عمران خان کیخلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

چیئرمین تحریک انصاف وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کیخلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ عمران خان کے خلاف ایف آئی آر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کی گئی ہے اور یہ مقدمہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
درج مقدمے میں سرکاری افسران کو دھمکیاں دینے اور کام سے روکنے کی دفعات شامل ہیں، عمران خان نے ایف نائن پارک جلسے میں ایڈیشنل سیشن جج اورپولیس افسران کوڈرایا دھکمایا اور ان کی تقریر کا مقصد پولیس حکام اورعدلیہ کو دہشت زدہ کرنا تھا۔
مقدمہ کے متن کے مطابق عمران خان کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کا مقصد پولیس افسران اور عدلیہ کو قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے سے روکنا تھا۔
دریں اثنا عمران خان پر اداروں کیخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر مقدمہ کیلئے اسلام آباد کے علاقے جی الیون ٹو کے رہائشی ضیاء الرحمن ایڈووکیٹ نے تھانہ رمنا میں درخواست دیدی، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ملزم عمران احمد خان نیازی فوج، عدلیہ اور پولیس افسران کیخلاف عوام کو بغاوت پر اکسا رہا ہے جبکہ پبلک پریشر کرکے اپنی پارٹی اور پارٹی کارکن کے حق میں فیصلے کروانا چاہتا ہے۔
درخواست کے مطابق عمران خان نےآئی جی ، ڈی آئی جی اور ملزم شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ صاحبہ کو دھمکی دی کہ آپکے خلاف کیس کروں گا، کسی بھی معزز جج کو دھمکی دینا یا کام سے روکنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے،عمران نیازی کی تقریر سے عدلیہ اور بار دونوں کے وقار و جذبات کوٹھیس پہنچ رہی ہے، اس لیے ملزم عمران نیازی کو گرفتار کیا جائے۔
عمران خان کے لانگ مارچ کی کامیابی کا کتنا امکان ہے؟
اس حوالے سے ایس ایچ او رمنا شاہد زمان کا کہنا ہے کہ درخواست پر فی الحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تقریر ایف نائن پارک میں ہوئی وقوعہ تھانہ مارگلہ کا بنتا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کی ریکارڈ کی ہوئی تقریر نشر کرسکتے ہیں تاہم براہ راست تقریر اور خطاب نشر کرنے پر پابندی ہے۔
پیمرا اعلامیے کے مطابق عمران خان کی تقریر پر پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت پابندی ہوگی۔ پیمرا ترجمان نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی تقاریر میں ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔
