حالت زار کا ڈرامہ کرنے والے عمران خان کی جیل میں عیاشی

سابق وزیر اعظم عمران خان کو اٹک جیل میں سہولیات کی عدم فراہمی اور حالت زار کا واویلا ڈرامہ نکلا، وفاقی حکومت کے بیان کردہ حقائق نے پنکی پیرنی کے بیان حلقی اور عمرانڈو وکلاء کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔رپورٹ کے مطابق نہ صرف عمران خان کو مکمل سیکیورٹی اور تمام سہولیات میسر ہیں بلکہ کھانے میں دیسی مرغ اور دیسی گھی میں تیار کردہ مٹن بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد گرفتار ہونے والے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اٹک جیل میں میسر سہولیات سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حالت زار سے متعلق وفاقی حکومت کی جانب سے سربمہر رپورٹ براہ راست چیف جسٹس پاکستان کے چیمبر میں جمع کرائی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کے احکامات پر اٹارنی جنرل نے چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں سب سے محفوظ ہائی آبزرویشن بلاک میں رکھا گیا ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ملحقہ بیرکس کو بھی خالی رکھا گیا ہے۔ اٹک جیل کا بلاک 2 انتہائی محفوظ قید خانہ سمجھا جاتا ہے. پورا بلاک خالی کروا کے انتہائی سخت سیکیورٹی رکھی گئی ہے۔بلاک 2 سے ملحقہ دیگر بیرکس اور بلاکس بھی خالی کروا لیے گئے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو جس سیل میں رکھا گیا وہ 9×11 فٹ کا ہے، جس قید خانے میں چیئرمین پی ٹی آئی کو رکھا ہے اس کو وائٹ واش کیا گیا ہے۔قید خانے کا فرش مرمت کر کے چھت کا پنکھا بھی نصب کیا گیا ہے جبکہ 18 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کے قید خانے کے واش روم کی توسیع کی گئی اور قید خانے کے واش روم کی دیواریں پانچ فٹ اونچی کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واش روم میں نیا کموڈ نصب کر کے دروازہ لگا دیا گیا ہے جبکہ واش روم میں چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے مسلم شاور، ٹیشو اسٹینڈ اور اسٹیل کی ٹونٹی بھی نصب کر دی گئی ہے۔ واش روم کے باہر وضو کرنے کے لیے ایک واش بیسن اور ایک بڑا آئینہ بھی نصب کیا گیا ہے، واش روم کی دیواروں پر رنگ روغن کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 13*44 فٹ کی راہدری میں چیئرمین پی ٹی آئی کو صبح شام چہل قدمی کی اجازت ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ایک درجہ بہتر کلاس بھی فراہم کر دی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو قید خانے میں پلنگ، میٹرس، چار تکیے، میز، کرسی، مصلہ اور ایئر کولر بھی میسر ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو انگریزی ترجمے والے چار قرآن مجید اور اسلامی تاریخ پر لکھی 25 کتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اسکے علاوہ، سزا یافتہ قیدی چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں 21 انچ کی ایل ای ڈی اور اخبار کی سہولت بھی دی گئی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل اور واش روم کی صفائی کے لیے روزانہ دو گھنٹے تک ایک خاکروب بھی فراہم کیا جاتا ہے، صفائی کرنے والے کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی کے کپڑے بھی دھوئے، قید خانے کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق فینائل سے روزانہ صاف کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہچیئرمین پی ٹی آئی کی حفاظت کے لیے پنجاب کی مختلف جیلوں سے 53 اہلکاروں کو عارضی طور پر تعینات کیا گیا ہے اور جیل کی اندرونی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کے لیے آٹھ گھنٹے کی تین شفٹوں پر اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ہر شفٹ میں چار جیل افسران اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی نگرانی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کے لیے تین سیکیورٹی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں، کیمرے نصب کرنے کا مقصد ڈیوٹی پر تعینات اسٹاف کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا ہے۔ سیکیورٹی کیمرے چیئرمین پی ٹی آئی کے قید خانے سے 12 سے 14 فٹ دور نصب کیے گئے ہیں اور نصب کردہ سیکیورٹی کیمروں سے چیئرمین پی ٹی آئی کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوتی کیونکہ سیل کے اندر کوئی کیمرہ نصب نہیں ہے اور دو سیکیورٹی کیمرے بلاک سے باہر نصب کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بروقت رابطہ کاری کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو وائرلیس سیٹ فراہم کیے گئے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو جس سیل میں رکھا گیا ہے وہاں بجلی کی دو مختلف لائنوں کا کنیکشن فراہم کیا گیا ہے جبکہ ان کے لیے 63 کلو وولٹ کا جنریٹر بھی دستیاب ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کو اپنے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے منگل دو سے تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے جبکہ اپنی وکلا ٹیم سے ملاقات کے لیے جمعرات دو سے تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو فراہم کی گئی سیکیورٹی کی وجہ سے جیل کے روز مرہ کے امور متاثر ہو رہے ہیں، 7 اگست تا 23 اگست چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ ان سے تین بار ملاقات کر چکی ہے اور اس عرصے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم بھی ان سے تین بار ملاقات کر چکی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لیے صبح، دوپہر اور شام پانچ رکنی میڈیکل ٹیم موجود ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا روزانہ دن میں دو مرتبہ طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کو دیے جانے والےکھانےکا مینیو بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ناشتے میں بریڈ، آملیٹ، دہی اور چائے فراہم کی جاتی ہے، دن اور رات کےکھانے میں انہیں تازہ پھل، سبزیاں، دالیں اور چاول مینیو کے مطابق دیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورے ہفتے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کو موسمی پھل بھی کھانے کو دیے جاتے ہیں اور مطالبہ کرنے پر ہفتے میں دو بار دیسی مرغ کا گوشت فراہم کیا جاتا ہے جبکہ مطالبہ کرنے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو ہفتے میں ایک بار دیسی گھی میں پکا ہوا مٹن بھی دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پراپرٹی اکاؤنٹ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ پراپرٹی اکاؤنٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے رشتے دار یا ملازمین رقم جمع کروا سکتے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹ جیل اور ہیڈ وارڈر کی موجودگی میں کھانا پکایا جاتا ہے، کھانا تیار ہونے کے بعد میڈیکل آفیسر اور ڈپٹی سپرٹنڈنٹ جیل خود چیک کرتے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا فراہم کرنے سے قبل سخت چیکنگ کی جاتی ہے، جیل انتظامیہ ہائی پروفائل قیدی کے لیے ہر ممکنہ سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں وفاقی حکومت سے چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں حالت زار بارے رپورٹ طلب کی تھی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ اپنے شوہر کی گرتی صحت سے متعلق سپریم
ناسا کے سپر سونک مسافر طیارے کے متعلق نئے انکشافات
کورٹ میں بیان خلفی بھی جمع کرا چکی ہیں۔
