پنجاب کےدریاؤں نےتباہی مچادی،کئی دیہات زیرآب،12افرادجاں بحق

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کےبعدپنجاب کے دریاؤں کی بپھری لہروں نے تباہی مچادی،کئی دیہات زیرآب ،ہزاروں ایکڑ پرکھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،12افراد جان کی بازی ہار گئے۔

دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جہاں بہاؤ ایک لاکھ 83 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج دوپہر تک یہ بہاؤ دو لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ راوی کی کل گنجائش ڈھائی لاکھ کیوسک ہے۔ راوی سائفن پر بھی ایک لاکھ 92 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی کے ذریعے شاہدرہ میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا اور حکام سے بریفنگ لی۔ اس موقع پر ریسکیو آپریشن تیز کرنے کے احکامات دیے گئے، مزید اہلکار اور کشتیاں طلب کر لی گئیں۔

کمشنر لاہور کے مطابق راوی سائفن پر پانی کا بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے جبکہ شاہدرہ پر بھی صورتحال جلد قابو میں آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راوی بیڈ سے انخلا مکمل ہو گیا ہے اور قریبی آبادیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں سیلابی صورت حال سنگین ہے، عوام دریا کناروں پر جانے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔ ان کے مطابق اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ادھر دریائے ستلج میں بہاولپور کے قریب بستی یوسف والا اور احمد والا کے عارضی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں ڈوب گئیں۔ وہاڑی میں لڈن کے قریب بھی حفاظتی بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے۔

دریائے چناب میں کوٹ مومن کی حدود میں 6 لاکھ کیوسک کا ریلا داخل ہو چکا ہے، جبکہ آج 10 لاکھ کیوسک کے گزرنے کا خدشہ ہے۔ پانی کھیتوں اور قریبی آبادیوں میں داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔

ہیڈ بلوکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، ریسکیو حکام کے مطابق پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے اور اب تک 30 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

نوشہرو فیروز میں بھی دریائے سندھ کے قریب بند ٹوٹنے سے کچے کے علاقے میں کپاس، دھان، تل، جوار سمیت دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ 5 دیہات بھی پانی میں گھر گئے۔

Back to top button