بیروت حملے کے بعد ایران کا بڑا جوابی وار، اسرائیل پر میزائل حملے

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغ دیے، جس کے بعد اسرائیل نے بھی ایران کے مختلف علاقوں میں جوابی فضائی کارروائی شروع کر دی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے متعدد میزائل فائر کیے گئے، جن کے باعث حیفا اور شمالی اسرائیل کے دیگر علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کیلئے متحرک رہا جبکہ ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے میزائل داغ چکا ہے اور اب اسے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج مکمل طور پر الرٹ ہے۔ٹرمپ نے بیروت پر اسرائیلی حملوں پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ کریں گے اور مزید عسکری کارروائی سے گریز کا مشورہ دیں گے۔
تاہم امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اسرائیل نے ایران میں جوابی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی اور وسطی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا اور مقامی ذرائع نے تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملہ ایک سنگین غلطی تھی اور اسرائیلی افواج لبنان سمیت دیگر محاذوں پر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
دوسری جانب عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی شہر طبریہ کے قریب ایک ایرانی میزائل اپنے ہدف سے ٹکرایا، تاہم اسرائیلی حکام اور مقامی میڈیا کے مطابق بیشتر یا تمام میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیے گئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل اور سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوجی پوزیشنوں پر ڈرونز اور میزائل حملے کیے ہیں۔
صورتحال کے پیش نظر ایران نے مغربی علاقوں کی فضائی حدود غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی ہیں، جبکہ عراق اور شام نے بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بعض فضائی راستے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ردعمل مزید سخت اور وسیع ہو سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
