جماعت اسلامی نے حکومت کی مذاکرات کی پیش کش قبول کر لی

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نےحکومت کی جانب سےمذاکرات کی پیش کش کو قبول کرلیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ حکومتی وفد کےہمراہ جماعت اسلامی کے دھرنے کےمقام پر پہنچے جہاں ان کے ساتھ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔
حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی ایک بار پھر پیش کش
حکومتی وفد نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کومذاکرات کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔حکومتی وفد سے مذکرات کےلیے امیر جماعت اسلامی نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دےدی ہے جس میں لیاقت بلوچ، امیرالعظیم، فراست شاہ اور نصراللہ رندھاوا شامل ہیں۔جماعت اسلامی کےقائدین سے ملاقات کےبعد حکومتی وفد واپس روانہ ہوگیا۔
قبل ازیں دھرنے کے دوسرے روز لیاقت آباد میں شرکا سے خطاب کرتےہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نےحکومت کو خبردار کیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو دھرنے کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ان کا کہناتھاکہ آئی پی پیزعوام کا خون نچوڑ رہی ہیں، کئی آئی پی پیزاپنی لاگت سے 10گنا زیادہ کماچکیں، کئی آئی پی پیز چل ہی نہیں رہیں جب کہ کسی کو25، کسی کو28، کسی کو 10ارب مل رہے ہیں۔
