عمران خان کو جیل میں حاصل تمام عیاشیاں ختم کرنے کا فیصلہ؟

توشہ خانہ اور سائفر کیس میں قید بامشقت کی سزا کے بعد عمران خان کو جیل میں میسر عیاشیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ عمران خان کو قید بامشقت کی سزا کے بعد دیسی گھی سے بنی مرغی، ایکسر سائز سائیکل اور ٹی وی سے محروم ہونا پڑے گا جبکہ عمران خان کو قیدیوں کا لباس پہنانے کے علاوہ برتن دھونے۔ ٹوپیاں سینے یا کھیتی باڑی جیسے کاموں پر لگایا جا سکتا ہے یا مشقتی“ کا رول بھی دیا جا سکتا ہے۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سائفر کیس میں دس برس جبکہ توشہ خانہ کیس میں اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت 14 سال قید با مشقت سنائے جانے کے بعد انھیں جیل میں دی گئی خصوصی مراعات واپس لے لی جائیں گی ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل خاص طور پر عمران خان کو دیسی گھی میں تیار دیسی مرغی کا سالن، ایکسر سائز سائیکل اور ٹی وی کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ اب نہ صرف عمران خان سے ایکسر سائز سائیکل واپس لی جائے گی۔ بلکہ انہیں گھر کے بجائے جبل کا کھانا دستیاب ہوگا ۔ جبکہ مختلف کام بھی کرنے پڑیں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق قید با مشقت پانے والے مجرموں سے مشتقت کے طور پر جیل میں مختلف کام کرائے جاتے ہیں۔ جس میں قیدیوں کے لئے کھانا پکانا، برتن دھونا، ٹوپیاں سینا، کھیتی باڑی اور دیگر چیزیں شامل ہیں ۔ عموماً پڑھے لکھے قیدیوں کو تعلیم دینے پر بھی لگا دیا جاتا ہے۔ سزا یافتہ شخص کو عام طور پر مشقتی یا بر داشتی“ کا رول بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں دوسرے قیدیوں کے لئے پانی بھرنا، ان کا ناشتہ تیار کرنا اور دیگر خدمات شامل ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان سے کون کی مشقت لی جاتی ہے۔ یہ جیل سپر نٹنڈنٹ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ قیدی سے کیا کام لے۔ یہ بات ملحوظ خاطر رکھی جائے کہ حال ہی میں عمران خان کی جیل سپر نٹنڈنٹ سے شدید جھڑپ ہوئی تھی ۔ اس تناظر میں پانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی رعایت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ سزا یافتہ ہونے کے بعد قیدی کو جیل کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ چنانچہ اب عمران خان اور شاہ محمود قریشی ، دونوں کو قیدیوں کا لباس پہننا ہوگا۔ جیل مینوئل سے واقف ایک ذریعے کے بقول جب تک کیس زیر سماعت تھا۔ عمران خان کے لئے قید کاٹنا اتنا دشوار نہیں تھا کہ انہیں گھر کا بنا کھانا مل رہا تھا۔ ٹی وی دستیاب تھا۔ ایکسر سائز سائیکل تھی اور ان کی چہل قدمی کے لئے دیوار گرا کر بیرک کشادہ کی گئی تھی۔ لیکن انہیں قید بامشقت سنائے جانے کا مطلب ہے کہ اب ان کا گھمنڈ اور غرور توڑا جائے گا۔ دوران سماعت قید کے مقابلے میں اب جو قید شروع ہونے جارہی ہے، اس کا ایک ایک دن ان پر بھاری ہوگا۔اسلام آباد میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی اصل سزا تو عمران خان کو سانحہ نومئی کے حوالے سے دائر کیسز میں ہونی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اس واقعہ کے دیگر ایک سو تین ملزمان کی طرح عمران خان کے خلاف بھی یہ کیس فوجی عدالت میں چلے گا۔ سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران کے پاس سزا کو براہ راست پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق ہے۔ تاہم فوجی عدالت کی سزا کے نتیجے میں پہلے اپیل ملٹری کی ہی ایک عدالت سنتی ہے اور بعد میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کا مرحلہ آتا ہے۔ یعنی اپیلوں کا یہ عمل طویل ہوتا ہے۔
