نئی حکومت عمران کی بنائی دلدل میں کیسے پھنسی؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ عمران خان کو اقتدار کی مدت پوری ہونے سے پہلے نکال کر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے ایک سنگین غلطی کی جس کے منفی نتائج اب سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں اور نئی حکومت عمران خان کی تخلیق کردہ معاشی دلدل میں تیزی سے دھنسنا شروع ہو چکی ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ سازش اندرونی تھی یا بیرونی، عمران کو حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ہٹانے کا فیصلہ اب نئی حکومت کے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک ایک آئینی اور جمہوری عمل سہی مگر سوقل یہ ہے کہ یہ جن لوگوں کی مدد سے لائی گئی، کیا اس سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے؟ شاید آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں کتنا غلط ’’کارڈ‘‘ کھیل گئی ہیں۔

مظہر عباس سوال کرتے ہیں کہ آخر ایسی جلدی کیا تھی۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ عمران خان آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے اپنے تئیں کوئی بڑا فیصلہ کر لیتے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ وہ آئندہ الیکشن اپنے پسندیدہ ’’ایمپائر‘‘ کے زیر سایہ لڑنے کی تیاری کررہے تھے۔ یہ بھی تھیوری ہے کہ وہ ریفرنڈم کروا کر ملک میں صدارتی نظام نافذ کر دیتے، تو سوال یہ ہے کہ کیا ماضی میں اس طرح کے آمرانہ اقدامات کے خلاف جدوجہد نہیں کی گئی جو اب نہیں ہو سکتی تھی۔ لگتا یہ ہے کہ آسان راستہ چُنا گیا اور یہ دیکھے بغیر کے آگے دلدل ہے۔ وہ اپوزیشن جو اکتوبر 2021 تک منتشر تھی اچانک متحد ہوگئی اور وہ حکومت جسے مہنگائی کا طوفان بہا لے جانے والا تھا، اچانک اُس ’’بھنور‘‘ سے نکل آئی، پی پی پی اور پی ایم ایل این کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں 9 اپریل 2022 کے بعد سے پی ٹی آئی پھر مقبول نظر آتی ہے، اسکی بڑی وجہ عمران کا بیرونی سازش کا بیانیہ ہے۔ عمران کے ساڑھے تین سالہ دور میں سیاسی انتقام کا بیانیہ زیادہ مضبوط ہوا اور کئی مقدمات صرف مخالفین کو ’’سبق سکھانے‘‘ کے لیے بنائے گئے۔

بقول مظہر عباس، یہ 2020 کی بات ہے جب پی پی پی اور PDM کے راستے اس بست پر جُدا ہوگئے کہ ایک طرف یوسف رضا گیلانی پہلے عمران کے ساتھیوں کی ’’مدد‘‘ سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ پھر چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہارے اور مسلم لیگ ن کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دینے کے بجائے خود لے اُڑے۔ دوسری طرف پی پی پی نے لانگ مارچ سے پہلے استعفوں کی مخالفت کردی تھی جو ایک مناسب رائے تھی مگر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن اجتماعی استعفوں کے حق میں تھے۔ اس معاملے پر نہ صرف دونوں کی راہیں جُدا ہوئیں بلکہ تلخیاں بھی بڑھ گئیں۔ پُرانے الزامات دوبارہ تازہ ہوگئے۔

لیکن عمران خان اس پوری صورتحال سے مطمئن تھے کیونکہ اُس وقت کے ’’ایمپائر‘‘ نتائج اُن کے حق میں دے رہے تھے۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے بلوچستان میں تبدیلی اور بلوچستان عوامی پارٹی کا بنایا جانا سب عمران کے مطابق ’’ضمیر کی آواز‘‘ تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) اُن کی نظر میں اچھی جماعتیں تھیں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی، ہارس ٹریڈنگ کی بدترین مثال تھی۔ میر حاصل بزنجو کے الفاظ آج بھی یاد ہیں کہ ’’ہم جیت کر بھی ہار گئے اور فیض یاب نہ ہوسکے‘‘۔ مگر خان صاحب کے لیے تب یہ سب درست تھا۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ جب کہانی پلٹی تو کل کے دوست آج کے دشمن ہوگئے۔ یہ بات عمران کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے اور شریف اور زرداری کے لیے بھی۔ خان صاحب کے لیے مشکلات کا آغاز تب ہوا جب پچھلے سال جولائی میں لاہور میں آصف زرداری اور چوہدری پرویز الٰہی کی ایک طویل ملاقات میں مستقبل کا ’’پاور شیئرنگ‘‘ فارمولا تیار ہوا جس کی اطلاع خان صاحب کو اُن کی انٹیلی جنس نے دی۔ حالات نے پلٹا کھایا تو شریف بھی چوہدریوں کے گھر پہنچ گئے۔ اسی دوران ترین اور علیم بھی کھل کر کپتان کے سامنے آگئے۔

ایسے میں یہ کہنا کہ عمران کے خلاف امریکی سازش ہوئی، عجیب لگتا ہے۔ خان صاحب سازش والی بات بھی تب تک چھپاتے رہے جب تک کھیل مکمل طور پر اُن کے ہاتھ سے نہیں نکل گیا۔ بقول مظہر، اتحادی ہوں یا پی ٹی آئی کے باغی، انہیں ناراض کرنے میں خان صاحب کے اپنے رویے کا خاصا ہاتھ ہے مگر اب عمران حکومت میں نہیں اور کل تک تیزی سے غیر مقبول ہونے والا کپتان اچانک توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور کل کی اپوزیشن حکومت میں آ کر دفاعی پوزیشن میں نظر آتی ہے۔ شدید ترین معاشی بحران کے باعث حکومت کے پاس آپشنز کم ہوتے جارہے ہیں۔ کل کون جیتے گا اور کون ہارے گا، یا پھر دونوں شکست کھا جائیں گے اور فاتح کوئی تیسرا ہوگا؟ یہ تو پتا نہیں البتہ اگر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو کھیل بھی اپنا ہونا چاہئے اور کھلاڑی بھی اپنے۔ سازش اندرونی ہو یا بیرونی، دونوں ہی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

Back to top button