پنجاب کی نگران حکومت کو کون محدود کر رہا ہے؟  

سینئر صحافی اور کالم نگار حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے معزز عدالتیں ہمیشہ عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ الگ قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ  انتظامیہ  عدالتی اختیارات استعمال کرنے کی مجاز نہیں ہے،اگر  یہ درست ہے تو  پھر یہی اصول ہماری معزز عدالتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آج ایک مرتبہ پھر ایگزیکٹیو کے معاملات میں مداخلت شروع ہوچکی ہے۔ پہلے لاء افسران کے معاملے پر پنجاب کی نگران حکومت کے جانب سے  جاری کردہ احکامات پر سٹے آرڈر  جاری کیا گیا اور اب ایک متنازعہ ترین شخص کو لاہور پولیس چیف کے طور پر بحال کردیا گیا ہے ۔

 اپنے ایک کالم میں حذیفہ رحمان کہتے  ہیں کہ 2008سے 2022 تک اگر مسلم لیگ نون  پنجاب میں ہونے والے اکثریتی ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوتی رہی تو اس کا کریڈٹ حمزہ شہباز کو جاتا ہے ۔مگر حمزہ شہباز کی بدقسمتی رہی کہ وہ غلط وقت پر وزیراعلیٰ بنے۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب بنے تب مسلم لیگ ن کا برا وقت چل رہا تھا،باقی رہی سہی کسر حمزہ شہباز صاحب کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم نے پوری کردی۔بہرحال پھر پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے ۔ چوہدری صاحب کے دور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کرپشن کا گڑھ بنا رہا۔مبینہ طور پر ان کے پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی پر ٹرانسفر پوسٹنگ اور ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا۔پنجاب میں زبان زد عام تھا کہ ڈی سی،ڈی پی او،کمشنر اور آرپی او کی تعیناتی کے ریٹ مقرر ہیں جس کے باعث پنجاب کے تمام اضلاع میں جرائم کی شرح اور محکمہ ریوینیو میں ریکارڈ کرپشن دیکھنے کو ملی ۔

حذیفہ رحمان بتاتے ہیں پرویز الٰہی کے اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد پنجاب میں نگران حکومت کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔قرعہ فعال معروف صحافی محسن نقوی کے نام نکلا۔تنقید کی گئی کہ ہر مرتبہ ایک صحافی کو ہی نگران وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنایا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں مسلسل تین نگران حکومتوں میں صحافی وزیراعلیٰ پنجاب بنے ہیں لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صحافی کسی بھی بیوروکریٹ کی نسبت زیادہ غیر جانبدار ہوتے ہیں کیونکہ بیوروکریٹس نے بلواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی حکومت کے ماتحت کام کیا ہوتا ہے اور ایک بیوروکریٹ چاہتے ہوئے بھی اپنی غیر جانبداری قائم نہیں رکھ سکتا۔صحافی بھی اپنی رائے یا بطور مالک اپنے ٹی وی چینلز میں جانبداری کا مظاہرہ کر جاتے ہیں مگر ایک تو وہ جانبداری مستقل نہیں ہوتی اور وہ افسرِشاہی کی نسبت زیادہ قابل قبول ہوتے ہیں۔اس لئے تحریک انصاف نے جن بیوروکریٹس کا نام دیا تھا ،ان میں سے ایک افسر تو ابھی ریٹائر ہی نہیں ہوئے تھے اور دونوں افسران نے مختلف حکومتوں میں کام کیا ہوا تھا۔اس لئے محسن نقوی کا نام ہر حوالے سے بہتر تھا۔بہرحال معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس پہنچا تو کمیشن نے متفقہ طور پر محسن نقوی کے نام پر اتفاق کیا۔

حذیفہ رحمان کے مطابق محسن نقوی صاحب نے پہلے ہی ہفتے میں اپنی سلیکشن کو درست ثابت کیا۔انتہائی اچھی شہرت کے حامل دیانتدار افسر سمیر احمد سید کو اپنا پرنسپل سیکریٹری تعینات کیا۔چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تعیناتی میں بھی بہترین افسروں کا چناؤ کیا گیا۔ان دونوں افسروں نے وزیراعلیٰ آفس کے ساتھ مل کر پنجاب میں انتظامی افسروں کی جو ٹیم تعینات کی،کوئی بھی جماعت ان افسروں کی دیانتداری اور قابلیت پر انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ محسن نقوی نے افسروں کی تعیناتی میں وہی پیمانہ مقرر کیا جو کبھی شہباز شریف کیا کرتے تھے۔ صوبے کے بہترین افسران کو آر پی او،کمشنر ،ڈی سی اور ڈی پی او تعینات کیا گیا۔آنیوالے دنوں میں ان تعیناتیوں کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہونگے۔آج ایک مرتبہ پھر ایگزیکٹیو کے معاملات میں مداخلت شروع ہوچکی ہے۔پہلے لاء افسران کے معاملے پر حکم امتناعی جاری کیا گیا اور اب لاہور پولیس چیف ایک متنازعہ ترین شخص کو بحال کردیا گیا ہے۔حالانکہ اگر جسٹس سجاد علی شاہ کے فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے معزز عدالتیں یہ کہتی ہیں کہ انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے سے جدا ہیں اور انتظامیہ عدالتی اختیارات استعمال کرنے کی مجاز نہیں ہے تو پھر یہی اصول ہماری معزز عدالتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

آخر میں حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ  میری تمام اداروں سے استدعا ہے کہ خدارا اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔انتظامیہ کو بھی کوئی حق نہیں ہے کہ عدالتی معاملات میں مداخلت کرے مگر عدالتوں کو بھی اپنے معاملات پر خود نظر ثانی کرنی چاہئے۔پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہے، اسلئے کوئی بھی عدالتی فیصلہ پارلیمنٹ سے سپریم نہیں ہوسکتا۔سسکیاں لیتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کیلئے تمام اداروں کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔

سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 196500 روپےہوگئی

Back to top button