کیا عمران خان اب ساری عمر نفسیاتی مریض ہی رھیں گے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار بلال غوری نے کہا ہے کہ عمران خان بلاشبہ نے شہزادوں کی سی زندگی بسر کی اور اس دوران ان گنت چاہنے والوں نے ان پر اپنی محبتیں اور عقیدتیں نچھاور کیں ، اپنا تن ،من اور دھن قربان کیا۔لیکن پھر کسی خوبصورت حسینہ کی بددعا اثر کرگئی اور وہ اپنی ذات کے حصار میں مقید ہوگئے توشہ خانہ کیس کے مجرم عمران خان کی اٹک جیل کی اسیری تو کسی نہ کسی روزختم ہو ہی جائے گی لیکن کپتان خود پرستی کی قید سے کب آزاد ہوں گے؟شاید کبھی نہیں،کیونکہ وہ نرگسیت کا چلتا پھرتا اور جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ بلال غوری اپنی ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ ماہرین نفسیات اِس بات پر متفق ہیں کہ ’’نرگسیت‘‘ نامی نفسیاتی بیماری کی 9 علامات ہیں، اگر کسی شخص میں کم از کم 5نشانیاں پائی جاتی ہیں تو یہ مان لینا چاہئے کہ وہ شخص اِس نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہے۔ پہلی علامت ہے اپنی افضلیت کے بے پایاں احساس میں مبتلا ہونا۔مثلاً میں اسمارٹ ہوں ،میرے جیسا کوئی نہیں،مجھے کسی چیز کی کمی نہیں،میں کسی کا محتاج نہیں ،دوسروں سے افضل ہونے کا مغالطہ جسے احساس برتری کہا جاتا ہے، اس کے بارے میں ماہرین نفسیات واضح کر چکے ہیں کہ احساس برتری بھی دراصل احساس کمتری کی ایک شکل ہے ۔اس غلط فہمی کی کوکھ سے ایک اور مغالطہ جنم لیتا ہے جو ماہرین کے خیال میں ’’نرگسیت ‘‘کی دوسری بڑی علامت ہے اور وہ ہے ہر چیز پر اپنا حق جتلانا۔ اگر یہ کسی ٹیم کا حصہ ہوں تو خود کو کارکردگی اور محنت کے ذریعے قیادت کا حقدار ثابت کرنے کے بجائے اس واہمے میں مبتلا رہتے ہیں کہ یہ تو ان کا پیدائشی حق ہے۔وہ خود کو ہر منصب کا حقدار گردانتے ہیں ، اس کے حصول کیلئے جائزیا ناجائز کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتے کیونکہ ان کی دانست میں جس چیز پر حق ہے اسے صحیح یا غلط طریقے سے حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ’’نرگسیت ‘‘کی تیسری علامت یہ ہے کہ جب یہ خودپسند لوگ کوئی عہدہ ،منصب یا اختیار حاصل کرلیتے ہیں تو کامیابی اور طاقت سے متعلق غیر حقیقت پسندانہ رویئے کا شکار ہوجاتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک شخص قاصد رکھے جانے کے قابل نہیں ،کسی کے دستِ شفقت کے باعث اسے چیف ایگزیکٹو لگا دیا گیاہے تو وہ اپنے اختیارات اور طاقت سے متعلق گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے گا۔وہ یہ سمجھنے لگے گا کہ واقعی سب اس کے ماتحت ہیں. بلال غوری کہتے ہیں کہ نرگسیت‘‘کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگ چاہے اور سراہے جانے کی بے پناہ خواہش میں مبتلا ہوتے ہیں۔انہیں تعریف و توصیف ،خوشامد اورچاپلوسی نہ صرف پسند آتی ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر پل ،ہر قدم پر ان کی مدح سرائی بھی کی جائے،لوگ ان کی شخصیت کو جاذب نظر قرار دیں ،ان کے انداز گفتگو پر دادکے ڈونگرے برسائیں۔پانچویں علامت یہ ہے کہ وہ تعلق اور رشتہ نباہنے کے قائل نہیں ہوتے،ان کے نزدیک کسی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔چھٹی نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگ سفاکیت کی حد تک بے رحم اور ہمدردی کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ ساتویں علامت یہ ہے کہ یہ مغرور اور گھمنڈی ہوتے ہیں۔کمزور کو خاطر میں نہیں لاتے اور طاقتور کے آگے جھکنے میں عار نہیں سمجھتے۔آٹھویں نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگ خود کو باقی سب سے انوکھا اور منفرد خیال کرتے ہیں۔’’نرگسیت‘‘کی نویں علامت یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنی ذات کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں،سب کچھ تباہ و برباد ہوجانا چاہئے بلال غوری کہتے ہیں کہ اتنا کچھ بتانے کے بعد خیال آیا کہ یہ سب تفصیل بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی،میں عمران خان کاذکر کردیتا تو قارئین نرگسیت کا مفہوم جان لیتے . خیال آتا ہے کہ اٹک جیل کی اسیری تو کسی نہ کسی روزختم ہو ہی جائے گی لیکن کپتان خود پرستی کی قید سے کب آزاد ہوں گے؟
قومی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر اور موجودہ کرکٹر پیپلز پارٹی میں شامل
شاید کبھی نہیں،کیونکہ وہ نرگسیت کا چلتا پھرتا اور جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔
