انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ، ملزم ایبٹ آباد سے گرفتار، مقدمہ درج

جہلم کے تھانہ سٹی میں مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے الزام میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، واقعہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کے کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ملزم نے محمد علی مرزا پر حملہ کیا، ان کا عمامہ زمین پر پھینکا اور دونوں ہاتھوں سے ان کے گلے کو دبانے کی کوشش کی۔ اس دوران ملزم نے بلند آواز میں نعرے بھی لگائے، جو مبینہ طور پر مذہبی سیاسی جماعت سے متعلق تھے۔

موقع پر موجود افراد نے ملزم کو قابو میں کر کے اکیڈمی کے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا۔ پولیس نے مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت درج کیا۔

جہلم پولیس کے مطابق محمد علی مرزا پر پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں، جن میں مارچ 2021 اور 2017 کے حملے شامل ہیں، لیکن وہ محفوظ رہے۔ گذشتہ سال وہ مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار بھی ہوئے تھے لیکن دسمبر 2025 میں ضمانت پر رہا ہوئے۔

محمد علی مرزا کے وکیل محمد طاہر ایوبی کے مطابق، اکیڈمی میں ہر اتوار کو درس و تدریس اور سوال و جواب کا سیشن ہوتا ہے، جس میں ملک بھر سے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اکیڈمی کی پالیسی کے مطابق ایک شخص ایک بار سیشن میں شامل ہو سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ حصہ لے سکیں۔

وکیل نے بتایا کہ سی سی ٹی وی ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ ملزم صبح 9 بجے اکیڈمی میں داخل ہوا اور سیشن کے اختتام تک موجود رہا۔ سیشن کے بعد مرکزی ہال سے منسلک ایک مخصوص کمرے میں تصویر بنوانے کے دوران اس نے اچانک حملہ کیا۔ موقع پر موجود افراد نے ملزم کو قابو پایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم کی جیب سے شناختی کارڈ برآمد ہوا، جس کے مطابق اس کی عمر 26 سال اور تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔

Back to top button