کن ججوں کو چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی منظور نہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دیانتداری سے چیف جسٹس پاکستان کے منصب کو فرعون بنانے والے اختیارات سے جان چھڑانے کے خواہاں نظر آرہے ہیں مگر ضروری نہیں کہ ان کے بعد اس منصب پر فائز ہونے کے حقدار جج بھی ان کی خواہش سے متفق ہوں۔ سپریم کورٹ کی براہ راست دکھائی جانے والی کارروائی کی بدولت ہم اس خواہش کا اظہار دیکھ بھی رہے ہیں۔ عوام کی منتخب کردہ پارلیمان نے جب بھی عدالتی اختیارات کو ضوابط کی لگام ڈالنا چاہی تو عدلیہ کے کئی بڑے نام اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت کے عزت مآب جج باہم مل کر یہ فیصلہ کریں گے کہ شہباز حکومت نے اقتدار چھوڑنے سے قبل سپریم کورٹ کے ازخود اختیارات کے بارے میں جو قانون بنایا تھا وہ عدلیہ کی آزادی کو محدود کرتا ہے یا نہیں۔ عمر عطا بندیال نے مذکورہ قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اس پر عمل کو تحریک انصاف کی درخواست پر روک دیا تھا۔ یہ مگر طے نہیں کر پائے کہ اسے برقرار رکھنا ہے یا نہیں۔پارلیمان کے بنائے قانون کو اگرچہ وہ اتنی وقعت دیتے تھے کہ بہت سوچ بچار کے بعد نیب قوانین میں متعارف کروائی ترامیم کو اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل ”شارٹ اینڈ سویٹ“فیصلے کے ذریعے کالعدم ٹھہرادیا۔

نیب کو اب ”بدعنوان سیاستدانوں“ کے خلاف وہی جابرانہ اختیارات میسر ہیں جو جنرل مشرف کے اکتوبر1999ءمیں لگائے مارشل لائ کی بدولت فراہم کیے گئے تھے۔ ان اختیارات میں سنگین ترین اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی ڈھٹائی سے خلاف ورزی کرتا یہ فیصلہ بھی شامل ہے کہ مبینہ طورپراپنی آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے والے شخص کو اپنی ”بے گناہی“ خود ثابت کرنا ہوگی۔نیب کے تفتیش کاروں اور عدالت میں بھیجے سرکاری وکیلوں کو اس ضمن میں مغزماری کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ حراست کے بعد نوّے دنوں تک ملزم کی ضمانت کے حصول کے لئے عدالت سے رجوع کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا تھا۔ ایسے جابرانہ اختیارات کے باوجود نیب وطن عزیز میں بدعنوانی کا خاتمہ تو دور کی بات ہے اسے کم کرنے میں بھی قطعاََ ناکام رہا ہے۔ عمر عطا بندیال مگر اس کے فرعونی اختیارات برقرار رکھنے کو مصررہے۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ کو پا رلیمان کے بنائے ایک اور قانون کے مقدر کا فیصلہ کرنا ہے۔مذکورہ قانون کی بدولت چیف جسٹس کے ازخود اختیارات کو لگام ڈالنے کی کوشش ہوئی ہے۔ازخود اختیارات پر براہ راست کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔گزشتہ حکومت کے دوران محض یہ قانون بنایا گیا تھا کہ ”عوامی مفاد“ میں کسی معاملے پر ازخود غور کرتے ہوئے چیف جسٹس محض اپنی بصیرت پر ہی انحصار نہ کرے۔سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججوں سے مشاورت کے بعد اس تناظر میں کوئی قدم اٹھائے۔ اس کے علاوہ دیگر معاملات پر بنچوں کا قیام بھی چیف جسٹس کی من مانی سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہوئی۔ جسٹس بندیال کے دور میں ”ہم خیال ججوں“ کا تصور ابھرا تھا۔ ان پر مشتمل بنچ کو کوئی معاملہ بھیجاجاتا تو لوگ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی طے کرلیتے کہ ”وہ کیا لکھیں گے “اور بدقسمتی سے عوامی خدشات ہمیشہ درست ثابت ہوتے رہے۔ فل۔کورٹ میں چیف جسٹس صاحب کے اٹھائے اس واجب سوال کا کوئی ایک محترم وکیل بھی سادہ اور دو ٹوک الفاظ میں جواب نہیں دے پایا کہ زیر بحث قانون نے اگرمبینہ طورپر چیف جسٹس کے اختیارات کو واقعی گھٹانے کی کوشش کی ہے تو اس کے بارے میں سب سے زیادہ فکر مند انہیں بحیثیت چیف جسٹس ہونا چاہیے تھا۔انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ان کے اختیارات کو قانون سازی کے ذریعے چند ضوابط کے تحت لانے کی کوشش ہوئی تو یہ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے بنیادی حقوق سے چھیڑچھاڑ کیسے ہوگئی۔

نصرت جاوید کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے اٹھائے اس کلیدی سوال کا جواب دینے کے بجائے زیر بحث قانون کے مخالف وکلاء آئین کی مختلف شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے ”عدلیہ کی آزادی میں مداخلت“ والے پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بادشاہی اختیارات کی خواہش ہر نوع کی اشرافیہ کی جبلت میں شامل ہوتی ہے۔ عزت مآب قاضی فائز عیسیٰ اگرچہ ”صوفی منش“ نظر آتے ہیں۔افتخار چودھری کی طرح انہیں قوم کی ”مسیحائی“ کا جنون بھی لاحق نہیں۔وہ دیانتداری سے چیف جسٹس کے منصب کی فرعون بناتے اختیارات سے جان چھڑانے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔یہ مگر ضروری نہیں کہ ان کے بعد اس منصب پر فائز ہونے کے حقدار جج بھی ان کی خواہش سے متفق ہوں۔

بنچ کی صدارت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے منگل کے دن ایسے کئی ریمارکس دئے ہیں جنہوں نے مجھ سادہ لوح کو یہ سوچنے کو اکسایا کہ وہ درحقیقت اپنے ہی چند ساتھیوں سے مخاطب ہیں۔اس ضمن میں سب سے چونکا دینے والے فقرے نے اس حقیقت کو نہایت دلیری مگر سادگی سے نمایاں کیاکہ ہماری سپریم کورٹ نے پاکستان میں لگائے مارشل لاءکو ”نظریہ ضرورت“ کے تحت واجب ٹھہرایا ہے۔عوام کی منتخب کردہ پارلیمان نے تاہم جب بھی عدالتی اختیارات کو ضوابط کی لگام ڈالنا چاہی تو عدلیہ کے کئی بڑے نام اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔
مارشل لاءکے روبرو آئین اور قانون کی بھاری بھر کم اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے وکلا ءاور ججوں کا ڈھیر ہوجانا ایک حوالے سے سمجھاجاسکتا ہے۔ پنجابی کا ”ربّ نیڑے کہ گھسن؟“ والا سوال اس ضمن میں حیران کن سادگی سے اصل وجہ بیان کردیتا ہے۔مارشل لائ سے ہٹ کر بھی تاہم ہماری تاریخ میں کچھ واقعات نمودار ہوئے ہیں جہاں چیف جسٹس کا ذاتی تعصب اور ترجیح ہی

قومی اسمبلی کے ایک دن کا خرچہ 6 کروڑ 65 لاکھ روپے؟

اصل ”آئین اور قانون“ ثابت ہوا۔

Back to top button