کیا عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار اور تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے کیپٹن ریٹائیرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت کا مسئلہ انتقام پر مبنی اس سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جسے ہر فوجی اور سویلین حکمران بشمول عمران خان نے فروغ دیا۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کا کہنا ہے عمران خان کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ میڈیکل رپورٹ کے بعد نہ صرف عدالتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے رویے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ انکے مطابق اس صورت حال کو صرف ایک طبی مسئلہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیئے۔

 

ایاز امیر کے مطابق عمران خان کئی ماہ سے جیل حکام کو آگاہ کر رہے تھے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح فرق محسوس ہو رہا ہے۔ تاہم ابتدائی طور پر انہیں عام نوعیت کے آئی ڈراپس فراہم کیے گئے اور کسی ماہر امراضِ چشم کو طلب نہیں کیا گیا۔ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب سپریم کورٹ نے وکیل سلمان صفدر کو “فرینڈ آف دی کورٹ” کے طور پر جیل میں ملاقات کی اجازت دی، جس کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں بینائی سے متعلق خدشات کی تفصیلات سامنے آئیں۔

ایاز امیر کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ سابق وزیراعظم کی طبی شکایات کو بروقت سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قیدی رہنماؤں کے ساتھ مختلف ادوار میں مختلف رویے اختیار کیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہی صورتحال کسی اور بڑے سیاسی نام، مثلاً نواز شریف، کے ساتھ پیش آتی تو ممکن ہے فوری میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر بیرون ملک علاج کی راہ ہموار کی جاتی۔ تاہم ان کے بقول عمران خان کے معاملے میں ریاستی سطح پر سختی کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔

 

ایاز امیر اس سختی کی وجہ کو سیاسی پس منظر سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے پنجاب کی روایتی سیاسی اجارہ داری کو چیلنج کیا اور طاقت کے مراکز پر کھل کر تنقید کی، جس کے باعث وہ مقتدر حلقوں اور روایتی سیاسی قیادت دونوں کی ناراضی کا باعث بنے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوامل آج ان کے خلاف سخت رویے کی بنیاد بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عمران خان کی قید نے سیاسی درجہ حرارت کم نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ 2024ء کے انتخابات کے بعد بھی، جن میں مبینہ طور پر “فارم 47” کے تنازعے نے جنم لیا، ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہو سکا۔ انکے بقول اگرچہ حکومت کو عالمی سطح پر کچھ سفارتی تقویت ملی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مثبت بیانات بھی سامنے آئے، تاہم اندرونی سیاسی بے چینی برقرار ہے۔

 

ایاز امیر نے اپنے تجزیے میں بین الاقوامی حوالہ بھی دیا اور متنازع امریکی شخصیت جیفری ایپسٹین کی ایک ای میل کا ذکر کیا، جس میں عمران کو خطے کی سیاست کے تناظر میں “خطرناک” قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا مؤقف ہے کہ عمران کو بعض بین الاقوامی حلقوں میں بھی غیر روایتی اور غیر متوقع سیاسی کردار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

 

انا کہنا ہے کہ قانونی ماہرین کے مطابق  کسی سزا یافتہ قیدی کو بھی مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لہٰذا میڈیکل بورڈ کی تشکیل یا ماہر ڈاکٹرز تک رسائی کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔ عمران خان کے حامی اس پیش رفت کو جزوی ریلیف قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کو ان کے ذاتی ڈاکٹرز اور ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔

سہیل وڑائچ نے عمران کی فوج سے ڈیل کا امکان مسترد کیوں کر دیا؟

سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت کا معاملہ اپنے سیاسی بیانیے کا  حصہ بنا لیا ہے۔ تحریک انصاف پہلے ہی اسے انسانی حقوق اور سیاسی انتقام کے تناظر میں پیش کر رہی ہے، جبکہ حکومت اسے معمول کا انتظامی معاملہ قرار دے سکتی ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ اڈیالہ جیل سے اٹھنے والی اس طبی شکایت نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اس کے اثرات آئندہ عدالتی اور سیاسی پیش رفت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

Back to top button