بھارت کی پاکستان مخالف فالس فلیگ آپریشن کی سازش بے نقاب

عالمی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے بھارتی حکومت ایک بار پھر پرانے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد ساکھ کھونے والی مودی سرکار نے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری شروع کر دی تاکہ ماضی کی طرح پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔ تاہم اس بار بھارتی مذموم منصوبہ وقت سے پہلے ہی بے نقاب ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین افراد نیپال کے راستے بہار کے علاقے پٹنہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ کہانی کو مزید ’’مستند‘‘ بنانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے نا صرف دہشت گردوں“ کے نام گھڑے گئے ہیں، بلکہ ان کے نام نہاد خاکے بھی جاری کئے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ان شرپسند افراد کا تعلق کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جھوٹے دعوے کے بعد پورے بہار-نیپال بارڈر پر سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی پٹی طویل اور حساس ہے اس لیے مبینہ دراندازی کی اطلاع پر فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس قسم کے اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے ایک منصوبہ بندی کے تحت نہ صرف عوام میں خوف پھیلایا جا رہا ہے بلکہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کو دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کرنے کی سازش بھی رچائی جا رہی ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارت نے اس قسم کا فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا ہو۔ ماضی میں بھی پلوامہ حملے سمیت متعدد واقعات میں یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنے ہی شہریوں کی جانوں سے کھیل کر ان واقعات کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ تاکہ عوام کی توجہ اندرونی ناکامیوں اور معیشت کی تباہ حالی سے ہٹا کر پاکستان مخالف بیانیہ کی جانب موڑی جا سکے۔ بھارت کی حالیہ کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مگر اس بار مودی سرکار کی منصوبہ بندی کا پردہ وقت سے پہلے چاک ہو گیا ہے۔ جس سے دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ سب محض پروپیگنڈا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشن یعنی خود ہی کارروائی کرکے الزام پاکستان پر لگانے کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر جھوٹے الزامات کا یہ سلسلہ کئی دھائیوں پہلے شروع کر دیا گیا تھا، جب جنوری انیس سو اکہتر میں دو کشمیری نوجوانوں محمد ہاشم قریشی اور اس کے رشتہ دار اشرف قریشی نے گنگا‘نامی ایک بھارتی فوکر طیارہ سرینگر ایئر پورٹ سے جموں جاتے ہوئے ہائی جیک کر لیا تھا۔ بعد ازاں وہ اسے زبردستی لاہور لے آئے تھے۔ جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا تاہم بہت بعد میں خود ”را“ کے ایک اعلیٰ افسر نے اس سارے معاملے پر ایک کتاب لکھی جس میں اعتراف کیا تھا کہ طیارہ ہائی جیکنگ دراصل بھارت کی اپنی سازش تھی ، جس کا مقصد پاکستان کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر انڈیا سے مشرقی پاکستان جانے والی تمام پاکستانی پروازوں پر پابندی عائد کرنا تھی تا کہ مغربی پاکستان میں پاک افواج کے ہیڈ کوارٹرز سے مشرقی پاکستان میں کمک بھیجنے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ اس کے بعد سن دو ہزار سے 2025 تک بھارت نے مختلف نوعیت کے متعدد فالس فلیگ آپریشن کر کے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ان کا الزام پاکستان پرعائد کیا۔ بھارت نے دو ہزار ایک میں اپنی پارلیمنٹ پر خودہی حملہ کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگا یا تھا۔ لیکن آج تک وہ پاکستان کی اس حملے میں کسی قسم کی شمولیت کا الزام ثابت نہیں کر سکا۔ اسی طرح دو ہزار سولہ میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر فالس فلیگ آپریشن کیا گیا۔ جبکہ دو ہزار انیس میں بھارت نے پلوامہ میں فالس فلیگ آپریشن کیا اور اسے جواز بناتے ہوئے پاکستان پر نام نہاد سرجیکل سٹرائیک بھی کی تھی تاہم پاکستان نے اس کا دندان شکن جواب دیا تھا۔
پہلگام کا حالیہ فالس فلیگ آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کا بنیادی مقصد پاکستان مخالف عوامی جذبات ابھار کر بہار ریاستی الیکشن میں بی جے پی کو کامیاب کرانا تھا۔ تاہم مودی سرکار کا یہ منصوبہ اس بار الٹا پڑ گیا اور جارحیت کے جواب میں بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں بہار کے ریاستی الیکشن میں بی جے پی کی الیکشن مہم کو زبردست دھچکا لگا۔ ایسے میں بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے نتیجے بی جے پی کی تباہ ہونے والی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے اب مودی سرکار بہار کے ریاستی الیکشن سے پہلے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کر سکتی ہے، تا کہ دوبارہ اس کا الزام پاکستان پر دھر کر ایک بار پھر ریاستی انٹکابات میں اپنی جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی مقصد کیلئے ریاست بہار میں تین پاکستانی مسلح افراد کے داخل ہونے کا شوشہ چھوڑا گیا ہے۔
