مسز سیرینا عیسیٰ نے کپتان کے پیاروں کو آگے کیسے لگایا؟

2023 میں ممکنہ طور پر چیف جسٹس بننے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اسٹیبلشمنٹ اور اسکے حواریوں کے مابین جاری جنگ میں تب تیزی آگئی جب ان کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ کی جانب سے نیب کو لکھے گے ایک خط میں بیرسٹر فروغ نسیم، شہزاد اکبر، انور منصور اور اشفاق خان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا گیا۔ انکے اس مطالبے پر آگ بگولہ ہو کر کپتان کے دو پیاروں فروغ نسیم اور شہزاد اکبر نے سرینا عیسیٰ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی مسز سرینا عیسیٰ نے فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کو غیر آئینی اقدامات پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبات کرکے ان کے لئے پریشانیاں کھڑی کر دی ہے۔

اس سے پہلے مسز سرینا عیسی نے ایک خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی جانب سے کراچی میں ان کی رہائش گاہ میں گھس کر انہیں دھمکانے کے خلاف بھی پولیس کو شکایت درج کروائی تھی۔ عمران خان کے پیاروں اور مسز جسٹس فائز عیسیٰ کے مابین تازہ چپقلش کا آغاز تب ہوا جب سرینا نے نیب چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل سے شکایت کی کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے منی بل کے ذریعے سیکشن 216 میں ایک غیر قانونی ترمیم کی ہے جو خود کو کارروائی سے بچانے کے لیے اختیارات سے تجاوز کرنے کا معاملہ ہے، لہذا وزیر قانون، سابق اٹارنی جنرل انور منصور، شہزاد اکبر اور اشفاق احمد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ان افراد نے پہلے اِنکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 216 کے برعکس میرے خلاف کارروائی کی۔ اب حکومت نے ان افراد کو میری ٹیکس کی معلومات بغیر کسی اختیار کے پبلک کرنے پر مجرمانہ کارروائی سے بچانے کے لیے فنانس سپلیمنٹری بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کر دی ہے۔

دو صفحات پر مشتمل خط میں سرینا عیسیٰ نے کہا کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے ان کے ٹیکس ریکارڈز کی رازداری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صرف خود کو مجرمانہ کارروائی سے بچانے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 216 میں ترمیم کے ذریعے ایک ایسے وقت قانون توڑا ہے جب قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جارہا تھا۔

یہ حالیہ ترمیم حکومتی عہدیداروں کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مستقبل میں سینئر عہدیداروں، ان کی شریک حیات اور بچوں یا بے نامی داروں کے خلاف فیصلے لیں۔ سرینا عیسیٰ کے خط میں وزیر قانون، سابق اٹارنی جنرل انور منصور، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ اور وزیر اعظم کے مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین محمد اشفاق احمد کو بطور جواب دہندہ نامزد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 216 رازداری کو یقینی بناتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اگر محکمہ انکم ٹیکس کے اہلکار کے علاوہ کوئی فرد ٹیکس دہندگان کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کرتا ہے تو اس عمل کو مجرمانہ جرم تصور کیا جائے گا۔

ہراسانی کا شکار ہونے والے لڑکا اور لڑکی بکری کیوں ہو گئے؟

سرینا عیسیٰ نے یاد دہانی کروائی کہ سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی کی درخواست میں انہوں نے فروغ نسیم اور شہزاد اکبر افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لہزا دونوں اہلکاروں کے خلاف ممکنہ فوجداری کارروائی کے امکان کے پیش نظر قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ترمیم شدہ قانون میں جو شق ڈالی گئی ہے اسے ہمیشہ سے شامل تصور کیا جائے گا، یہ اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ ان دونوں عہدیداروں نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 216 کے تحت جرم کیا ہے۔

سرینا عیسیٰ نے اپنے خط میں کہا کہ سیکشن 216 میں ترمیم کا مسودہ تیار کرنا، جو کہ ہرگز مالی معاملہ نہیں ہے، اور اسے فنانس بل میں شامل کرنا غیر قانونی اور بے ایمانی ہے۔اس طرح ایک اور جرم کا ارتکاب کیا گیا کیونکہ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 9 ’اے‘ کہتی ہے کہ اگر کوئی صاحب اختیار ٹیکس کے کسی معاملے میں فائدہ، احسان یا ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے تو وہ بدعنوانی کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ انہوں نے نیب کے چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 216 کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کریں۔

دوسری جانب وفاقی فروغ نسیم اور مرزا شہزاد اکبر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 17 جنوری کو انہیں سرینا عیسیٰ کی طرف سے لکھا گیا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے ہمیشہ کی طرح ان کے خلاف بے بنیاد، جعلی اور بدنیتی پر مبنی الزامات لگائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس خاتون اور ان کی پشت پر موجود لوگوں کے بے ہودہ الزامات کو کافی برداشت کر لیا ہے اور اب ایک باقاعدہ ہتک عزت کا نوٹس جاری کرنے اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اس کوشش کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فروغ نسیم اور شہزاد اکبر واقعی ہتک عزت کا دعوی دائر کرتے ہیں یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک گیدڑ بھبکی ہے۔

Back to top button