فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی حکومتی کوشش دوبارہ ناکام

عمران خان کابینہ کے ایک اہم وزیر کی دو اہم ترین عسکری عہدیداروں سے پس پردہ ملاقات کے بعد حکومتی کیمپ سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ

تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی نوبت نہیں آئے گی

اور معاملات اس سے پہلے ہی طے پا جائیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومتی نمائندے کی خفیہ ملاقات کا مقصد تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ملک کو سیاسی عدم استحکام اور انتشار سے بچانا تھا، لہذا حکومت کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ اگر حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے تو چھ ماہ بعد نئے الیکشن کروانے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کی اس ملاقات کے بعد حکومتی کیمپ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ چند اہم یقین دہانیوں کے عوض حکومت کو گھر نہ بھیجنے کی ضمانت مل گئی ہے اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد یا تو واپس لے لی جائے گی یا اسے ناکام بنا دیا جائے گا۔

تاہم دوسری جانب سیاست سے دوری اختیار کرنے اور نیوٹرل ہو جانے والے حلقوں نے اس تاثر کی سختی سے نفی کی ہے کہ ان کا حکومت اور اپوزیشن کی باہمی لڑائی میں کودنے کا کوئی ارادہ ہے یا ان کی جانب سے دونوں فریقین کے مابین مفاہمت کی کوشش کرنے کی کوئی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر اور دونوں عسکری شخصیات کی ملاقات کا ایجنڈا اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس کے حوالے سے امن و امان برقرار رکھنا تھا تاکہ بیرونی دنیا کو پاکستان کے بارے میں کوئی برا تاثر نہ جائے۔ چنانچہ اس ملاقات کے بعد اپوزیشن کی قیادت نے یہ اعلان کردیا کہ ان کے کارکنان اوراوآئی سی کانفرنس ختم ہونے کے بعد اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 28 مارچ کو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ممکنہ ووٹنگ سے ایک روز پہلے 27 مارچ کو اسلام آباد میں دس لاکھ لوگ اکٹھا کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے جواب میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنے کارکنان کو 25 مارچ کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی اس معاملے پر کسی ادارے کے ساتھ کسی طرح کے کوئی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے جلد اچھی خبر آنے کے دعوے بے بنیاد ہیں اور تحریک عدم اعتماد صرف اسی صورت میں رک سکتی ہے کہ عمران خان وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیں۔

دوسری طرف سینئر صحافی کامران خان کی جانب سے بھی ایک ویڈیو پیغام میں یہ دعوی کیا ہے کہ بہت جلد پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر آنے والی ہے اور ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے ایک درمیانی راستہ نکال لیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں نئے الیکشن اگلے سال کے شروع میں کروا دیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ کامران خان نے یہ دعویٰ راولپنڈی میں ہونے والی کورکمانڈرزکانفرنس کے فوراً بعد کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے اس کانفرنس میں اپوزیشن اور حکومت کے مابین کشیدگی کم کروانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم عسکری ذرائع نے سختی سے تردید کی ہے کہ کورکمانڈرز کانفرنس کے دوران کسی قسم کا کوئی سیاسی ایجنڈازیر بحث آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی ترجمان کی جانب سے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہونے کا اعلان واضح ہے اور ادارہ اس پر قائم ہے۔

یاد رہے کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غیر جانبدار ہو جانے اور اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں اور اپنا اقتدار بچانے کی خاطر دوبارہ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اسی لیے چند روز پہلے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے جبکہ انسان کھڑا ہونے کے لیے اچھائی یا برائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے۔ اب موصوف یہ فرماتے ہیں کہ 27 فروری کو دس لاکھ انسانوں کا سمندر برائی کے خلاف اچھائی کا ساتھ دینے کے لیے اسلام آباد پہنچے گا۔ یعنی خان صاحب خود کو اچھائی کی علامت اور اپوزیشن کو بدی کی قوتیں قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب فوجی قیادت اپنی غیر جانبداری کو جانور سے تشبیہہ دیے جانے کے باوجود نیوٹرل رہنے کے لیے پر عزم ہے۔ ایک وفاقی وزیر کی دو عسکری شخصیات سے ملاقات کے بعد اڑنے والی افواہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان میں کوئی صداقت نہیں۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع نے ملاقات میں مدد مانگنے کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ یہ مدد اپوزیشن کے خلاف حمایت حاصل کرنے یا کسی اور مقصد کیلئے طلب نہیں کی گئی تھی بلکہ اس کا مقصد عدم اعتماد کی تحریک کو واپس دلوانا، جلد انتخابات کی راہ ہموار کرنا اور اچھی طرز حکمرانی کیلئے اصلاحات لانا تھا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے یہ ملاقات نیک نیتی سے کی گئی اور اس کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام اور انتشار سے دوچار ہونے سے روکنا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر رابطے کے قیام کیلئے مدد کی ضرورت ہے تاکہ دونوں فریقین کو اکٹھے بٹھا کر مستقبل کے سیاسی روڈ میپ اور اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق کرایا جائے جس سے ملک کے عوام کا مستقبل اور پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ ہوگا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلانے پر اتفاق

انکا کہنا تھا کہ یہ کام کسی تگڑے اور قابل اعتبار ثالث اور ضامن کے بغیر ممکن نہیں۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک حکومتی عہدیدار نے واضح کیا کہ دونوں فریقین کے مابین مفاہمت کے نتیجے میں تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے جس کے عوض حکومت جلد انتخابات کا اعلان کرنے کے علاوہ اپوزیشن سے مل کر انتخابی اصلاحات بھی کر سکتی ہے۔ حکومتی عہدیدار نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر بات کریں اور معیشت، گورننس، ادارہ سازی، احتساب وغیرہ جیسے معاملات پر مل کر اتفاق رائے حاصل کریں تاکہ ملک کی سیاست بہتر ہو اور اچھی طرز حکمرانی اور پائیدار معاشی پالیسیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم دوسری جانب عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ تو انہیں اس طرح کی کوئی تجویز دی گئی ہے اور نہ ہی وہ ایسی کسی تجویز پر عملدرآمد بارے کوئی کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لہذا افواہیں اڑانے سے گریز کیا جائے۔

Govt attempt to drag the army into politics failed again

Back to top button