سستی سولر انرجی بھی عوام کے لیے مہنگی کر دی گئی

وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم کے مطالبے پر جہاں عوام پر مزید ٹیکسوں کی بارش کردی گئی ہے وہیں سولر سسٹم پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ یوں سستی بجلی پیدا کرنے کا یہ ذریعہ بھی عوام کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران توانائی کے بحران اور مہنگی بجلی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے صارفین میں سولر پینلز لگانے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے مگر اب حکومت نے اس آئیٹم پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر کے اسے بھی مہنگا کر دیا ہے جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔

پاکستان میں بات کاروبار کی ہو یا گھر کی، بلاتعطل بجلی کی فراہمی پاکستانیوں کیلئے ہمیشہ سے چیلنج ہی رہی ہے، کوئی جنریٹر استعمال کرتا ہے تو کوئی یو پی ایس لیکن دور حاضر میں شمسی توانائی کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جوکہ انتہائی کم قیمت میں سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی سے حاصل کی جانے والی بجلی کے نظام یعنی سولر پینلز کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور ایک اندازے کے مطابق 15 فیصد سے زیادہ گھر سولر پینلز کا استعمال کر رہے ہیں، سولر پینلز کا سب سے ذیادہ استعمال، یعنی 40 فیصد، اسوقت خیبر پختونخوا میں ہو رہا ہے، دوسری جانب ملک کے دیہی علاقوں میں شمسی توانائی کا استعمال شہری علاقوں سے زیادہ ہے، خیبر پختونخوا ایک بار پھر سرفہرست ہے جہاں اس کا استعمال 43 فیصد ہے، سندھ میں تقریباً 40 فیصد، بلوچستان میں 20 اور پنجاب میں تقریباً 8 فیصد ہے۔
پاکستان میں سولر انرجی کی جانب جانے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی نہیں بلکہ سستی اور بلا رکاوٹ بجلی کا حصول ہے، ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا خیال تو شاید ہی کسی کو آیا ہو، سولر پینل لگواتے ہوئے لیکن جو بڑی وجوہات ہیں وہ ہیں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت اور لوڈ شیڈنگ، لوگ اپنے مکان میں اپنا سامان بعد میں لاتے ہیں پہلے سولر پینلز لگواتے ہیں۔ 2000 کی دہائی کے وسط میں سولر پینلز کی جانب لوگوں کا رحجان بڑھنے لگا، جنریٹرز کی جگہ سولر پینلز نے لینی شروع کی لیکن 2010 میں شمسی توانائی کی جانب زیادہ لوگ جانا شروع ہوئے کیونکہ حکومت نے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں سولر پینلز کے استعمال کے لیے پالیسی بنائی جس میں سولر پینل کے صارفین شمسی توانائی سے بنی غیر استعمال شدہ بجلی واپس واپڈا کو بیچ سکتے تھے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ انرجی مکس کو پانچ فیصد سے بڑھا کر 2025 تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد تک پہنچایا جائے۔ حکومت نے سولر پینلز کی درآمد پر سے ٹیکس ختم کر دیئے، سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور یہ امرا کے علاوہ مڈل کلاس کی رسائی بھی اس تک ممکن ہوئی۔

حریم شاہ اور شیخ رشید کی دوستی کی کس طرح ہوئی؟

سستا سولر پینل اور اس کیساتھ نیٹ میٹرنگ کی سہولت کے باعث گھریلو صارفین میں اس کی مقبولیت ہوئی، حکومت نے مزید آسانی کے لیے نیٹ میٹرنگ کے لیے لائسنس لینے کے عمل کو کئی ماہ سے کم کر کے چند ہفتوں تک محدود کر دیا ہے، حال ہی میں نیپرا نے اعلان کیا کہ پانچ کلو واٹ تک کا نظام لگانے والے صارفین کو لائسنس کی ضرورت نہیں، پاکستان میں سولر پینلز کے استعمال میں اضافے کے باوجود پاکستان، چین اور انڈیا سے کہیں پیچھے ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے بہت ہی کم شرح پر بینکوں سے سولر سسٹم لگوانے کے لیے قرض لینے کے قدم نے مزید لوگوں کو اس جانب مائل کیا۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں سولر انرجی 20 سے 50 فیصد سستی ہوئی ہے۔

اس کی بڑی وجہ مختلف ممالک کی سولر انرجی دوست پالیسیاں ہیں۔ ایک جانب جب سولر انرجی کی جانب گھریلوں صارفین زیادہ سے زیادہ راغب ہو رہے ہیں جس کے باعث ملک کی پاور جنریشن پر سے دباؤ کم ہو رہا ہے، حکومت کی جانب سے سولر پینلز، انورٹرز اور دیگر سازو سامان پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ دانشمندانہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی نیشنل رینیو ایبل انرجی پالیسی کے بالکل برعکس فیصلہ ہے جس کے تحت 2030 تک انرجی مکس میں سولر انرجی کا شیئر 30 فیصد کا ہدف دیا گیا ہے۔

سولر پینل اور اس سے متعلقہ سازوسامان پر ٹیکس لگانے سے ایک بار پھر یہ ضرورت مڈل کلاس کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ کلین انرجی کی جانب حکومتی سفر سست پڑ جائے گا، مڈل کلاس کے لیے اس حکومتی قدم نے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ سستے اور غیر معیاری سولر سسٹم کی جانب جائیں۔

Back to top button