عمران خان کو سزا، کیا پی ٹی آئی مکمل وڑھ گئی ہے؟

عام انتخابات میں اب بمشکل ایک ہفتہ قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کو سائفر اور توشہ خانہ سمیت دو بڑے مقدمات میں سزا سنائی جاچکی ہے، جس کے بعد اس سوال نے جنم لیا ہے کہ عام انتخابات سے قریب ایک ہفتہ قبل آنے والے فیصلوں سے کیا پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس ہوگا یا متحرک؟ اور ان فیصلوں کا انتخابات اور پارٹی کے مستقبل پر کیا اثر ہوگا؟ کیا عدالت کی جانب سے عمران خان کو لمبی سزائیں سنائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کا مستقبل مکمل تاریک ہو چکا ہے؟
انتخابی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو الیکشن کے نزدیک سزا ہونے کے باعث مذکورہ جماعت کے ووٹرز بددل ہو سکتے ہیں اور وہ ووٹ دینے سے اجتناب کر سکتے ہیں۔پاکستان میں ماضی میں انتخابات کے نتائج اس حد تک متنازع رہے ہیں کہ اس مفروضے کو جانچنے کا کوئی ٹھوس طریقہ کار نہیں ہے اور بعض ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ حربہ اس کے برعکس ووٹرز کو ووٹ دینے پر اکسا بھی سکتا ہے۔بعض مبصرین سنہ 2018 کے انتخابات سے پہلے ن لیگ کے رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال کا بھی حوالہ دے رہے ہیں جب انتخابات سے چند ہفتے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو مختلف مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی جبکہ رہنما مسلم لیگ ن حنیف عباسی کو الیکشن سے چار روز قبل رات گئے ایفیڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں سے پی ٹی آئی کے حامی مایوس ہوں گے، کیونکہ انہیں باور کرایا گیا تھا کہ اس جماعت سے گرفتاریاں نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کوئی ایسی جرات کر سکتا ہے۔نصرت جاوید کے مطابق ملکی تاریخ میں ایس پہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے، 2018 کے انتخابات 25 جولائی کو ہوئے تھے اور مریم نواز اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو 6 جولائی کو سزا سنائی گئی تھی، جس وقت وہ لندن میں تھے۔’۔۔۔13 جولائی کو جب وہ لاہور ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں وہیں سے گرفتار کر لیا گیا تھا، تو وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے، انتخابات سے چند دن قبل سزا سنا دی گئی ہے، کوئی نئی بات نہیں رہی یہ۔‘نصرت جاوید سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اگر اپنی بقاء میں کامیاب ہو جائیں تو انہیں میدان میں واپس اترنے کا موقع ضرور مل جاتا ہے اور پی ٹی آئی کا بھی یہی مستقبل ہوگا۔ ’اگر تو پی ٹی آئی ان مشکلات سے لڑ جاتی ہے تو ضرور میدان میں آئیں گے ورنہ پی ٹی آئی کا بھی وہی حال ہوگا جو ایم کیو ایم کا ہو رہا ہے۔‘
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ عدالتی فیصلے تحریک انصاف پر 2 طرح سے اثر انداز ہو سکتے ہیں، ایک یہ ہے کہ پارٹی کا ووٹر مزید راسخ ہو جائے گا اور پی ٹی آئی کے ووٹرز پارٹی کے لیے مزید ہمدرد ہو جائیں گے۔’جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ لوگ جو تیل کی دھار دیکھ کر ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں وہ پھر یقیناً پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، فی الحال پارٹی کو نقصان ہوگا مگر بعد میں فیصلے بدل بھی سکتے ہیں، ہائی کورٹ ریلیف بھی دے سکتا ہے۔‘
اس حوالے سے صحافی ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ ان عدالتی فیصلوں کے بعد پی ٹی آئی کو 2 ممکنہ صورتحال درپیش ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس یا پھر نا امید ہو جائے گا اور دوسری صورت میں ووٹر ہمدردی کا ووٹ دے گا۔’لیکن دونوں صورتحال میں پی ٹی آئی پر منفی اثرات زیادہ ہوں گے کیونکہ عوام خاص طور پر پنجاب میں یہ تاثر عام ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں شکست کے دہانے پر ہوتی ہے تو ووٹر گھر میں ہی بیٹھ جاتا ہے، وہ انتخابات والے دن باہر نہیں نکلتا۔‘ماجد نظامی کے مطابق ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں جیسا کہ 2018 میں ن لیگ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور 2008 میں ق لیگ کے ووٹروں کے ساتھ ہوا تھا۔ ’اگر پی ٹی آئی کے ووٹرز انتخابات پر غیر معمولی اثرانداز ہوئے تو یہ ملکی سیاسی تاریخ میں ایک معجزہ تصور کیا جائے گا۔‘سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال میں پی ٹی آئی کو صحیح وقت کا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے تحریک چلانے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، ماجد نظامی کا بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی بھی پارٹی کے لیے 6 مہینے یا سال بھر انتظار اور صبر کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’سنہ 2018 کے انتخابات سے پہلے بھی ہم نے دیکھا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی گئی تھی اور ن لیگ کے دیگر رہنماؤں کو بھی۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ہے اور عمران خان یہ ثابت نہیں کر سکے کہ ان کی سائفر کی کاپی کہاں گئی اور یہ کہ انھوں نے اسے سیاسی مقاصد کے لیے کیوں استعمال کیا۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس کا خلاصہ ایسے کر لیں کہ جس نظام کے تحت یا جس طریقے سے اربابِ اختیار کی جانب سے انھیں اقتدار میں لایا گیا تھا اسی طرح اب انھیں نکالا جا رہا ہے۔‘
عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا تھا ’عمران خان جب بھی کمزور پچ پر آتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ ’عمران خان کی یہ حکمتِ عملی بہت غیر مستحکم ہے ۔’وہ پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی بات کرنے کے لیے تیار تھے اور ان ہی پر تنقید بھی کرتے تھے اور اب بھی انھی سے بات کرنے کی بات کر رہے ہیں، ان کی حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘پی ٹی آئی کے ووٹر ٹرن آؤٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’میرے نزدیک پی ٹی آئی کا ووٹر اس فیصلے کے بعد بددل ہو سکتا ہے اور شاید اب وہ یہ سوچ کر ووٹ دینے نہ نکلیں کہ بانی پی ٹی آئی کو اب دو مقدمات میں سزا ہو چکی ہے اور پی ٹی آئی کا چہرہ عمران خان ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ لوگ ووٹ دینے نہ نکلیں۔‘
