سپریم کورٹ عمران کی سہولتکاری کی بجائے انصاف کرے

عدالت کا کام آئین میں اپنی خواہش و منشا یا کسی اہم شخصیت کے فوائد میں ترمیم کرنا نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق تشریح کرنا ہوتا ہے۔آئین میں ترامیم کرنے کا طریقہ واضح ہے۔ اگر آئین کے کسی آرٹیکل میں ترمیم کرنا مقصود ہو تو قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے ترمیم کی جا سکتی ہے اور عدالت کو چاہیے کہ موجودہ کشمکش اور سیاسی محاذ آرائی میں اپنی آئینی ساکھ کو برقرار رکھتے ہوئے معمول کے مطابق اپنی رائے کو آئین کی تشریح تک محدود رکھیں۔
ان خیالات کا اظہار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے انڈیپینڈنٹ اردو کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ کنور دلشاد مزید کہتے ہیں کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے کیونکہ سیاسی اور انتخابی معاملات پارلیمان کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ کنور دلشاد کے بقول پاکستان اپنے وجود کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس بھنور سے نکلنے کے لیے پاکستان کا سیاسی نظام تبدیل کرنا ہو گا اور ازسرِ نو آئینی اصلاحات کمیشن بنا کر عوامی مفاد کے تحت ترمیم کر کے ملک میں ایسا انتخابی نظام وضع کیا جانا چاہیے، جس سے ملک میں جاری استحکام پیدا ہونے کے اثرات سامنے آئیں اور انتخابی نتائج کو سٹیک ہولڈرز تسلیم کر کے ملک میں مضبوط سیاسی حکومت تشکیل دی جائے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے ایسا طریقہ وضع کیا جائے کہ کسی بھی جماعت کی طرف سے تحفظات کا اظہار نہ کیا جائے۔ ملک میں صاف گو، جاندار اور باوقار شخصیت کا فقدان نہیں ہے، صرف نیک نیتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ملک کے انتخابی بحران کے حل کے لیے فل کورٹ تشکیل دے کر انتخابی شیڈول کا متفقہ فیصلہ کیا جائے اور اسی سال مقررہ مدت میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن حسب روایت کروا کے آئین کے آرٹیکل 218 (3) اور الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 57 اور 58 کے مطابق الیکشن کمیشن کو آئینی طور پر اہم ذمہ داری سپرد کی جائے۔
کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت ایک اہم شخصیت کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان کا فیصلہ بروقت کر دیا جائے اور الیکشن کمیشن میں جو ناکام ترین کرپٹ پریکٹس اور توہین الیکشن کمیشن کے مقدمات زیرسماعت ہیں، ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عدالت الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہ کرے اور آئین کے آرٹیکل 46، 48 اور دیگر آئینی طریقہ کو بروئے کار لایا جائے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے الیکشن کمیشن کی خود مختاری کے حوالے سے جو خطوط سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وزیراعظم کو لکھے ہیں، اس پر بھی معزز چیف جسٹس آف پاکستان کو ذاتی طور پر ان خطوط کا مطالعہ کر کے کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہیے۔پاکستان کے انتخابی نظام نے سوائے بدعنوانی، قرضے معاف کروانے اور بیرونِ ممالک اثاثے بنانے کے قوم کو کچھ نہیں دیا۔ اس آئین شکنی کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔
کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ شکست آرزو، فکر و انتشار اور مایوسی کے باعث پورے پانچ سالوں کے بعد ہمارے قدم ایک بار پھر خستہ حال مکینوں کی طرح گرد آلود ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے 1973 کا آئین مرتب کرتے وقت شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو ان اختیارات سے محروم رکھا گیا۔
ملک میں سیاسی انتشار نہایت تشویش ناک ہے۔ معاشی استحکام اور عوام کی خوشنودی کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہے۔ سیاسی عناصر کے مابین اقتدار کی رسہ کشی کی وجہ سے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی صورت حال بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
کنور دلشاد کے مطابق پنجاب اور دیگر صوبوں میں بمعہ قومی اسمبلی کے الیکشن 15 اکتوبر کو ہی متوقع ہیں۔ 12 اگست کو قومی اسمبلی اور 15 اگست کو صوبہ سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی اور اس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کے 22 مارچ کے فیصلے کو ہی بروئے کار لایا جائے گا، یہی الیکشن ایکٹ کی دفعہ 58 کا حصہ ہے۔
