فیصلے کے بعد عمران کی نااہلی اور PTI پر پابندی کا امکان

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی روشنی میں نہ صرف عمران خان آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ ان کی جماعت کو غیر ملکی فنڈنگ وصول کرنے کے الزام میں آرٹیکل 27 کے تحت کالعدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کو اقامہ چھپانے پر نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے تو عمران خان کو بھی جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے اور غیر ملکی فنڈنگ وصول کرنے پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 ایف کے تحت الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے اپنے فیصلے کے مطابق اب سابق وزیراعظم جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے کی بنا پر صادق اور امین نہیں رہے، اس کے علاوہ تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینے کے لئے آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر سکتی ہے جس کی سماعت صرف فل کورٹ ہی کر سکتی ہے لہٰذا عمران کافی مشکل میں گھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
2 اگست کو الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ تحریک انصاف پر عائد ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرنے کا الزام ثابت ہو گیا ہے، کمیشن کی جانب سے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 20 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سنایا۔
بینچ نے کہا کہ یہ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ ملی اور پارٹی نے ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی اور 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے 8 پارٹی اکاؤنٹس کی ملکیت ظاہر کی جبکہ 13 اکاؤنٹس کو پوشیدہ رکھا، فیصلے میں کہا گیا کہ اسکا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط بیانی کی اور جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا چنانچہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا

قومی اسمبلی کی 40 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ

ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ پارٹی کو ملنے والے فنڈز کیوں نہ ضبط کر لیے جائیں۔
الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بات اب ثابت ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
فیصلے میں پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ لمیٹیڈ برطانیہ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی اور کہا گیا کہ تحریک انصاف نے دانستہ طور پر برطانیہ کی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، عطیے کے نام پر ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ یو ایس آئی اور ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی اب ممنوعہ ثابت ہوگئی ہے۔ فیصلے میں بھارتی شہری رومیتا سیٹھی سمیت کئی غیر ملکی شہریوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دے دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تحریک انصاف نے اپنے صرف 8 بینک اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 13 اکاؤنٹس پوشیدہ رکھے، یہ 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آ چکے ہیں لیکن تحریک انصاف اب تک انکا ریکارڈ نہیں دے سکی، اسکے علاوہ پی ٹی آئی کی قیادت نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران نے الیکشن کمیشن کے پاس 2008 سے 2013 تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے، اسکے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے دستخط سے جمع کروائے بیان حلفی بھی جھوٹے ثابت ہو گے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں غلط فارم ون جمع کروائے اور اپنی جماعت کے اکاؤنٹس چھپائے، جبکہ بینک اکاؤنٹس چھپانا آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے جس پر متعلقہ سیاسی جماعت کالعدم بھی قرار دی جا سکتی ہے۔
پارٹی کو وصول ہونے والے فنڈز ممنوعہ ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ بتایا جائے کہ پی ٹی آئی کو ملنے والے ممنوعہ فنڈز کیوں نہ ضبط کر لیے جائیں۔ ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق اقدامات کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے، فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھی بھجوانے کی ہدایت کر دی گئی ہے تا کہ وہ مزید قانونی کارروائی کر سکے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران اور ان کی جماعت کا سیاسی مستقبل تاریک کر سکتا ہے کیونکہ آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نہیں صرف خان صاحب نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ آرٹیکل 17 کے تحت ان کی جماعت کالعدم بھی قرار دی جاسکتی ہے۔

Back to top button