پاکستانی روپے کو دُنیا کی بہترین کرنسی کا اعزاز کیسے ملا؟

امریکی ڈالر کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے حکومت کے سخت اقدامات اور کریک ڈاؤن کے بعد پاکستانی روپیہ دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ گزشتہ سات ہفتوں میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح اسمگلنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف پرعزم کریک ڈاؤن کے باعث پاکستانی روپیہ ستمبر 2023 میں دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
خیال رہے کہ 31 اگست کو امریکی ڈالر 305.54 روپے تک جا پہنچ گیا تھا تاہم حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے سخت ترین اقدامات کے بعد ستمبر کے اختتام پر امریکی ڈالر واپس 287.74 پاکستانی روپے پر آ گیا ہے۔اس عرصے کے دوران پاکستانی روپیہ کی قدر میں 17.8 روپے اور 6.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اس قدر میں اضافے کے بعد ستمبر 2023 کے دوران پاکستانی روپیہ دنیا کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
اسی عرصے میں ہانگ کانگ ڈالر، موریشین روپیہ اور کینیڈین ڈالر جیسی دیگر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں ایک فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا روپیہ عالمی سطح پر سرفہرست کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی بن جائے گئی کیونکہ موجودہ نگراں حکومت نے ڈالر کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے جس سے روپیہ کی قسمت بدلنے میں مدد ملی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ستمبر کے مہینے کے دوران روپے کی قدر میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا جو ایک قابل ذکر اضافہ ہے کیونکہ امریکی شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کی قیاس آرائیوں کی وجہ سے تھائی بٹ اور جنوبی کوریا ئی وان سمیت بیشتر کرنسیوں میں ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔دوسری جانب معاشی ماہرین کے مطابق اوپن مارکیٹ میں غیر قانونی ذرائع سے حوالہ ہنڈی کی تجارت سے بھی بہت سی خرابیاں پیدا ہو رہی تھیں۔ جب امریکی ڈالر کی شرح میں تبدیلی آتی ہے، تو ہر کوئی چاہے وہ ذخیرہ اندوزہو یا برآمد کنندگان ہو، اپنی برآمدی آمدن کو بڑھانے کے لیے اپنے پاس اسٹاک ڈالر فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستانی حکومت نے ڈالر کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کو کٹہرے میں لانے کے اقدامات تیز کیے جس کے باعث پاکستانی روپیہ مضبوط ہوا۔
دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر سلطان پراچہ نے بتایا کہ ستمبر میں روپے میں تقریبا 6 فیصد بہتری آئی جو دنیا کی کسی بھی دوسری کرنسی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوج کے حمایت یافتہ کریک ڈاؤن کے بعد حالیہ ہفتوں میں ملک میں کم ہوتی ہوئی ترسیلات زر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ’غیر قانونی ترسیلات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نے گرے (کرنسی) مارکیٹ کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے، سٹے بازوں کو زیر زمین جانے پر مجبور کر دیا ہے اور ڈالر کی آمد اور اخراج کو آسان بنایا ہے۔سلطان پراچہ نے کہا کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ میں 30 روپے کے بڑے فرق کو بتدریج کم کرنے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں ڈالر کی منتقلی کے لیے بینکنگ اور دیگر قانونی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ متعدد برآمد کنندگان جنہوں نے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ میں بڑے فرق کی وجہ سے ادائیگیاں روک دی تھیں، نے بھی رقم جاری کرنا شروع کردی ہے۔
معروف ماہر اقتصادیات محمد سہیل کے مطابق روپے کی قدر میں اضافے کا تسلسل مستقبل کی معاشی پالیسیوں پر منحصر ہوگا۔مختصر مدت میں ہم قوانین پر عمل درآمد کروا کر ریگولیٹرز کی طرف سے جاری اقدامات کی وجہ سے روپے کی قدر کو
امریکا: ریپبلکنز نے ہاؤس اسپیکر کو عہدے سے ہٹادیا
مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔
