2024 میں الیکشن نہ ہوئے تو نواز شریف کا کیا بنے گا؟

عمران خان کی سیاست پر ’کاٹا‘ لگ چُکا نواز شریف نے چند دن پہلے عوامی اُمنگوں کےمطابق جو بیانیہ اپنایا، شہباز شریف نے باقاعدہ طور پر اُسکا مکو ٹھپ دیا ۔’’ کیا نواز شریف کیلئے وزیراعظم بننا اتنا ہی اہم ہے کہ بیانیے کی قربانی دے ڈالی ۔ قوی امکان ھے کہ 2024 میں الیکشن نہیں ھوں گے ایسی صورتحال میں نوازشریف اپنا مقدمہ کس عدالت میں کس کیخلاف پیش کریں گے یا پھر الیکشن کی غیر موجودگی میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے آرام فرمائیں گے۔ یہ سوال سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے اپنے ایک کالم میں پوچھے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ آج مملکت سیاسی افراتفری، انتشاراور تباہی کے دہانے پر کھڑی ھے، جہاں بنیادی وجہ ستر سال سے اسٹیبلشمنٹ کی مملکت پر یلغار ھے وہاں سیاستدانوں کی باہمی چپقلش، خود غرضی نے بھی ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔ 17 اپریل 1953 کو وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو جب زور زبردستی ’’چلتا‘‘کیا گیا تو اگلے دن ساری کابینہ باجماعت پیچھے امام محمد علی بوگرہ کیساتھ حلف اٹھارہی تھی ۔ تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ۔ نواز شریف 21اکتوبر کو وطن واپسی کا ارادہ باندھ چُکے ہیں ۔ بظاہر اگلے منتخب وزیراعظم بننے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں ۔ پچھلی دفعہ جب بے توقیری کیساتھ اقتدار سے علیحدہ ہوئے تو’’ووٹ کو عزت دو‘‘، کا ملفوف مگر اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اُنکی عوامی مقبولیت کو ساتویں آسمان تک پہنچا گیا ۔’’ ووٹ کو عزت دو‘‘کیلئے 13 جولائی کو بیٹی کیساتھ جیل جا کر خاطر خواہ قربانی بھی دی ۔چار دن بعد 17 جولائی کو شہباز شریف نے ’’ـ خدمت کو ووٹ دو‘‘جیسا اچھوتا مزاحیہ بیانیہ متعارف کروا دیا کہ چشم تصور میں خوشحالی نے ووٹ دلوانے تھے مگر وہ نامراد ہی ٹھہرے۔

حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے چند دن پہلے عوامی اُمنگوں کےمطابق جو بیانیہ اپنایا، اگلے روز شہباز شریف نے باقاعدہ طور پر اُسکا مکو ٹھپ دیا ۔ انہوں نے فرمایا نواز شریف انتقام لینے نہیں ، زخموں پر مرہم رکھنے آ رہے ہیں ۔ وہ21 اکتوبر کو اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑیں گے‘‘ ۔ کیا نواز شریف کی واپسی کا سفرشہباز شریف کی حالیہ شعلہ بیانی کیساتھ مشروط ہے؟ یہ بات طے سمجھیں کہ اگر 2024 کے اوائل میں الیکشن ہو بھی گئے تو اگلے وزیراعظم نواز شریف ہی ہونگے کہ چارہ گر کے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کا سب سے بڑا سیاسی مخالف عمران خان ہی ہے ۔ مگر مضحکہ خیز صورتحال یہ ھے کہ اگلے الیکشن میں عمران خان کا وجود دور دور تک موجود نہیں ھو گا ۔ عمران خان کی سیاست پر بھی ’کاٹا‘ لگ چُکا ھے ۔ تو کیا نواز شریف کی تقاریر ایک تصوراتی اپوزیشن یا سائے کا پیچھا کریں گی؟

