کیا ریاست کی دوغلی پالیسی بڑھتی دہشت گردی کی ذمہ دار ہے؟

 

 

 

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے اور بلوچستان کے 12 شہروں میں ایک ہی روز مربوط دہشت گردی نے ملکی سلامتی کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔ دہشت گردی کے اس ناسور کے پھیلنے کی ایک وجہ ریاستی اداروں کی دوغلی پالیسی بھی ہے جو ایک جانب دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب کچھ انتہا پسند گروہوں کی پشت پناہی بھی کر رہے ہیں۔

 

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی یہ نئی لہر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاست اور سیاسی قیادت محض وقتی ردعمل کے بجائے ایک واضح، مربوط اور غیر مبہم حکمت عملی اختیار کرے۔

 

سرکاری رپورٹس کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 34 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم 1,034 افراد جاں بحق ہوئے، جو اموات میں 21 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ اس سلسلے کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس نے ملک گیر تشویش کو جنم دیا۔ 2026 بھی مختلف نہیں۔ صرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کم از کم 80 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی تنصیبات پر حملے اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بیک وقت کارروائیاں شامل ہیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت اب زیادہ منظم، مالی طور پر مستحکم اور جغرافیائی طور پر وسیع ہو چکی ہے۔

 

پاکستانی سیکیورٹی فورسز مسلسل انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کر رہی ہیں، خصوصاً ان گروہوں کے خلاف جنہیں ریاست فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے ناموں سے موسوم کرتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ نیٹ ورکس نہ صرف منظم ہیں بلکہ انہیں بیرونی سرپرستی بھی حاصل ہے، جس کے باعث خطرات کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

 

حال ہی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں حالیہ حملوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دہشت گردی میں اضافے کو ایک سنجیدہ چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے سابق فوجی حکمرانوں جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی افغان جنگوں میں شمولیت کو موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا اور کہا کہ ماضی کے فیصلوں کا خمیازہ آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں ملوث ہے اور افغان سرزمین کو استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مبصرین کے مطابق  پاکستانی ریاست کی موجودہ انسدادِ دہشت گردی پالیسی زیادہ تر ردعمل پر مبنی دکھائی دیتی ہے، جبکہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ پیشگی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی کو ترجیح دی جائے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور یکساں عمل درآمد نہ ہونے کے باعث شدت پسند عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔ کالعدم تنظیموں سے وابستہ بعض افراد کے نام چوتھے شیڈول سے نکالے جانے کے بعد وہ دوبارہ سرگرم ہوئے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا ملی۔ ماضی میں “اچھے” اور “برے” طالبان کی تقسیم نے بھی پالیسی میں ابہام پیدا کیا۔

 

بریگیڈ 313 کے سربراہ کمانڈر الیاس کشمیری کی مثال اس تناظر میں اہم ہے، جو ابتدا میں پاکستانی ریاست کے لیے قابل قبول سمجھے جاتے رہے کیونکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جہاد میں مصروف تھے، لیکن بعد ازاں وہ تب ریاست ہی کے لیے خطرہ بن گئے جب انہوں نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کر لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں وزیرستان میں سیبوں کے ایک باغ میں ڈرون حملے میں پار کر دیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے کی راہ میں سیاسی مصلحتیں بھی آڑے آتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 2021 میں بعض شدت پسند عناصر کی رہائی اور افغانستان سے خیبر پختون خواہ میں واپسی کی اجازت دی، جبکہ تحریک لبیک پاکستان پر عائد پابندی بھی ختم کی گئی۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) پر ماضی میں بعض فرقہ وارانہ گروہوں سے روابط کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی انتخابی سیاست میں کالعدم تنظیموں سے اتحاد کیا، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے بعض دھڑوں کی افغان طالبان سے نظریاتی قربت کسی سے پوشیدہ نہیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دہشت گردی کے اس چیلنج سے نمٹنا ہے تو ریاست کو ہر قسم کی عسکریت پسندی کے خلاف یکساں اور غیر امتیازی پالیسی اپنانا ہوگی۔ نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل درآمد، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظریاتی اور پیشہ ورانہ سکریننگ، تفتیشی نظام میں جدید فرانزک سہولیات کا فروغ، اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدت پسند عناصر سے واضح لاتعلقی ایسے اقدامات ہیں جو فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اسی طرح پارلیمان کو محض تقاریر تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور متحد کردار ادا کرنا ہوگا۔

افغان طالبان کے بعد القاعدہ بھی ٹی ٹی پی کی سرپرست بن گئی

معروف تجزیہ کار سہیل کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی۔ جب تک ریاستی پالیسی میں ابہام باقی رہے گا اور سیاسی قیادت واضح سمت کا تعین نہیں کرے گی، شدت پسند عناصر خلا سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی مصلحت یا ابہام کے بجائے ایک دوٹوک، مربوط اور دیرپا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

 

Back to top button