ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا نیا بینچ بھی تحلیل

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کی سماعت ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئی، جب جسٹس انعام امین منہاس کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا نیا بینچ بھی ٹوٹ گیا۔ عدالت نے معاملے کو لارجر بینچ کے لیے چیف جسٹس کو ارسال کر دیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کے دوران ان کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس انعام منہاس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس اب سنگل بینچ کے بجائے لارجر بینچ سنے گا، اور اس مقصد کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کیس کی سماعت کے دوران عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے پر وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔ بعد ازاں کیس کو جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت میں منتقل کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران وکیل عمران شفیق نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ کافی پیچیدہ ہو چکا ہے، جس پر جسٹس انعام منہاس نے وضاحت کی کہ "معاملہ پیچیدہ نہیں، مسئلہ صرف ماسٹر آف روسٹر کے تعین کا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس ہی ماسٹر آف روسٹر ہیں، تاہم اس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، اس لیے معاملے کو لارجر بینچ کے سپرد کیا جا رہا ہے تاکہ یہ آئینی سوال واضح ہو سکے۔
اب چیف جسٹس کے "ماسٹر آف روسٹر” ہونے کے نکتے پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جو اس حساس اور آئینی اہمیت کے حامل کیس کی سماعت کرے گا۔
