اسٹیبلشمنٹ اپنی من پسند حکومت کیسے منتحب کرا سکتی ہے؟

سینئر کالم نگار حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ آج جتنی توانائی نگراں حکومت کو لانے پر خرچ کی گئی ہے یا پھر اس کا دورانیہ بڑھانے پر خرچ کی گئی ہے ۔اگر اس توانائی کا چوتھا حصہ بھی عام انتخابات کے فوری انعقاد پر خرچ کردیا جائے تو اسٹیبلشمنٹ اپنی من پسند منتخب حکومت لانے میں بھی کامیاب ہوجائیگی اور ملک میں پانچ سال کیلئے سیاسی استحکام بھی آجائے گا۔ اپنے ایک کالم میں حذیفہ رحمان نے لکھا ہے کہ مرکز میں نگراں حکومت کے قیام کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔انتہائی محنت اور تلاش کے بعد نگراں حکومت کی یہ شکل بنی تھی۔مگر اب تک یہ حکومت ہر معاملے میں بے بس نظر آتی ہے۔جس دن سے وہ وجود میں آئی ہے،ڈالر اور سونا بے لگام ہوچکے ہیں۔جو ڈالر 285سے 290کے درمیان مارکیٹ میں دستیاب تھا،اب وہ315میں بھی دستیاب نہیں ہے۔سونے کی قیمت دولاکھ بیس ہزار تولہ تھی،جواس وقت دولاکھ پینتیس ہزار روپے فی تولہ پر پہنچ گئی ہے۔یہ سب کچھ صرف گزشتہ دو ہفتوں میں ہوا ہے۔وزارت خزانہ کیلئے بہترین معاشی ماہر کا انتخاب کیا گیا مگر معیشت ان کے کنٹرول میں بھی نہیں آرہی۔نگراں کابینہ کے قیام سے قبل عمومی تاثر تھا کہ قابل اور تجربہ کار ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ٹیم سامنے لائی جارہی ہے۔جو معیشت کو بہتر نہ بھی کرسکی تو مزید خراب نہیں ہونے دے گی۔لیکن تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔دراصل قصور ان ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نگراں وزراء یا ان کا چناؤ کرنے والے کا نہیں ہے۔بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ ساز اب تک معاشی بیماری کو جڑ سے پکڑ نہیں پارہے. حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ نگراں حکومتیں ملک میں کبھی معاشی استحکام نہیں لاسکتیں۔معاشی استحکام براہ راست سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پانچ سالہ حکومت ہی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھا سکتی ہے۔کیونکہ معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کی اکثریت حکومت وقت پر اعتماد کرے اور اپنا سرمایہ ڈالر اور سونے سے نکال کر واپس ملک کی معیشت میں شامل کرے۔ایسا تب ہی ممکن ہےجب عوام کی نمائندہ حکومت برسر اقتدار ہو،چاہے وہ کسی بھی جماعت کی ہو۔کیونکہ عمران پروجیکٹ اتنی بڑی غلطی تھی کہ اس نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور جو بھی حکومت محدود مدت کیلئے آتی ہے۔اسے سمجھ ہی نہیں آتی کہ وہ معیشت کے مرض کو کہاں سے ٹھیک کرنا شروع کرے۔پی ڈی ایم حکومت بھی 16ماہ تک وینٹی لیٹر پر چلتی رہی،ہر آنے والے دن اسے لگتا تھا کہ شاید یہ اس کا آخری دن ہو اور ویسے بھی 13جماعتوں کے چوں چوں کےمربے نے بھلا کہاں کارکردگی دکھا سکناتھی۔یہ تو اللہ کا خاص کرم ہوگیا کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ بحال ہوگیا اور پاکستان کسی بہت بڑے نقصان سے بچ گیا۔اسی طرح سے موجودہ نگراں حکومت کے متعلق بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس حکومت نے 90دن چلنا ہے یا پھر 180دن۔حتیٰ کہ حکومت میں موجود وزراء کو بھی نہیں معلوم ہوگا کہ ان کی حکومت کا دورانیہ کتنا ہے؟ جب حکومت کو خو د پتہ نہ ہو کہ اس کا مستقبل کیا ہے تو ایسے میں بڑے سرمایہ دار اور بزنس مین بھلا کیسے حکومت پر اعتماد کرکے سرمایہ کاری کرسکتے ہیں؟ حذیفہ رحمان کے مطابق پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل فوری عا م انتخابات ہیں۔آ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ نگران حکومت معاشی استحکام لانے کی طرف ایک قدم بھی بڑھا سکتی ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلاہے، موجودہ مرکزی نگراں حکومت انتہائی قابل لوگوں پر مشتمل ہے ۔انوار الحق کاکڑ ں،انتہائی قابل اور شریف النفس شخصیت ہیں۔لیکن اس وقت معاملہ قابلیت کا نہیں بلکہ لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کا ہے اور عوام کا اعتماد منتخب حکومت ہی بحال کرسکتی ہے موجودہ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی حتمی تاریخ دینے کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا۔جس دن عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا ،پاکستان میں اسی دن سے استحکام آنا شروع ہوجائے گا۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ایک دیانتدار اور قابل آدمی ہیں۔ میرٹ پر کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔نہ غلط کام کرتے ہیں اور نہ کسی کی غلطی برداشت کرتے ہیں۔موجودہ حالات میں انہیں معاملات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عام انتخابات کے فوری انعقاد کو یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ اس وقت وطن عزیز کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔حتیٰ کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کا زراعت کے شعبے کے حوالے سے انقلابی اقدام بھی سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔موجودہ حالات میں یہ واحد منصوبہ ہے ،جو پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھا سکتا ہے اور یوں امپورٹ اور ایکسپورٹ بل کا خسار ہ ختم ہوسکتا ہے۔کیونکہ پاکستان میں عوام کی اکثریت زرعی شعبے سے وابستہ تھی مگر بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کی زراعت مکمل تباہ ہو گئی۔یہ قابل تعریف ہے کہ آرمی چیف نے اس شعبے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئےہیں۔تاہم ان سب منصوبوں کے ثمرات اس وقت آنا شروع ہونگے جب ملک میں سیاسی استحکام ہوگا۔بہتر ہوگا کہ الیکشن کمیشن16ستمبر سے قبل عام انتخابات کی تاریخ دینے کے حوالے سے تمام ہوم ورک مکمل کرلے ،وگرنہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے شاید نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سب سے آگے کھڑے ہوں اور اگر سپریم کورٹ کے حکم پر 15فروری یا اسکے آس پاس کی تاریخ دی گئی تو شاید پھر انتخابات کے حوالے سے معاملات کوکنٹرول کرنا بہت مشکل ہوجائے

ایکس ایپ نے ملازمتوں کے اشتہارات کی آزمائش شروع کردی

۔

Back to top button