حفیظ اللّہ خان نیازی کے مطابق تحریک انصاف کی صورتحال یہ ھے کہ آج کی تاریخ میں’’قائدین اور نمایاں لوگوں کیلئےمحفوظ راستہ ایک ہی ھے کہ ، پارٹی چھوڑو ،معافی مانگو سیاست کو خیر باد کہو اور باقی زندگی اللہ کی یاد میں وقف کر دو ۔ اسکے علاوہ بھی کچھ آپشن میسر ھیں مثلاً روپوش ہو جاؤ ، زیرزمین چلے جاؤ یا داؤ لگے تو بیرون ملک فرار ہو جاؤ اور بقیہ عمر خواری میں گزارو یا پھر برضا و رغبت جیل اور عقوبت خانوں میں خرچ ہو جاؤ‘‘۔ تحریک انصاف کیساتھ کچھ بھی انہونی نہیں ہو رہی ۔ ملکی سیاسی تاریخ میں کئی دفعہ انقلابیوں کا ایسے مرحلوں سے پالا پڑا ہے ۔ عمران ریاض کی زندگی دن دہاڑے ایک چلتا پھرتا سبق ہے ، ۔PTI والوں کو اگر آزاد رہنا ہے تو ایک دن نو مئی کے خلاف بیان بطور جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ 2024 کا ممکنہ الیکشن پہلا الیکشن نہیں ہوگا جہاں مقبول سیاسی جماعت اور مقبول لیڈر کو بزور بازو الیکشن سے باہر یا شکست سے دوچارکیا جائے گا ۔ قبل ازیں، شیخ مجیب الرحمان سے لیکر نواز شریف تک، کئی بھگت چُکے ہیں
حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعے نے اسٹیبلشمنٹ کو ’’ ناقابلِ بیاں ‘‘ طاقتور بنا ڈالا ہے ۔ حالانکہ وہ ہمیشہ سے پسِ پردہ طاقت کا سر چشمہ رہی ھے ۔

9مئی کے بعد عملاً اقتدار جنرل عاصم منیر کو منتقل ہوچُکا ہے ۔ آج چارو ناچار آئین سے ماورا مملکت کا نظم و نسق اسٹیبلشمنٹ کی گرفت میں ہے ۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اس صورتحال سے چھٹکارا لے پائے گی ؟ یا عملاً شیر پر سوار ہے جس پر سے اُترنا نا ممکن رہے گا ۔ نواز شریف کی سیاسی مقبولیت کا راز اُنکا بیانیہ ہی تو تھا ۔ 2019 میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو یا اپریل 2022میں شہباز حکومت کا قیام ، نوازشریف کو بخوبی علم کہ اُنکی سیاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ چند دن پہلے جب نواز شریف نے وطن واپسی پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے حساب کتاب لینے کا مطالبہ کیا تھا تو شاید مقصدبدلہ نہیں تھا ۔ ایک دفعہ یہ کام ہو گا تو مملکت کی بنیاد صحیح خطوط پر رکھ دی جائے گی ۔ یقیناً نواز شریف نے یہ بات ’’دل پشوری‘‘کیلئے نہیں کی ، رائے عامہ کا دباؤ تھا۔ مگر سمجھ نہیں آئی کہ آخراسٹیبلشمنٹ کو اس پر بھلا کیوں اعتراض ہے؟ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو مثال بنا کر دیرینہ عوامی مطالبہ بھی پورا ہو جاتا جبکہ اپنے ہی ادارے کیخلاف سازش پر ان دونوں کو قرار واقعی سزا بھی مل جاتی ۔سخت مقبول بیانیے کی سیاست کا بوجھ ہماری قومی پارٹیاں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتیں۔

حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ اس میں دو رائے نہیں کہ عمران خان کو بھی جب کوئی مفاہمتی فارمولادیا گیا جس میں اُنکے اقتدار میں آنے کے امکانات ہوئے تو آئین کو تہہ بالا کرتے ہوئے وہ بھی اقتدار پکڑ لیں گے ۔ حیف ! نواز شریف نے بالآخر یہی اصول اپنا لیا ہے کہ اقتدار کے حصول کیلئے عملیت پسندی ضروری ہے۔نواز شریف کیلئے چند غور طلب باتیں ہیں 2024 میں قوی امکان ھے کہ الیکشن نہیں ہوں گے پھر ایسی صورتحال میں نواز شریف اپنا مقدمہ کس عدالت میں کس کیخلاف پیش کریں گے یا پھر الیکشن کی غیر موجودگی میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے آرام فرمائیں گے ؟ اگر تحریک انصاف کو زور زبردستی فارغ کر کے سیٹوں کی بندر بانٹ سے نواز شریف کو حکومت مل بھی گئی تو کیا وہ ایسے غیر سیاسی ماحول میں خوشحالی یااستحکام لا پائیں گے ؟ کیا ایسی حکومت یا بصورت دیگر نگران حکومت میں عملاً اصلاً حکمران اسٹیبلشمنٹ نہیں ہو گی؟ کیا نواز شریف مشروط وزیراعظم بن کر مقبول سیاست سے ہمیشہ کیلئے باعزت بَری ہونے پر تیار ہیں ؟ افسوس کہ سب سیاستدان خود غرض نکلے اور

عمران خان صدر علوی سے مایوس کیوں ہو گئے؟

اپنے لئے آئین و قانون سے ماورامشاغل ڈھونڈ نکالے۔

Back to top button