جسٹس بابرستار،جسٹس سرداراعجازسےقانونی امور کی ذمہ داری واپس لے لی گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان سے عدالت کےقانونی امور کی ذمہ داری واپس لےلی گئی اوران کی جگہ ایڈیشنل جج جسٹس راجاانعام کوقانونی امور کاجج مقرر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سےڈپٹی رجسٹرار نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق جسٹس راجا انعام امین اسلام آباد ہائی کورٹ کےقانونی ونگ کے امور کو سپروائز کریں گے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہےکہ جسٹس راجاانعام امین منہاس کوعوامی مفاد میں فوری طور پرقانونی امور کاجج مقرر کیاجاتا ہے۔
2022میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق کو قانونی ونگ کو سپروائز کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ7 فروری2025 کو اسلام آبادہائیکورٹ کےجسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کو خط لکھ کر کہا تھا کہ9 ویں نمبر کے جج جسٹس خادم سومرو کو کمیٹی میں شامل نہیں کر سکتےتھے۔انہوں نے6 صفحات پر لکھے گئے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے ہائی کورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی تبدیلی کو بھی غیر قانونی کہہ دیا تھا۔
جسٹس بابر ستار نےخط میں لکھاتھا کہ سینیارٹی لسٹ اورایڈمنسٹریشن کمیٹی کے نوٹی فکیشن واپس لیے جائیں، جسٹس بابر ستار نے سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن فائل کرنے کا ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹی فکیشن جاری کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے، بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ جج کے حلف اٹھائے ٹرانسفر ججز کو کمیٹی میں رکھنا غیر قانونی ہے۔
