فیض حمید کی کابل کی چائے پاکستان کو کتنی مہنگی پڑی؟

افغانستان سے امریکہ کے انخلاء اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور افغان طالبان کی واپسی کو عمرانی دور اقتدار میں ایک ’بڑی فتح‘ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ جہاں عسکری اور مذہبی حلقے امریکہ کی ہار پر شاداں تھے وہیں سیاسی قیادت بھی پیچھے نہیں رہی تھی۔ 17 اگست 2021 کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک خطاب میں کہا کہ ’افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دیں۔‘عمران خان کے اس بیان کا مغربی پریس میں کافی چرچا رہا اور بعد میں وہ اس حوالے سے وضاحتیں بھی دیتے رہے۔ماہرین کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کے اس بیان کو واشنگٹن میں اچھے انداز میں نہیں لیا گیا۔ تاہم عمران خان کے دور اقتدار کے بعد اسٹیبلشمنٹ قیادت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کی افغان طالبان بارے پالیسی یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ ماضی میں جہاں عمران خان جنرل فیض حمید کی ایماء پر طالبان کو دوبارہ مختلف علاقوں میں بسانے کی پلاننگ کر رہے تھے وہیں اب نہ صرف شرپسند طالبان کو پھینٹی لگانی شروع ہو چکی ہے بلکہ غیر قانونی مقیم افغانیوں کو بھی ملک بدر کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان کے افغانستان میں برسر اقتدار آنے کے بعد چار ستمبر کو اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے نہ صرف افغانستان کا دورہ کیا بلکہ کابل کے سیرینا ہوٹل میں چائے پیتے بھی نظر آئے۔پاکستان نژاد امریکی سکالر حسن عباس کے مطابق جنرل فیض حمید نے سیرینا ہوٹل میں صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ’پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘انہوں نے لکھا کہ ’فیض حمید کی سیرینا ہوٹل میں چائے کی چسکیاں لیتی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔ مبصرین کے لیے یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان کا طالبان پر بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔‘حسن عباس کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت کی تشکیل میں جنرل فیض حمید نے اہم کردار ادا کیا۔تاہم افغانستان میں پاکستان کے سفیر رہنے والے رستم شاہ مہمند اس بات کو درست نہیں مانتے۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور افغان اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق پاکستانی حکام کا خیال تھا کہ افغاستان میں طالبان کی واپسی کے بعد اب پاکستان تحریک طالبان ٹی ٹی پی پر گرفت کے ساتھ ساتھ ملک کی مغربی سرحد کافی محفوظ ہو جائے گی اور دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔لیکن صرف دو سال میں اسلام آباد کے یہ سارے خواب نہ صرف چکنا چور ہو گئے بلکہ کابل کو مسلسل تنبیہہ بھی کام نہ آئی۔حکومت پاکستان نے افغانستان کو کئی مرتبہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے کارروائی اور ان دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے کہا ہے لیکن افغانستان کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔

تاہم اب گذشتہ مہینے 29 ستمبر کو 12 ربیع الاول کے موقع پر مستونگ اور ہنگو میں خودکش حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کے نگراں وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اسلام آباد میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے یکم نومبر کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کی افغان پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی آ رہی ہے اور کیا پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو نکالنا ممکن ہو سکے گا؟

افغان امور پر گہری نگاہ رکھنے والے سینیئر صحافی اور پشاور میں انگریزی اخبار ڈان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اسماعیل خان نے حکومتی اعلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔’16 دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان کے نکات میں بھی یہ بات شامل تھی کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیجا جائے گا۔ لیکن اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا۔‘ان کے مطابق 2017 میں ایک بار یہی فیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے کام بھی ہوا اور سٹریٹجک پیپر بھی تیار کیا گیا لیکن پھر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے کام رک گیا۔’اس کے علاوہ اس کام کے لیے وسائل درکار ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو گرفتار کیسے کریں گے اور رکھیں گے کہاں؟‘اس سوال پر کہ کیا پاکستان کی افغان پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی آ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ابھی کیا ہو گا یہ بتانا مشکل ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک بات تو واضح ہے کہ اب ٹی ٹی پی سے بات نہیں کرنی اور افغانستان کی طرف سے بھی صرف باتیں ہی ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کی کابل کے سیرینا ہوٹل میں چائے پاکستان کو مہنگی نہیں پڑی؟ اسماعیل خان کا کہنا تھا کہ ’جنرل فیض کی پالیسی بہت مہنگی پڑی۔ یہ ایک آدمی کی پالیسی تھی اور انہوں نے کامیابی

نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی حقیقت کیا ہے؟

سے اسے جی ایچ کیو کو سِیل کیا۔ صرف ہم نے ہی نہیں طالبان نے بھی ہمیں استعمال کیا ہے۔‘

Back to top button