دنیا کی طاقت کا توازن تیزی سے بےقابوہورہاہے،انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کاکہناہے کہ دنیا کی طاقت کا توازن تیزی سے بےقابوہورہاہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ دنیا میں بڑھتے تنازعات، عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ نے عالمی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا کی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، نئی ریاستیں معاشی، سیاسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں طاقت حاصل کر رہی ہیں جبکہ بڑی کمپنیوں اور افراد کے ہاتھوں بھی اختیار منتقل ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے افتتاحیہ خطاب میں مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں سے مشینوں کی جانب طاقت کی منتقلی کی ایک اور بڑی مثال ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ دنیا میں موجود ادارے اب بھی ایک ایسے دور کی طاقت اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں جو گزر چکا ہے اس لیے عالمی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
انتونیو گوتریس نے جنگ، عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کو دنیا کے مستقبل کے لیے چار بڑے امتحانات قرار دیا۔
غزہ کے حوالے سے انھوں نے عالمی عدالت انصاف کے احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری دو ریاستی حل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
انتونیو گوتریس نے یوکرین پر روسی حملے کو بھی اقوام متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور سلامتی کونسل میں مستقل افریقی نمائندگی نہ ہونے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔
