ٹرمپ کے امن معاہدے اور مذاکرات کیلئے ایران کے ترلے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، کیونکہ موجودہ حالات میں سفارتی حل ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔

اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطے کسی مثبت پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی تعطل سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مختلف اہم معاملات پر گفتگو جاری ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا یا ممکنہ معاہدے کی نوعیت کیا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ مذاکرات کس سمت جائیں گے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطے برقرار ہیں اور بات چیت کا عمل جاری ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button