نواز شریف کا ستمبر میں پاکستان واپس آنے کا فیصلہ

قومی اسمبلی کی تحلیل اور ملک میں عام انتخابات کا طبل بجنے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں میدان میں اترنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن نے جہاں انتخابات بارے اپنے بیانیے اور نعرے کو حتمی شکل دینی شروع کر دی ہے وہیں دوسری طرف نواز شریف کی واپسی کا شیڈول بھی طے کر لیا ہے۔ ماضی قریب میں نواز شریف کی واپسی بارے مختلف دعوؤں کے بعد اب مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے دعوی کیا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف اگلے ماہ پاکستان واپس آئیں گے اور پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔

خیال رہے گی اس سے پہلے مسلم لیگ نون کے مختلف رہنما نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے مختلف دعوے کر چکے ہیں لیکن کوئی بھی دعوی سچ ثابت نہ ہو سکا ذرائع کا دعوی ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھی اور اب چونکہ اگلے ماہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں اس لیے نواز شریف کی وطن واپسی کا حتمی شیڈول طے کیا جا رہا ہے۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نگران حکومت کی جانب سے باگ ڈور سنبھالنے کے بعد میں لندن جانے کا ارادہ رکھتا ہوں جہاں میں نواز شریف کے ساتھ وطن واپسی کے پروگرام کو حتمی شکل دوں گا، اگر اللہ نے چاہا تو وہ اگلے ماہ پاکستان واپس آجائیں گے۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو کرپشن کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد علاج کے لیے نومبر 2019 میں بیرون ملک روانہ ہوئے تھے، اس کے بعد سے وہ وطن واپس نہیں آئے اور انہیں پاکستان میں متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔

دوران انٹرویو جب شہباز شریف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا نگران حکومت نواز شریف کی وطن واپسی پر مسائل پیدا نہیں کرے گی تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ نواز شریف قانون کا سامنا کریں گے، نہ وہ توپ پہنیں گے، نہ کوئی بالٹی پہنیں گے، نہ کوئی جادو ٹونا اور نہ ہی کوئی پھونکیں وغیرہ کریں گے، وہ آ کر قانون کا سامنا کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انشااللہ نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے اور اگر مسلم لیگ (ن) انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی تو وہ چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔

خیال رہے کہ اگلے ماہ نواز شریف کی متوقع واپسی ایک ایسے موقع پر ہو گی جب چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال ریٹائرمنٹ قریب ہو گی جہاں مسلم لیگ (ن) کے اکثر رہنما موجودہ چیف جسٹس کو اپنے قائد کی واپسی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے جون میں الیکشنز(ترمیمی) ایکٹ 2023 کی منظوری دی تھی جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یکطرفہ طور پر انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور کسی قانون سازوں کی نااہلی کی مدت پانچ سال تک محدود کردی گئی تھی، ناقدین نے اس ترمیم کو نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کا ایک حربہ قرار دیا تھا۔اپوزیشن کی جانب سے اس بل کو ایک خاص شخص کے لیے کی گئی مخصوص قانون سازی قرار دیا جس سے ممکنہ طور پر نواز شریف اور نو تشکیل شدہ استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر خان ترین کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے، دونوں کو پانچ سال قبل سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں سال جون میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 1986 میں میڈیا ہاؤس کے مالک کو پلاٹوں کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق ریفرنس میں بھی بری کر دیا تھا۔یہ ان متعدد کیسز میں سے ایک تھا جس میں سے مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد شریف خاندان کے ارکان

قومی اسمبلی تحلیل، نگران وزیر اعظم پر تاحال اتفاق نہ ہو سکا

کو کلیئر کر دیا گیا تھا۔

Back to top button