سائفر کیس میں عمران خان کو سنائی جانے والی سزا کے قانونی پہلوؤں پر بات کی جائے تو بہت سے بقراطی تجزیہ نگار، خاص طور پر پی ٹی آئی کے وکلا اور ویلاگرز کا اصرار ہے کہ کیس کا فیصلہ جلد بازی میں سنایا گیا۔ تا ہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سائفر کیس کا فیصلہ کتنے ہی عرصے بعد سنایا جاتا۔ نتیجہ یہی آنا تھا۔ کیونکہ ساری شہادتیں عمران خان کے خلاف تھیں۔ وکیل جرح سے بھاگ نکلے تھے۔ سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، جسے عمران خان بڑا ایماندار شخص قرار دیتے تھے۔ اس نے حلفیہ بیان ریکارڈ کرایا۔ امریکہ میں سابق سفیر اور سابق سیکریٹری خارجہ کے حلفیہ بیانات نے بھی کیس مزید مضبوط کر دیا۔ پیچھے میرٹ کیا رہ گیا تھا۔ چنانچہ فیصلہ یہی آنا تھا۔ نواز شریف کے مقابلے میں تو پھر بھی عمران خان کو رعایت ملی کہ انہیں پاناما کیس میں سنائی گئی سزا میں اپیل کا حق نہیں ملا تھا ۔ کیونکہ سزا براہ راست سپریم کورٹ نے سنائی تھی ۔ اس کے برعکس عمران خان کے پاس اپیلوں کے تین فورم موجود ہیں۔ وہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔ جبکہ تیسرا آپیشن صدر مملکت سے رحم کی اپیل کا ہے۔ عمران خان کے اس حال تک پہنچنے میں جہاں ان کا اپنا ہاتھ ہے۔ وہیں ان کے وکلا اور سوشل میڈیا ٹیم نے بھی اس سارے معاملے میں تباہ کن رول ادا کیا ۔ خاص طور پر بیرون ملک لگژری لائف گزارنے والے سوشل میڈیا کے کرتا دھرتاؤں نے سارا انقلاب انٹرنیٹ پر بر پاکئے رکھا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ عملی طور پر گراؤنڈ میں کوئی نہیں نکلا۔ اس جعلی سوشل میڈیا مہم نے بانی پی ٹی آئی کے گھمنڈ کو تقویت دی اور عمران خان یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں اور کوئی انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ کیونکہ انہیں لاکھوں انقلابیوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ در حقیقت یہ انقلابی محض کی بورڈ وار ئیر تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے عمران خان کے اقتدار سے نکالنے کو ریڈ لائن قرار دیا گیا تو کوئی ہنگامہ بر پا نہیں ہوا۔ پھر بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دیا گیا۔ گرفتاری ہوگئی اور خاموشی چھائی رہی ۔ پھر انہیں سزا سنائے جانے کو ریڈ لائن قرار دیا گیا۔ اب قید با مشقت سنادی گئی ہے تو پھر بھی ان نام نہاد انقلابیوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اس سزا پر ملک کے کسی کونے سے احتجاج کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ البتہ انٹر نیٹ پر طوفان انقلاب و احتجاج بر پا ہے۔ تاہم عملی طور پر باہر نکلنے کو کوئی تیار نہیں۔ عمران خان کو سزا ستائے جانے کے بعد بھی تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم نے ایک ہنگامی اسپیس ” کا بندوبست کیا۔ اس اسپیس کے شرکا یہ دور کی کوڑی لاتے رہے کہ عمران خان کو سائفر کیس میں صرف دس برس قید با مشقت سنائی گئی اور پھانسی کی سزا سنانے سے اس لئے اجتناب کیا گیا کہ پھر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ نکلتا اور یوں پوری دنیا کو عمران خان کی مقبولیت کا ثبوت مل جاتا۔ شاید اسی نوعیت کی مخلوق کے لئے غالب نے کہا تھا حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں”۔ *
