عثمان ڈار کا نیازی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ

سابق عمرانڈو عثمان ڈار کے توبہ تائب ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ ڈار بھی اعظم خان کی طرح عمران خان کے کالے کرتوت سامنے لانے کے بعد ان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا فیصلہ کر چکے ہیں جس کا عندیہ انھوں نے اپنے اِنٹرویو میں بھی دیا ہے کہ ان کو اگر عدالت نے طلب کیا تو وہ حقائق اور ثبوت عدلیہ کے سامنے رکھ دیں گے دوسری جانب سینئر صحافی مزمل سہروردی کا کہنا ہے یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ عمران خان کے قریبی لوگ ہی تھے جو انہیں ورغلا رہے تھے کہ ہم فوج کے اندر بغاوت بھی کروا لیں گے اور آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیر کو بھی ہٹوا لیں گے اور اپنی مرضی کا آرمی چیف لے آئیں لیکن ان کا سارا کھیل ناکام ہو گیا۔ جب اس طرح کی سازشیں ناکام ہوتی ہیں تو اس کی بڑی قیمت بھی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معافی نہیں ملتی خواہ وہ عثمان ڈار ہو یا عمران خان کسی کو معافی نہیں ملے گی۔
مزمل سہروردی کے مطابق تحریک انصاف کے سابق رہنما عثمان ڈار 9 مئی کے کیسز میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔نیا دور ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہ عثمان ڈار، شہباز گل، فواد چوہدری، مراد سعید اور حماد اظہر قومی سیاست کے جعلی پہلوان اورغنڈے تھے اور اب وہ بے نقاب ہو گئے ہیں۔ یہ تو وہ لوگ تھے کہ ان کے اندر کے فرعونیت ور رعونت ختم ہی نہیں ہوتی تھی اور یہ کسی کو انسان ہی نہیں سمجھتے تھَے۔ یہ تو پاکستان کے بدمعاش تھے۔ لیکن یہ اندر سے بزدل نکلے ہیں یہاں تک کہ کچھ دنوں کے لئے بھی دباؤ برداشت نہیں کر سکے.
تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا کہ اگر عثمان ڈار خود روپوش ہوئے تھے تو کیا ان کا بھائی ان کے اغوا کے حوالے سے جھوٹ بول رہا تھا اورجھوٹی پریس کانفرنسز کر رہا تھا؟ تو پھر ان کو جیل میں ڈالنا چاہیے۔ان کو این آر و نہیں ملنا چاہیے خواہ وہ جتنے مرضی انٹرویو دے دیں۔ تجزیہ کار نے کہا کہ عثمان ڈار نے انٹرویو میں تو کہہ دیا کہ میں ملوث نہیں تھا اور واپس چلا گیا تھا۔ راولپنڈی اور جی ایچ کیو کی طرف نہیں گیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہی ٹویٹ کیا تھا کہ ہم کینٹ کی طرف جارہے ہیں۔ یہ خود روپوش ہوئے تھے اور اب سچے ہونے کے لیے انٹرویو دے رہے ہیں۔ عثمان ڈار 9 مئی کے ہنگامے میں ملوث تھے اور فوج 9 مئی کے واقعے میں ملوث کسی شخص کو معاف نہیں کرے گی خواہ پریس کانفرنس کر لے یا انٹرویو دے دے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وہ تمام رہنما جو ان دنوں روپوش ہیں، آنے والے دنوں میں وعدہ معاف گواہ بن کر سامنے آئیں گے۔ تاہم ان کو اس صورت میں بھی معافی نہیں ملنی چاہیے۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اگر وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو کینٹونمنٹ تک لانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ آرمی چیف کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ عثمان ڈار نے حماد اظہر، اعظم سواتی، مراد سعید اور فرخ حبیب کے نام لیے اور کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے حامی تھے۔ تاہم، انہوں نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے نام نہیں لیے کیونکہ انہوں نے پریس کانفرنس کرنے کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ عثمان ڈار نے اور بہت سے لوگوں کے نام نہیں لیے۔ کچھ نام لینا اور کچھ چھپا لینا، یہ تو آدھاسچ ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ عمران خان کے قریبی لوگ ہی تھے جو انہیں سمجھا رہے تھے کہ ہم فوج کے اندر بغاوت بھی کروا لیں گے اور آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیر کو بھی ہٹوا لیں گے اور اپنی مرضی کا آرمی چیف لے آئیں۔ لیکن ان کا سارا کھیل ناکام ہو گیا۔ جب اس طرح کی سازشیں ناکام ہوتی ہیں تو اس کی بڑی قیمت بھی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معافی نہیں ملتی خواہ وہ عثمان ڈار ہو یا عمران خان۔
تجزیہ کار نے کہا کہ آج یہ لوگ سارا ملبہ عمران خان کے اوپر ڈال کر تو خود بری الزمہ ہو گئے ہیں۔ اگر عمران ‘دشمن پاکستان’ تھا تو ان کے سارے قریبی ساتھی اس کے سہولتکار تھے۔ اس لئے عثمان ڈار کو معاف نہ کیا جائے اور ان کے خلاف 9 مئی کے فسادات میں ملوث ہونے پر مقدمہ چلایا جائے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بیان دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ صدر عارف علوی کی جانب سے 90 دنوں میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے میں ناکامی پر مایوس ہیں۔ اس حوالے سے سوال کیا گیا تو مزمل سہروردی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان صدر عارف علوی سے مایوس ہیں لیکن اس کی وجہ انتخابات میں تاخیر نہیں
2024 میں الیکشن نہ ہوئے تو نواز شریف کا کیا بنے گا؟
ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ صدر نے سائفر ایکٹ اور ملٹری ایکٹ کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔
