5روزکےدوران ریاض ایئرپورٹ پرحملوں میں17افرادکےجاں بحق ہونےکادعویٰ

عرب اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے دعویٰ کیاہے کہ 7سے11اکتوبرکے درمیان ریاض ائیرپورٹ پر حوثی حملوں میں17 افراد جاں بحق اور 333 زخمی ہوئے۔

عرب اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثی باغیوں کے حملے علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے درجنوں ائیرپورٹس، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کی ہیں۔

عرب اتحاد کی جوابی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ اب تک اتحادی افواج نے پہاڑی علاقوں میں حوثی ملیشیا کے 127 ڈپو کامیابی سے تباہ کر دیے ہیں۔

ترکی المالکی نے خصوصی طور پر ریاض ائیرپورٹ پر ہونے والے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ، ’کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر دہشت گردانہ حملہ 10 ڈرونز، میزائلوں اور دیگر پروجیکٹائلز کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا تھا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ یکم اکتوبر سے اب تک 20 حملوں کا نشانہ بن چکا ہے‘۔

پریس کانفرنس میں جاری کیے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیانی عرصے میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہونے والے حوثی حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 17 افراد ہلاک اور 333 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

 

Back to top button