عمران خان نے 60 فیصد فوج کی حمایت کا شوشہ کیوں چھوڑا ؟

سینئر صحافی شکیل انجم نے کہا ھے کہ فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی خواہش پر مبنی اپنی گمراہ کن اور منفی سوچ کی بنیاد پر عمران خان نے ایک بار پھر اڈیالہ جیل سے شوشہ چھوڑا ہے کہ فوج کی 60 فیصد تعداد تحریک انصاف کی حامی ہے، مطلب یہ کہ فوج کی اکثریت عمران خان کے شرپسندی، بغاوت، سول نافرمانی، اور ریاست اور فوج سمیت دوسرے ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی نفرت انگیز پالیسی کے کمزور سیاسی ڈھانچہ کو درست قراردیا ہے؟کیا عمران خان کا یہ دعویٰ قطعہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اپنے ایک کالم میں شکیل انجم کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے وہ شیدائی جنہوں نے اپنی زندگیاں اور مستقبل عمران خان پر قربان کر دئیے ان کے لیڈر نےخود کو بے گناہ اور معصوم ظاہر کرنے کے لئے انہیں تنہا چھوڑ کر ان سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لی ہیں عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ 9مئی کے واقعہ میں توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کو CCTVکیمروں کے ذریعے شناخت کیا جائے اور گرفتار کر کے ان کے خلاف اسی انداز میں کارروائی کی جائے جیسے امریکی پارلیمنٹ ہاؤس کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کی گئی تھی۔ شکیل انجم کہتے ہیں کہ اس خدشہ کے پیش نظر کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز الیکشن جیتنے کی صورت میں کسی دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں گے لہذا عمران خان نے پی-ٹی-آئی کی قیادت کو ہدائت کی ہے کہ پارٹی امیدواروں کو پی-ٹی-آئی سے وابستہ رکھنے کے لئے ان سے قرآن پر حلف لے کر وڈیو ریکارڈنگز محفوظ کر لی جائیں۔۔عمران خان اس سے زیادہ سنگین ردعمل کا اظہار نہیں کرسکتے تھے ۔ انہوں نے اپنے امیدواروں اور کارکنوں پر عدم اعتماد اس لئے کیا ھے کیونکہ وہ خود کو جیل میں بے بس، مجبور اور بے اختیار سمجھتے ہیں۔ ان کی پارٹی وکیلوں کے قبضے میں ہے جو خود آپس میں بھی سنگین اختلافات کا شکار ہیں پارٹی کی بجائے اپنے اپنے منشور پر عمل پیرا ہیں اوراس حوالے سے پارٹی قائد سے مشاورت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے نتیجتاً پارٹی کی عارضی قیادت کی پراسرار حکمت عملی کی وجہ سے پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہے کیونکہ عارضی قیادت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے پارٹی کارکنوں کو غلام سمجھتی اسی وجہ سے ورکرز کے قرب سے بھی محروم ہے۔شکیل انجم کے مطابق اگرچہ یہ تاثر عام ہے کہ وقت کے ساتھ اپنی ہمدردیاں اور سوچ تبدیل کرنے والے مخصوص سوچ کے حامل لوگ اس امید پر عمران خان کے ساتھ کسی نہ کسی انداز میں کھڑے رہے کہ شائد کوئی معجزہ رونما ہو اور اچانک سیاسی منظر تبدیل ہو جائے، عارضی وکلا قیادت نے اپنی اپنی پسند کے لوگوں کو الیکشن کے ٹکٹ بانٹے لیکن شومئی قسمت کہ اچانک منظر بدلا اور پارٹی اپنے اصل نشان بلے سے محروم ہو گئی اور الیکشن کمیشن نے پارٹی کا نشان دینے کی بجائے پی-ٹی-آئی کے ہر امیدوار کو انفرادی نشانات جاری کردئیے۔اب "خدا ہی ملا نہ وصال صنم”والی صورت حال پیدا ہوگئی لیکن انتخابات میں حصہ لینا ان کی مجبوری بن گئی کیونکہ انہوں پانچ پانچ کروڑ روپے کی بھاری قیمت ادا کرکے ٹکٹ خریدے تھے اور ہر قیمت پر اپنی رقم کی واپسی چاہتے تھے لہٰذا انہوں آزاد حیثیت میں علیحدہ علیحدہ انتخابی نشانات کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے میں ہی عافیت جانی۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی ماضی میں قائم کی گئی روایات کے تناظر میں تمام تر سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف کی سیاست کی بنیاد امن پر نہیں بلکہ تشدد پر استوار ہے اور تشدد کا عنصر غیر اعلانیہ طور پر ان کے منشور کا عملی جزو ہے۔پرتشدد رویہ، گالی کی سیاست اور عدم برداشت نوجوان نسل کی سیاسی تربیت کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ تشدد کی یہ پالیسی انتخابات کے دوران اور اس سے قبل دکھائی دے گی جب تحریک انصاف کے گمراہ پیروکار اپنے سیاسی مخالفین کی سرعام تضحیک کریں گے،ان کے گھروں پر حملے کریں گے، آگ لگائیں گے، پولنگ دفاتر پر قبضے ہوں گے، ناپسندیدہ پولیس، الیکشن کمیشن اور سرکاری عمارتوں پر حملے ہوں گے لیکن حسب معمول ان شرپسندوں کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کرنے کی بجائے کہیں سے مذمتی بیان کے بعد سوشل میڈیا پر "لیول پلینگ فیلڈ” کا شور اٹھے گا اور حکومت کی جانب سے معذرت خواہانہ خاموشی سے ریاست دشمنوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور تحریک انصاف کسی خوف اور رکاوٹ کے بغیر اپنی پرانی روش پر چل پڑے گی۔

Back to top button