عمران خان صدر علوی سے مایوس کیوں ہو گئے؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی پانچ اگست کو گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی براہ راست بیان تو سامنے نہیں آیا البتہ وکلا اور ان سے ملاقات کرنے والے عمران خان سے منسوب بیانات میڈیا کے ساتھ شیئر کرتےرہتے ہیں۔عمران خان اب اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور بدھ کو ملاقات کرنے والوں میں ان کی بہن علیمہ خان بھی شامل تھیں۔ علیمہ نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد بروقت انتخابات نا کرانے پر عمران خان، صدر عارف علوی سے مایوس ہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنی بہن کے ذریعے جیل سے پیغام بھیجتے ہوئے صدر علوی کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے صدر علوی کو الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہئے تھا لیکن وہ ناکام رہے۔ علیمہ خان کے بقول عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ صدر عارف علوی کو ’اتنے اہم فیصلے پر اپنی قوم کے لیے کھڑا ہونا چاہیے تھا۔‘اس بیان سے تو یوں لگتا ہے کہ عمران خان کو دکھی کرنے والوں کی فہرست میں اب صدر عارف علوی بھی شامل ہو گئے ہیں۔
تاہم دوسری طرف صدر عارف علوی نے اپنی پارٹی کے چیئرمین کے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دی نیوز کی جانب سے بھیجے گئے ایک سوال کے جواب ایوانِ صدر نے صدر عارف علوی کا موقف شیئر کیا ہے اور ساتھ ہی وہ خط بھی شیئر کیا ہے جو انہوں نے الیکشن کمیشن کو 6؍ ستمبر کو لکھ کر کمیشن سے کہا تھا کہ عام انتخابات 6؍ نومبر یعنی قومی اسمبلی کی تحلیل کے 89ویں دن پر کرائے جائیں۔ اس خط میں صدر علوی نے اُن آئینی شقوں کا حوالہ بھی دیا ہے جن کے تحت الیکشن 90؍ روز میں کرانے کا کہا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر علوی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد سے وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کراچی کی قومی اسمبلی کی نشست پر اُن کا بیٹا الیکشن میں کامیاب ہو۔ عمران خان کی جانب سے جیل سے بھیجے گئے بیان کی وجہ سے ان کی سیاسی خواہشات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں اور اب ایوانِ صدر میں مزید قیام کے حوالے سے اُن کی بنیاد ہل چکی ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال جب عمران خان کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا تو نو مئی کو ان کی جماعت کے حامیوں اور مشتعل مظاہرین نے ملک کے مختلف علاقوں میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔پرتشدد مظاہرین کے خلاف جب حکومت کی طرف سے کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تو عمران خان کے بہت سے قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے اور جو اب ساتھ ہیں وہ بھی روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
پی ٹی آئی پر مشکل سیاسی وقت کے باوجود تحریک انصاف کی حمایت سے ایوان صدر تک پہنچنے والے صدر علوی ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش تو کرتے رہے ہیں تاہم وہ کارآمد نا ہوئیں۔ صدر عارف علوی نے جب نو اگست کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر اسمبلی تحلیل کی تو پی ٹی آئی کو امید تھی کہ اسی ساتھ ہی وہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔انہوں نے اس کی کوشش بھی کی اور ستمبر کے وسط میں صدر علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے نام اپنے خط میں کہا کہ آئندہ عام انتخابات آئین کے مطابق چھ نومبر 2023 کو ہونے چاہییں۔ تاہم الیکشن کمیشن نے صدر کی تجویز ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے الیکشن کی تاریخ نہ دی۔ انتخابات کے لیے تاریخ کے تعین کی تجویز سے قبل صدر علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا تاکہ الیکشن کی تاریخ بارے مشاورت کی جائے لیکن چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر کے خط کا جواب دیتے ہوئے ان سے ملاقات کو غیر ضروری قرار دے دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر سکتا ہے اور کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کر رہا ہے اور انتخابات جنوری 2024 کے اواخر میں کرا دیئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی واضح تاریخ نہ دینے پر پی ٹی آئی قیادت صدر ڈاکٹر عارف علوی سے سخت نالاں ہے۔جس کا اظہار عمران خان نے اب اپنے ملاقاتیوں سے کرنا شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی پانچ سالہ مدت آٹھ ستمبر کو مکمل ہو چکی ہے لیکن کیونکہ ملک کی منتخب اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں اس لیے آئین میں اس بات کی گنجائش ہے کہ عام انتخابات کے بعد نئے صدر کے انتخابات تک وہ اس منصب پر رہ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر کو سربراہ مملکت یعنی ملک کا آئینی سربراہ قرار دیا جاتا ہے اور صدر سے یہ توقع کی جاتی ہے وہ منصب سنبھالنے کے بعد خود کو سیاسی وابسگتی سے بالاتر رکھیں گے لیکن ڈاکٹر عارف علوی کے اکثر فیصلوں کے سبب سیاسی جماعتیں ان پر الزام لگاتی رہی ہیں کہ ایوان صدر میں بھی عارف علوی پی ٹی آئی ہی کے کارکن کا رول نبھاتے رہے ہیں۔ نو ستمبر 2018 کو صدر مملکت کا حلف اٹھانے والے عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر ہیں اور اب آئندہ عام الیکشن کے بعد نئے صدر کے انتخابات تک وہ ایوان صدر میں تو رہ سکتے ہیں ان اس اہم منصب اور ایوان صدر میں ان کا قیام کیسا رہا یہ تو وہ خود ہی بتا
پاکستانی روپے کو دُنیا کی بہترین کرنسی کا اعزاز کیسے ملا؟
سکیں گے لیکن جس جماعت یعنی تحریک انصاف نے انہیں یہاں بھیجا اس کے چیئرمین ان سے مایوس بھی ہیں اور دکھی بھی۔
