بھارتی اپوزیشن لیڈرراہول گاندھی سمیت اہم رہنماگرفتار،چندگھنٹوں بعدرہا

بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی،پریانکاگاندھی سمیت  دیگررہنماؤں کودہلی پولیس نے حراست میں لیا تھا تاہم چند ہی گھنٹوں بعد انہیں رہا کردیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا وفد مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کر رہا تھا۔

پولیس نے کانگریس جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادیو سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا۔

میڈیا سے گفتگو میں راہول گاندھی نے بتایا کہ جیسے ہی انڈیا الائنس کے ارکان الیکشن کمیشن پہنچے، پولیس نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔ ان کے مطابق ووٹ چوری کا معاملہ اب پوری قوم کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ یہ محض سیاست نہیں بلکہ جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ بھارتی آئین ایک فرد، ایک ووٹ کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے شفاف ووٹر لسٹ اور عوام کے جمہوری حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل راہول گاندھی نے بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی پر عام انتخابات میں ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ دھاندلی کے ذریعے ڈپلیکیٹ ووٹر آئی ڈیز بنائی گئیں، جعلی پتوں کا اندراج کیا گیا اور بعض حلقوں میں جعلی تصاویر استعمال ہوئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کم از کم 100 نشستوں پر انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کی گئی اور اگر یہ جعل سازی نہ ہوتی تو نریندر مودی آج وزیراعظم نہ ہوتے۔ راہول گاندھی کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ رویہ آئین سے غداری کے مترادف ہے اور وہ اس مبینہ دھاندلی کے خلاف قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر بھرپور کارروائی کریں گے۔

Back to top button