُن کا اپناادارہ کانپ رہا  ہے۔ مجھے یقینِ کامل ہے کہ ان کے  شراکت دار عمران خان کا انجام بھی مختلف نہیں ہونا ۔ انہوں نے  2018 میں نقب لگا کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ جس کی بنیاد 2014 کی واردات ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘، نے ڈالی تھی ۔ عمران خان کا سنگین جُرم یہ ہے انہوں نے  قرآن و حدیث کے حوالے اپنے ذاتی مفادات اور سیاست کو پروان چڑھا نے اور جھوٹ عام کرنے میں استعمال کئے ۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ،مکافاتِ عمل آج ہر مد میں سب کچھ دُہرانے کوہے ۔ کلثوم نواز اور نوازشریف کی بیماری کا مذاق اُڑایا گیا۔ٹرینڈ بنائے گئے۔ تقاریر، انٹرویو، سوشل میڈیا پر بہتان، جھوٹ اور کردار کُشی کا بازار گرم رکھا گیا ۔آج عمران خان کی ’’ٹانگ پر پلستر اور زخم ‘‘،چار سُو ایک مزاحیہ پروگرام بن چکا ہے۔ واہ مالک ! تیری قدرت متحرک ہے۔نواز شریف نے بحیثیت وزیراعظم اپنے ماتحت JIT میں کئی ماہ پیشیاں بھگتیں۔ احتساب عدالت کی کارروائی کا حصہ بنے ۔ وہ واٹس ایپ JIT ، اقامہ تنخواہ ، مانٹیرنگ جج ، ارشد ملک ویڈیو،دیگر درجنوں غیر قانونی حرکات و سکنات کی گرفت میں رہے۔ بالآخر6 جولائی 2018 کو نواز شریف کو10 سال قید اور مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا ملی جب کہ اس وقت دونوں لندن میں تھے۔ بستر مرگ پرعزیز ترین ہستی کو چھوڑ کر دونوں قید کاٹنے پاکستان واپس پہنچ گئے۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ کلثوم نواز اور نوازشریف کی بیماری پر تمسخر سے شروع ہونے والا عمران خان کا سفر اگلے مرحلے میں داخل ہونے کو ہے، نااہلی، پارٹی صدارت سے محرومی ، قید و بندسب کچھ عمران خان کی مد میں اپنے آپ کو دُہرانے کو ہے۔ ابھی تو ہلکے پھلکے مقدمات نے ان کے  ہوش و حواس معطل کر رکھے ہیں ۔معمولی نااہلی اورقاتلانہ حملے پر عوامی ردِ عمل کی غیر موجودگی ، ملک بند کروانے کے دعوے کا سرعام بھانڈاپھوٹنا، عوام کی عدم دلچسپی نے موصوف کو ہلا کر رکھ دیا۔عمران خان دباؤ بڑھانے کی جنگ ہار چکے ہیں، بلف کال ہو چُکا ہے۔  ریاست کوآئین کے مطابق چلانا ناممکن ہو چکا ہے ۔اس میں دو رائے نہیں کہ قومی اسمبلی کے فوری ضمنی انتخابات کے علاوہ پنجاب اور KPK اسمبلیوں کے90 روز کے اندر انتخابات کے انعقاد کے بعد  اکتوبر نومبر میں عام انتخابات بھی کروانا ہوں گے۔ اِس کے سوا  کوئی اورچارہ نہیں۔ بدقسمتی سے آئین پر چلتے ہیں تو تفکرات، ماورائے آئین اقدامات کے اپنے خدشات سامنے آتے ہیں ، دونوں صورتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب تباہی کی طرف دھکیلنے کا فارمولا ہے۔ کوئی دیدہ ور، اہل نظر، دُور اَندیش یہ گارنٹی نہیں دے سکتا کہ وطنی سالمیت کو قائم رکھنا کیسے ممکن ہے؟ خانہ جنگی کے سارے لوازمات دونوں صورتوں میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ 1971میں بھی انتخابات ہی نے تو مملکت کو دو لخت کیا تھا۔

حفیظ الله نیازی کے مطابق قرآن حکیم نے جن گستاخیوں پر قوموں کی پکڑ کی ،مملکت خداداد میں وہ سب بدرجہ اُتم موجود ہیں۔ پچھلے دس سال کی عرق ریزی ،محنت مشقت سے ہم بند گلی سے نکلنے کے سارے راستے بند کر چکے ہیں ۔ آج کے  مخدوش حالات میں عدلیہ کا کردار تشویش میں اضافے کا باعث ہے۔ حالات کی سنگینی اور پیچیدگی کا اگراِدراک نہیں تو براہِ کرم حل دینے سے اِجتناب بَرتا جائے۔ دِل و دماغ شَل، اعصاب جواب دے چکے ہیں۔ وطنِ عزیز دلدل میں گردن تک دھنسا ہے                                                                                                                                                                                                     میرے مولا مجھے صاحب جُنوں کر

    رہے نام اللّٰہ کا، معجزہ چاہئے۔
اداکارہ اروشی پھر کرکٹر نسیم شاہ کے پیچھے کیوں پڑ گئی؟

 

Back to top button