انڈیا کی آبی جارحیت نے آدھا پاکستانی پنجاب پانی میں ڈبو دیا

بھارتی آبی جارحیت کے بعد وسطی اور جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع تباہ کن سیلاب کی زد میں ہیں۔ انڈیا کی جانب سے ریلے کی شکل میں پانی چھوڑے جانے کے بعد سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، سرگودھا، لاہور اور قصورسمیت وسطی اور جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع زیر آب آ چکے ہیں۔ سیلابی پانی کی وجہ سے جہاں کھیت کھلیان ڈوب گئے ہیں وہیں متعدد دیہات بھی اجڑ گئے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہونے کے بعد کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ ناقدین کے مطابق پنجاب میں سیلابی صورتحال صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ اس کے پیچھے مودی سرکار کی کارستانیاں پنہاں ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے مزید چیلنجز کھڑے کر دئیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھارت کئی دہائیوں سے آبی وسائل کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے باوجود، وقتاً فوقتاً دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے بہاؤ میں تبدیلی بھارت کی "واٹر وار فیئر” حکمت عملی کی عکاس ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ماننے سے انکار کے بعد اچانک دریاؤں میں پانی چھوڑنا کا بھارتی اقدام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا براہِ راست نقصان پاکستان کے غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام جو پہلے ہی غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں، اب اس آبی جارحیت کی وجہ سے مزید بدحالی کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پانی کو پاکستان کے خلاف دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب جبکہ پاکستان پہلے ہی معاشی بحران کی زد میں ہے، ایسے میں آبی جارحیت کا مظاہرہ کر کے بھارت نے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، پنجاب میں سیلابی صورتحال صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ تجزیہ کاورں کے بقول پاکستان کو اس معاملے کو صرف داخلی مسئلہ سمجھنے کی بجائے اس صورتحال کو عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے اور عالمی برادری کو باور کروانا چاہیے کہ بھارت کی طرف سے بار بار پانی چھوڑنے یا روکنے کے اقدامات عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں آبی ذخائر کی کمی اور ناقص انفراسٹرکچر نے بھی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ اگر پاکستان میں ڈیمز اور ریزروائرز موجود ہوتے تو یہ پانی زرعی اور توانائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، لیکن منصوبہ بندی کی کمی اور سیاسی غفلت کے باعث پانی جیسا قیمتی وسیلہ تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ مبصرین کے بقول بھارتی آبی جارحیت اس بات کی غماز ہے کہ پانی مستقبل میں خطے کی سب سے بڑی جنگ کی وجہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر بین الاقوامی فورمز پر آواز بلند کرنی چاہیے، سفارتی دباؤ بڑھانا چاہیے اور سب سے بڑھ کر اپنے آبی ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ورنہ ہر سال آنے والا سیلاب ایسے ہی عوامی املاک اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرتا رہے گا۔

دوسری جانب پنجاب کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورت حال کے دوران اونچے اور درمیانے درجے کے سیلاب سمیت کئی ایسی اصطلاحات کا استعمال ہو رہا ہے جو عام فہم نہیں۔ عوام ایک دوسرے سے پوچھتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ اونچے اور درمیانے درجے کے سیلاب کا تعین کیسے کیا جاتا ہے اور کیوسک سے کیا مراد ہے؟ماہرین کے مطابق کیوسک پانی کے بہاؤ کی مقدار ناپنے کا پیمانہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ سے ایک سیکنڈ میں ایک کیوبک فٹ یا 28 لیٹر پانی گزرے تو پانی کی وہ مقدار ایک کیوسک ہو گی۔سیلاب کی صورتحال میں دریاؤں سے ہزاروں کیوسک پانی گزرتا ہے۔ دریائے راوی بدھ کے دن جب جسر کے مقام پر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داخل ہوا تو اس وقت اس میں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 29 ہزار کیوسک بتایا گیا تھا۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن پنجاب کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک لاکھ کیوسک ریلے کا مطلب یہ ہے کہ دریا کے اُس مخصوص مقام سے ایک سکینڈ میں 283170 لیٹر پانی گزر رہا تھا۔

صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے لیکن اس بات کا تعین کیسے ہوتا ہے کہ کسی دریا میں اس وقت درمیانے، اونچے یا انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے؟اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر دریا میں سیلاب کا تعین دریا کی گنجائش، اس کی چوڑائی کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے سابق چیف انجینیئر ملک شبیر احمد نے بتایا کہ دریائے راوی اور ستلج چھوٹے دریا ہیں اور عمومًا ان میں پانی کم ہوتا ہے۔تاہم بدھ کے دن ان دریاؤں سے دو سے ڈھائی لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا تھا جو ان دریاؤں کی گنجائش سے بہت زیادہ تھا اور اسی لیے راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تھا۔  دریائے چناب میں راوی کے مقابلے میں بہت زیادہ پانی تھا۔ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد ساڑھے سات لاکھ کیوسک سے بھی زیادہ تھی اور وہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب بتایا گیا تھا۔دوسری جانب دریائے سندھ میں چشمہ کے ہیڈ ورکس پر اسی وقت دو لاکھ 84 ہزار کیوسک پانی گزر رہا تھا لیکن دریائے سندھ میں اتنے پانی کے باوجود بھی دریا معمول سے بھی کم سطح پر تھا اور وہاں سیلابی صورتحال نہیں بتائی گئی۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی دریا پر پانی کی نگرانی کرنے کے لیے ہیڈ ورکس یا بیراج بنائے جاتے ہیں جن کا مقصد دریا میں پانی کے بہاؤ کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ دریا میں پانی کی سطح اس حد تک رہے کہ پانی نہروں میں جا سکے۔ مختلف دریاؤں پر بنائے گئے بیراج پانی کے بہاؤ کے مطابق ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور ہر بیراج سے پانی گزرنے کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر دریا میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہو اور بیراج کے تمام دروازے کھولنے کے باوجود بھی پانی کا بہاؤ کم نہ ہو رہا ہو تو بیراج کو محفوظ بنانے کے لیے دریا یا اُن سے نکلنے والی نہروں کی پشتوں پر شگاف ڈالا جاتا ہے۔

Back to top button