عمران خان کی ممکنہ ملٹری ٹرائل روکنے کی درخواست نمٹا دی گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنے کی درخواست نمٹا دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی ممکنہ ملٹری حراست اور ٹرائل روکنےکی درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کےبیان پر درخواست نمٹا دی گئی۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نےعدالت کو بتایا کہ عمران خان ی کے ملٹری ٹرائل کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا،ایسا کوئی فیصلہ ہواتو قانونی طریقہ کار اپنایاجائے گا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےکہا کہ ملٹری ٹرائل کافیصلہ ہوا تو پہلے سول مجسٹریٹ کےپاس درخواست جائےگی۔جس کےبعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست نمٹادی۔

یاد رہے کہ 12 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی ملٹری ٹرائل کےخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت سےجواب طلب کرلیاتھا۔

5 ستمبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس سوال پرکہ فیض حمید اور ان کے کورٹ مارشل کی کارروائی آگےبڑھنے کےدوران پی ٹی آئی کی جانب سے خدشات کا اظہار کیاجا رہا ہے کہ عمران خان کو فوجی تحویل میں لیا ج سکتا ہے،یا ان کے خلاف فوجی ایکٹ تحت کارروائی ہوسکتی ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا تھا کہ یہ ایک زیر سماعت معاملہ ہےاور آپ کا سوال مفروضوں پرمبنی ہے لیکن میں آپ کو یہ ضرور کہوں گاکہ فوجی قانون کےمطابق کوئی بھی شخص،اگر کسی فرد یا افراد کو جو آرمی ایکٹ کےتابع ہو، ان کو ذاتی یا سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرےاور اس کےثبوت اور شواہد موجود ہوں تو قانون اپنا راستہ خود بنالےگا۔

3 ستمبر کو عمران خان نے 9 مئی کےمقدمات میں ملٹری کورٹ ٹرائل کےلیے ممکنہ طور پر فوجی تحویل میں دیےجانے کےخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سےرجوع کرلیاتھا۔

عمران خان نےوکیل عزیر کرامت بھنڈاری کےذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی،درخواست میں سیکریٹری قانون ، سیکریٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایاگیاتھا۔ان کےعلاوہ آئی جی اسلام آباد،آئی جی پنجاب،ڈی جی ایف آئی اے،آئی جی جیل خانہ جات بھی درخواست میں فریق تھے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھےکہ عمران خان کو فوجی تحویل میں دینےسے روکاجائے اور یقینی بنایاجائےکہ بانی پی ٹی آئی سویلین عدالتوں اور سویلین تحویل میں ہی رہیں۔

19 اگست کو عمران خان نے کہا تھاکہ فیض حمید کاسارا ڈراما مجھے ملٹری کورٹ لےجانے کےلیے کیا جارہاہے، جنرل فیض کو میرےخلاف وعدہ معاف گواہ بنانےکی کوشش کی جارہی ہے۔ان کاکہنا تھاکہ ان سب کومعلوم ہےمیرے خلاف باقی سارےکیسز فارغ ہوچکےہیں،یہ اس لیےمجھے اب ملٹری کورٹس کی طرف لےجانا چاہتےہیں، یہ جنرل فیض سےکچھ نہ کچھ اگلوانا چاہتےہیں۔

الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر  پی ٹی آئی کے 38 ایم این ایز کا جلد اعلان کرے : بیرسٹر گوہر

Back to top button