کیا عمران کے بعد پنکی پیرنی بھی گرفتار ہونے والی ہے؟

عمران خان کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی پر گرفتاری کے بادل منڈلانے لگے۔ قومی احتساب بیورو اور پولیس نے پنکی پیرنی کی گرفتاری کیلئے عدالتی فیصلوں پر نظریں جما لیں۔ مبصرین کے مطابق زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو قرین قیاس یہی ہے کہ جلد پنکی پیرنی اپنے موجودہ اور سابقہ شوہر کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگی۔ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی گرفتاری کے لئے نیب کو دو کیسوں جبکہ پولیس کو ایک کیس میں ان کی ضمانت منسوخی کا انتظار ہے۔ سابق خاتون اول نے اس وقت تین اہم مقدمات میں عبوری ضمانت کرا رکھی ہے۔ ان میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کا القادر ٹرسٹ کیس ، تو شہ خانہ کیس اور جعلی رسیدوں کا مقدمہ شامل ہے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیر سماعت توشہ خانہ کیس اور ایک سو نوے ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں بشری بی بی نے بارہ اکتوبر تک ضمانت لے رکھی ہے۔ جعلی رسیدوں سے متعلق تیسرا کیس بشری بی بی کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں چل رہا ہے اس کیس میں پنکی پیرنی سولہ اکتو بر تک عبوری ضمانت پر ہیں۔ ان تینوں کیسوں میں بشری بی بی کی عبوری ضمانتوں میں متعد د بار توسیع کی جاچکی ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں القادر ٹرسٹ کیس یا تو شہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے۔ ضمانت منسوخ ہوتے ہی نیب گرفتاری میں دیر نہیں لگائی جائے گی۔ بشریٰ بی بی اور ان کے اسیر شو ہر عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کی انکوائری اب انوسٹی گیشن میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ذرائع کے بقول دونوں میاں بیوی کے خلاف اس کیس میں نیب کے پاس نا قابل تردید شواہد موجود ہیں۔ القادر ٹرسٹ کیس یا توشہ خانہ کیس میں عبوری ضمانت خارج ہونے پر اگر بشری بی بی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ ان بعض پرانے نیب قوانین کی زد میں بھی آجائیں گی، جنہیں خود ان کے شو ہر عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے دوبارہ بحال کیا ہے۔ جیسا کہ سابق اتحادی حکومت نے نیب قوانین میں جوترامیم کی تھیں۔ ان میں سے ایک ترمیم کے ذریعے نیب کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ ویسے تو نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ تاہم اگر ایسا نہیں بھی ہے تو نیب ترامیم کا لعدم قرار دیئے جانے کے بعد اب گرفتاری کے لئے شواہد کی دستیابی ضروری نہیں رہی اور ماضی کی طرح انکوائری یا تفتیش کی اسٹیج پر ہی ملزم کو دھرا جاسکتاہے۔ نیب ترامیم کی ایک شق ایسی تھی جسے عمران خان نے چینج نہیں کیا۔
یہ ترمیم گرفتار ملزم کے نوے روزہ ریمانڈ کوکم کر کے 14 روز کے ریمانڈ میں تبدیل کرنے سے متعلق ہے۔ تاہم بعد ازاں اس میں مزید ترمیم کرتے ہوئے سابق حکومت نے اس مدت کو تیس دن تک بڑھا دیا تھا۔ چنانچہ بشری بی بی القادر ٹرسٹ کیس یا تو شہ خانہ کیس میں نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوتی ہیں تو تیس دن تک ضمانت نہیں کراسکیں گی۔ دوسری جانب تو شہ خانہ کیس میں نیب پراسیکیوٹرکو یہ شکوہ بھی ہے کہ ملزمہ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہی۔ بشری بی بی کو متعدد بار تو شہ خانہ کے زیورات پیش کرنے کا کہا گیا ہے لیکن اب تک انہوں نے یہ زیورات پیش نہیں کئے ہیں۔ خیال رہے کہ رواں برس کم از کم چھ بار بشریٰ بی بی کی متوقع گرفتاری کی خبریں چل چکی ہیں۔ ایک موقع پر تو خود پی ٹی آئی کے وکلا یہ یقین کر بیٹھے تھے کہ کسی بھی وقت سابق خاتون اول کو حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ اس وقت ان کے شوہر نامدار عمران خان ابھی گرفتار نہیں ہوئے تھے۔ شوہر موصوف اور مرید خاص کا بھی یہی خیال تھا کہ انہیں بیوی سمیت سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ لیکن ان کا یہ خوف بے بنیاد نکلا تھا۔ بعد ازاں پانچ اگست کو جب تو شہ خانہ فوجداری کیس میں سزا سنائے جانے پر آخر کار عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، تو اس وقت بھی بشری بی بی کو اپنی گرفتاری کا شدید خوف لاحق ہو گیا تھا۔ ذرائع کے بقول خود پی ٹی آئی کے وکلا نے ان کے اس خوف کو بڑھاوا دیا تھا۔ وکلاء ٹیم کا خیال تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد زمان پارک پر چھاپہ مارکر بشری بی بی کو بھی حراست میں لے لیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ گزشتہ ماہ تو شہ خانہ جعلی رسید کیس میں پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد سے بشریٰ بی بی کی گرفتاری مانگ لی تھی۔پولیس کا کہنا تھا کہ تو شہ خانہ جعل سازی کیس کے مقدمے کی تفتیش آگے بڑھانے کے لیے سابق خاتون اول کی گرفتاری مطلوب ہے۔ تا ہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر کے فوری گگرفتاری کا خطرہ ٹال دیا تھا۔
اس طرح کے معاملات کو قریب سے دیکھنے والے ایک سابق افسر کے بقول اس سے پہلے یہ ملین ڈالر سوال تھا کہ عمران خان کب گرفتار ہونگے؟ اب یہی بات بشری بی بی کے لئے کہی جارہی ہے۔ ان کے مطابق دراصل ہر چیز کی ایک ٹائمنگ ہوتی ہے۔ جس طرح آخر کار عمران خان گرفتار ہو گئے تھے۔ اسی طرح مناسب وقت پر پنکی پیرنی کی گرفتاری بھی عمل میں آجائے گی ۔ اور یہ مناسب وقت بہت نزدیک نہیں تو زیادہ دور بھی نہیں۔ ادھر لاہور میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی، بزدار دور حکومت میں تقر ر وتبادلوں کی مد میں رشوت وصولی کے اسکینڈل کی زد میں بھی آسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیر اعلی عثمان بزدار، بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا اور قریبی ساتھی فرح گوگی کے علاوہ اس دور میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات اہم بیورو کریٹس کے خلاف ایف آئی آردرج کر رکھی ہے۔ اس بارے میں بتایا جاتا ہے کہ بزدار دور میں بشری بی بی کی قریبی ساتھی فرح گوگی کوغیر قانونی ٹرانسفراور پوسٹنگ، رشوت اور کمیشن کی مد میں چار سو پچاس ملین روپے ادا کئے گئے ۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ بشری بی بی بھی اس کیس کی زد میں آسکتی ہیں۔ عثمان بزدار کے دور میں رشوت کے عوض ہونے والے ان تقر ر وتبادلوں کی مکمل فہرست تیار کی جا چکی ہے۔
